اپنا دیشتازہ ترین خبریں

تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کا معاملہ، سماعت ملتوی

تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کے معاملہ میں آج چیف جسٹس کی سربراہی والی تین رکنی بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آنے والی تھی لیکن آج پھر چیف جسٹس نے معاملے کی سماعت ملتوی کر دی اور اس کی نئی تاریخ 8 اکتوبر مقرر کی ہے۔ اس سے قبل کی سماعت پر بھی چیف جسٹس آف انڈیا نے بغیر سماعت کیئے معاملے کی سماعت ملتوی کردی تھی۔

نئی دہلی، (یو این آئی)
کروناوائرس کو مرکز نظام الدین سے جوڑ کر مسلمانوں بالخصوص تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں کی شبیہ کو داغدار کرنے اور ہندو اور مسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیا کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی داخل کردہ پٹیشن پر آج چیف جسٹس کی سربراہی والی تین رکنی بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آنے والی تھی لیکن آج پھر چیف جسٹس نے معاملے کی سماعت ملتوی کر دی اور اس کی نئی تاریخ 8 اکتوبر مقرر کی ہے۔

اس سے قبل کی سماعت پر بھی چیف جسٹس آف انڈیا نے بغیر سماعت کیئے معاملے کی سماعت ملتوی کردی تھی۔چیف جسٹس جسٹس اے ایس بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم نے حتمی بحث کے معاملات جس میں جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن بھی شامل تھی پر سماعت کیئے بغیر 8 اکتوبر کو اگلی تاریخ دے دی، حالانکہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے بحث کرنے کے لئے سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول موجود تھے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر گلزار احمد اعظمی پٹیشن میں مدعی بنے ہیں جس میں عدالت کی توجہ ان دیڑھ سو نیوز چینلوں اور اخبارات کی جانب دلائی گئی ہے جس میں انڈیا ٹی وی، زی نیوز، نیشن نیوز، ری پبلک بھارت، ری پبلک ٹی وی، شدرشن نیوز چینل اور بعض دوسرے چینل شامل ہیں جنہوں نے صحافتی اصولوں کو تار تار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ناپاک سازش کی تھی پر کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ جمعیۃ علمائے کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کا موقف رہا ہے کہ سماج میں انتشار و افتراق اور نفرت پھیلانے کے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے خواہ وہ میڈیا ہو یا تنظیم یا کوئی اور ذرائع ابلاغ ہو، اس کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ کیوںکہ اس سے سماج میں نفرت پھیلتی ہے اور معاشرہ مسموم ہو جاتا ہے جس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور دنیا میں ہندوستان کی شبیہہ کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اسی لئے جمعیۃ علمائے ہند نے ہندوستان کی عظمت اور جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لئے تبلیغی جماعت کے خلاف مہم چلانے والے بے لگام میڈیا پر قدغن لگانے کے لئے سپریم کورٹ میں گزشتہ 6 اپریل عرضی دائر کی تھی اور نفرت پھیلانے والے میڈیا کے خلاف جمعیۃ علمائے ہند کی کوشش انصاف کے حصول تک جاری رہے گی۔ کیوںکہ یہ جمعیۃ علمائے ہند یا مسلمان یا تبلیغی جماعت کے حق میں ہی نہیں ہوگا بلکہ پورے ملک کے حق میں بھی بہتر ہوگا۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close