تازہ ترین خبریںدلی نامہ

کلسٹر بس نے ڈھایا قہر، معصوم سمیت 3 افراد کو کچل کر کیا ہلاک

خاتون سمیت چار لوگ شدید طور پر زخمی، مشتعل لوگوں نے کیا ہنگامہ، پولیس کے خلاف جم کر کی نعرے بازی، بس ڈرائیور فرار، پولس نے کیا معاملہ درج

نئی دہلی (امیر امروہوی)
راجدھانی دہلی میں اکثر حادثے ہوتے رہتے ہیں خاص کر کلسٹر بس کا شکار دہلی کے عوام ہوتے رہتے ہیں یہی کلسٹر بس نا جانے کتنے لوگوں کی جان لے چکی ہے ایسا ہی دل کو دہلانے والا واقعہ گذشتہ شب جمنا پار کے نند نگری علاقے میں پیش آیا، جب ایک کلسٹر بس ٹرک سے ٹکرانے کے بعد بے قابو ہوگئی اور متعدد گاڑیوں کو ٹکر مارتی ہوئی ایک معصوم سمیت تین افراد کو کچل کر ہلاک کردیا جبکہ ایک خاتون سمیت چار لوگ شدید طور پر زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کی شب نند نگری بس ڈپو کے قریب فلائی اور سے نیچے اترتے وقت ایک تیز رفتار کلسٹر بس ٹرک میں ٹکرا گئی جس کی وجہ سے ڈرائیور آپا کھو بیٹھا جو بھی سامنے آیا اس کا کام تمام کرتا ہوا بھاگ نکلا۔جیسے ہی حادثے کا علم مقامی لوگوں کو ہوا وہاں پہنچ کر ہنگامہ شروع کردیا اور پولیس کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔جب پولیس جائے حادثہ پر پہنچی تو اسے بھی مشتعل عوام کا سامنا کرنا پڑا اور پولیس کی کئی گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا۔ کسی طرح ستیش (۵۴)، پشپندر (۵۳) ایک عورت اور ایک اور شخص کو ایمبولینس سے سوامی دیانند اسپتال پہنچایا گیا۔

اس حادثے میں 21 سالہ کرن، 22 سالہ نوجوان رویندر اور 50 سالہ ایک شخص نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کردی گئی تھی حالانکہ اخیر شب تک کشیدگی برقرار رہی اور پولیس کے اعلیٰ افسران لوگو ں کو سمجھانے کی پوری کوشش کر رہے تھے جس کے سبب ہی حالات نارمل ہوسکے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس کو فون کرنے کے بعد بھی پولیس اور ایمبولینس وقت پر نہیں پہنچی جس سے عوام کا غصہ پھوٹ پڑا اور سڑک سے گزرنے والی کئی بسوں کے شیشے توڑ دیئے۔ عوام اس قدر مشتعل تھے کہ موقع سے پولیس کو لاشوں کو اٹھانے کی بھی اجازت نہیں دے رہے تھے لیکن پولیس نے اپنی طاقت کی بنیاد پر لاشوں کو ایمبولینس سے مورچری بھیج دیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی افواہ پھیل گئی کہ چھ سے سات افراد ہلاک ہوگئے جس کی وجہ سے ہجوم مشتعل ہوگیا اور توڑ پھوڑ کرنے لگا لیکن جلد ہی اس پر قابو پالیا گیا اور حالات معمول پر ہیں۔ ڈرائیور کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ حادثہ تیز رفتار کی وجہ سے پیش آیا یا پھر ڈرائیور نشے کی حالت میں تھا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close