اپنا دیشتازہ ترین خبریں

’مشن کے تحت سرحدی تنازع پیدا کر رہا ہے چین‘

نئی دہلی، (یو این آئی)
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ پاکستان کے بعد اب چین بھی سرحد پر ایک مشن کے تحت تنازع پیدا کررہا ہے، لیکن ملک اس بحران کا سامنا پورے استقامت کے ساتھ کر رہا ہے۔

مسٹر سنگھ نے پیر کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بارڈر روڈ آرگنائزیشن (بی آر او) کے ذریعہ سات ریاستوں اور مرکزکے زیر کنٹرول علاقوں میں تعمیر کیے گئے 44 پلوں کا افتتاح کیا اوراروناچل پردیش میں نیچیفو سرنگ کے کام کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پرانہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے ہرشعبہ میں ملک کو پیدا ہونے والے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ زراعت ہو یا معیشت، صنعت ہو یا سیکیورٹی کا نظام، سبھی اس سے بری طرح متاثرہوئے ہیں۔ اس نازک وقت میں پاکستان کے بعد چین کی جانب سے سرحد پر ایک مشن کے تحت تنازعہ پیدا کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا ’’ہماری شمالی اور مشرقی سرحد پر پیدا ہونے والے حالات سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ پہلے پاکستان اور اب چین کے ذریعہ گویا ایک مشن کے تحت سرحد پر تنازع پیدا کیا جا رہا ہے، ان ممالک کے ساتھ ہماری تقریبا 7 ہزار کلومیٹر کی سرحد ہے، جہاں آنے دن تناؤ رہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پریشانیوں اور مشکلات کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی کی موثر اور بصیرت افروز قیادت میں یہ ملک نہ صرف ان بحرانوں کا استقامت کے ساتھ سامنا کر رہا ہے، بلکہ تمام شعبوں میں بڑی اور تاریخی تبدیلیاں لا رہا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ بیک وقت 44 پلوں کا افتتاح کیا جا نا ایک ریکارڈ ہے اور توقع ہے کہ سات ریاستوں اور مرکزکے زیر کنٹرول علاقوں میں واقع یہ پل رابطے اور ترقی کے ایک نئے دور کی شروعات کریں گے۔ انہوں نے کہا’’حال ہی میں ملک کے لئے وقف’اٹل ٹنل، روہتانگ‘ زندہ مثال ہے۔ یہ تعمیر نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا کی تاریخ میں حیرت انگیز اور بے مثال ہے۔ یہ سرنگ ہماری قومی سلامتی اور ہماچل پردیش، جموں وکشمیر اور لداخ کے عام لوگوں کی زندگیوں میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں سڑکیں، سرنگیں اور پلوں کی مسلسل تعمیرات بی آر او کے عزم اور دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے لئے حکومت کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ سڑکیں نہ صرف اسٹریٹجک ضروریات کے لئے ہوتی ہیں، بلکہ ملک کی ترقی میں سب کی یکساں شراکت کو بھی یقینی بناتی ہیں۔ ان پلوں کی تعمیر سے ہمارے مغربی ، شمالی اور شمال مشرق کے دوردراز کے علاقوں میں فوجی اور عمومی نقل و حمل کے طریقوں میں بڑی سہولت ہوگی۔ جن علاقوں میں سال بھر ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر نہیں ہے وہاں مسلح افواج کے جوان بڑی تعداد میں تعینات ہیں، اب انہیں بھی اس سے مدد ملے گی۔

مسٹر سنگھ نے کہا کہ ان میں کئی چھوٹے اور بڑے پل ہیں لیکن ان کی اہمیت کا اندازہ ان کے سائز سے نہیں لگایا جاسکتا۔ تعلیم ہو یا صحت، تجارت یا خوراک کی فراہمی، فوج کی اسٹریٹجک ضرورت ہو یا دیگر ترقیاتی کام، اس طرح کے پلوں اور سڑکوں کو پورا کرنے میں ایک مساوی اور اہم رول ہوتا ہے۔ ان پلوں میں سے 10 جموں وکشمیر میں ، 8 لداخ میں، دو ہماچل پردیش میں، چار پنجاب، چار اتراکھنڈ میں، آٹھ اروناچل پردیش میں اور چار سکم میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ بی آر او کے ذریعہ گذشتہ دو برسوں میں 2200 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں جدید ٹکنالوجی اور جدید ترین آلات استعمال کرکے کٹنگ کی ہے، و نیز تقریبا 4200 کلومیٹر لمبی سڑکوں کی سرفیسنگ بھی کی ہے۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close