دلی این سی آر

یوگی حکومت میں دلتوں اور برہمنوں کے مسلسل ہو رہے ہیں قتل

ہاترس میں 19 سالہ دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد زبان کاٹ دی گئی: سوربھ بھاردواج

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
اتر پردیش کے ہاترس میں ایک دلت لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کے بعد اس کی زبان کا ٹ دینے پر عام آدمی پارٹی نے یوپی میں بی جے پی کی یوگی حکومت کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکمرانی میں دلتوں اور برہمنوں کے مسلسل قتل ہو رہے ہیں۔ عام آ دمی پارٹی کے سینئر لیڈر سوربھ بھاردواج اور دہلی کابینہ کے وزیر راجندر پال گوتم نے آج پارٹی دفتر میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس یوگی حکومت کو جم کر نشانہ بنایا۔

سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ٹھاکر معاشرے سے آنے والے یوگی آدتیہ ناتھ کی وجہ سے، دلت اور برہمنوں کا یوپی میں رہنا اور بیٹیوں کو گھر سے نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔ دلت معاشرے سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ بچی کے ساتھ چار افراد نے اجتماعی عصمت دری کی اور وہ کچھ بتا نہ سکے اس کیلئے اس کی زبان کاٹ دی گئی۔ لڑکی کو بری طرح سے پیٹا گیا، اس کی ریڑھ کی ہڈی کو بری طرح چوٹ پہنچی ہے، اس کے ہاتھ پاؤں کام کرنے سے قاصر ہیں۔ اس لڑکی کو تشویشناک حالت میں ایمس میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہمارے وزیر راجندر پال گوتم متاثرہ افراد کے لواحقین سے مستقل رابطے میں ہیں۔

سوربھ نے کہاکہ اس وقت یوپی میں امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب حالت میں ہے۔ ہاتراس میں ہی اگست سے لے کر اب تک عصمت دری کے تین واقعات رونما ہوئے ہیں۔ 24 اگست کو ہاترس میں ہی 17 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا تھا۔ 14 اگست کو ہاتراس میں ایک 13 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کر دیا گیا تھا۔ ساتھ میں اس کی زبان بھی کاٹ دی گئی۔

دہلی حکومت میں کابینہ کے وزیر راجندر پال گوتم نے کہاکہ خاتون کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ شرمناک ہے۔ پولیس نے پہلے دفعہ 307 کے تحت مقدمہ درج کرکے ملزمان کو بچانے کی کوشش کی، لیکن معاشرے کے لوگوں کی جانب سے احتجاج کے بعد دباؤ پڑنے پر گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا ہے۔ اب اس خاندان کو قتل کرنے اور گاؤں چھوڑنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ راجندر پال گوتم نے مطالبہ کیاکہ دھمکی دینے والوں کے خلاف فوری مقدمہ درج کیا جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ نیز متاثرہ کے اہل خانہ کو اتر پردیش حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دیا جائے۔

سوربھ بھاردواج نے کہاکہ یوپی میں ٹھاکر معاشرے کے لوگوں کو بڑی پوسٹوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ اس سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ ٹھاکر معاشرے سے ہیں اور انہیں ٹھاکروں سے پیار ہے۔ لیکن یوپی میں دوسری ذاتوں کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر برہمن اور دلت معاشرے کے لوگوں کو یوپی میں رہنا مشکل ہو گیا ہے۔ بیٹیوں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ لکھنؤ میں ایک شیو مندر کے پجاری کی اہلیہ کو چندہ چوری کرنے کے لئے کل قتل کیا گیا۔ اس سے پہلے لکھیم پور میں زیادتی کی تین بڑے معاملے سامنے آئے، ایک تین سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کیا گیا تھا، 17 سالہ بچی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کئے جانے سے کچھ دن پہلے، 13 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اور اسے قتل کردیا گیا تھا۔ یوپی میں ٹھاکر معاشرے کو ترجیح دینے کیلئے دیگر معاشروں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

سوربھ بھاردواج نے کہاکہ ہمیں یوپی کے 39 اضلاع کے بارے میں معلومات ملی ہیں، جس میں ٹھاکر سماج کے لوگ بڑی پوسٹوں پر بیٹھے ہیں۔ جیسے ڈی ایم، آئی جی، ایس ایس پی، ایس پی، کمشنر اور دیگر اہم عہدوں پر ٹھاکر سماج کے لوگ ہیں۔ یوپی میں ٹھاکر سماج صرف 6 فیصد ہے۔ انہوں نے 39 اضلاع کے سینئر افسران کے نام بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ان اضلاع میں ٹھاکر سماج کے 46 اعلی عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ میں یوگی جی سے جاننا چاہتا ہوں کہ یوپی میں برہمن، دلت، موریہ، والمیکی، جاٹوا، یادو اور دیگر معاشرے بھی موجود ہیں، کیا ان معاشروں کے لوگ افسر نہیں بنتے ہیں، یا وہ یوگی جی کو دکھتے نہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close