تازہ ترین خبریںدلی نامہ

زرعی قانون کے خلاف راجدھانی کی سڑکوں پر کانگریس اور کسان

زرعی قانون کے خلاف دہلی کانگریس کا راجگھاٹ پر کسان مزدور نیائے مارچ ٭ریاستی صدر انل چودھری سمیت سیکڑوں کانگریسی حراست میں ٭پنجاب یوتھ کانگریس نے انڈیا گیٹ پر پھوننکا ٹریکٹر، زرعی قانون کے پتلے کو دی پھانسی

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
پارلیمنٹ میں کسان زرعی بل 2020 کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے زبردست مخالفت کے بعد بھی بل پاس ہونے کے بعد اس پر صدر جمہوریہ کے دستخط ہو جانے کے بعد یہ قانون بن جانے سے ملک بھر سمیت راجدھانی دہلی میں کانگریس اور کسان اس قانون کی مخالف میں سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ زرعی قانون 2020 کی مخالفت میں ملک بھر سمیت آج دہلی کانگریس کی جانب سے جہاں ’کسان مزدور نیائے مارچ‘ نکالا گیا تو وہیں پنجاب یوتھ کانگریس نے انڈیا گیٹ پر ایک ٹریکٹر پھونک دیا اور ذرعی قانون کے پتلے کو پھانسی دی۔

ملک کی راجدھانی دہلی میں کانگریس کی جانب سے ریاستی صدر انل کمار چودھری کی قیادت میں گاندھی سمادھی راج گھاٹ سے زرعی قانون کے خلاف ’کسان مزدور نیائے مارچ‘ نکالا گیا۔ صبح سے ہی راجگھاٹ پر سیکڑوں کی تعداد میں مرد و خواتین کانگریسی لیڈران، عہدیداران اور کارکنان سمیت کسان جمع ہو گئے۔ جس کو دیکھتے ہوئے بڑی تعداد میں پولیس اور پیراملٹری فورس تعینات کر دی گئی تھی۔ زرعی قانون کی مخالفت میں مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مظاہرین راجگھات سے راج نواس کی جانب بڑھ رہے تھے لیکن پولیس نے انہیں راستے میں رو ک لیا اور آگے بڑھنے نہیں دیا۔ لیکن مظاہرین آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے سڑک پر ہی بیٹھ گئے، پولیس نے ریاستی صدر انل کمار چودھری سمیت سیکڑوں مرد و خواتین کانگریسی مظاہرین کو حراست میں لیکر کھاٹو شیام اسٹیڈئم ہری نگر لیجایا گیا۔

اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر کے ساتھ نائب صدور علی مہدی، مدت اگروال، جے کشن، ابھیشیک دت، دہلی مہیلا کانگریس کی صدر امریتا دھون، سینئر لیڈران، سابق ایم ایل اے، کونسلر، ضلعی صدور، بلاک صدور، دیلیگیٹس، یوتھ کانگریس اور دیگر عہداران سمیت بڑی تعداد میں مرد و خواتین کارکنان موجود تھے۔ کانگریس کے ریاستی صدر انل کمار چودھری نے کہاکہ زرعی قانون 2020کسانوں کے مخالف قانون ہے، کانگریس کسان مزدوروں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی۔

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور دیگر لیڈران سمیت دیگر جماعتوں نے پارلیمنٹ میں اس کالے قانون کی مخالفت کی ہے اور اس کی مخالفت اس وقت تک کرتے رہیں گے جب مرکزی بی جے پی حکومت اس کالے قانون کو واپس نہیں لیتی۔ بی جے پی مرکزی حکومت ملک کو گمراہ کر رہی ہے کہ یہ قانون کسانوں کے حق میں ہے جبکہ اس کے برعکس اس سے صرف کسانوں کی بربادی ہے۔ چودھری انل کمار نے کہاکہ کسان ملک کا ’ان داتا‘ ہے جو محنت کرکے اناج پیدا کرتا ہے، کانگریس اس کسان مخالف کو واپس ہونے تک سسند سے سڑک تک احتجاج کرتی رہے گی۔ اس کے ساتھ پورے ملک کا کسان کھڑا ہے۔

وہیں دوسری جانب دہلی کے ہائی الرٹ ایریا انڈیا گیٹ پر بھی زرعی قانون 2020 کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے پنجاب یوتھ کانگریس کے کارکنان نے ایک ٹریکٹر کو آگ لگا دی۔ واقعہ صبح تقریبا ً ساڑھے سات اور آٹھ بجے کے درمیان کا ہے جب زرعی قانون کی مخالفت کر رہے 20-15 افراد ایک ٹرک میں ٹریکٹر لاد کر انڈیا گیٹ لائے اور انہوں نے وہاں سڑک پر اس ٹریکٹر کو آگ لگا کر زرعی قانون واپس کا مطالبہ کرتے ہوئے جم کر نعرے بازی کی۔ ساتھ ہی بھگت سنگھ زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے مظاہرین نے زرعی قانون کے پتلے کا بھی یہاں پھانسی دی۔

اطلاع ملتے ہی فائر کے دو ٹینڈر اور پولیس موقع پر پہنچ گئے اور آگ پر قابو پالیا۔ انڈیا گیٹ جیسے علاقہ میں آتشزدگی کے اس معاملے میں پولیس پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ لوگوں، منجوت سنگھ، رمن دیپ سنگھ، راہل، صاحب اور سومت کو گرفتار کیا ہے اور ایک انووا کار کو بھی ضبط کیا ہے۔ نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر ایش سنگھل نے کہاکہ اس معاملے میں قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close