بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

بہار اسمبلی انتخابات: مہاگٹھ بندھن سے الگ ہوئی آر ایل ایس، بنایا نیا محاذ

پٹنہ، (یو این آئی )
بہار اسمبلی انتخاب میں سیٹوں کے تقسیم پر پھنسے پیچ کے نہیں سلجھنے سے ناراض چل رہے راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) کے صدر اپندر کشواہا نے راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) زیر قیادت مہا گٹھ بندھن سے ناطہ طور کر بہوجن سماج پورٹی (بی ایس پی) اور جن وادی سوشلسٹ پارٹی کے ساتھ نیا اتحاد بنا کر ریاست کی سبھی 243 سیٹوں پر انتخاب لڑنے کا آج اعلان کیا۔

مسٹر کشواہا نے یہاں بی ایس پی کے بہار معاملے کے انچارج رامجی سنگھ گوتم اور جن وادی سوشلسٹ پارٹی کے صدر ڈاکٹر سنجے سنگھ چوہان کی موجودگی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مہا گٹھ بندھن سے ناطہ توڑ نے اور بی ایس پی اور جن وادی سوشلسٹ پارٹی کے ساتھ مل کر نیا اتحاد بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ اتحاد بہار کی سبھی 243 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے گا۔ آر ایل ایس پی صدر نے کہاکہ ان کی پارٹی نے تین دن قبل ہوئی میٹنگ میں انہیں سیاسی قدم اٹھانے کیلئے مجاز کر دیا تھا۔ عام رائے تھی کہ جس طرح سے مہا گٹھ بندھن چل رہا ہے ویسے میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت سے سیاسی طور سے نہیں لڑا جا سکتا ہے۔

مسٹر کشواہا نے الزام عائد کیا اور کہاکہ 15 سالوں کے مدت کار میں نتیش حکومت نے بہار کو تحت الثری میں دھکیل دیا ہے۔ اس سے پہلے این ڈی کے کے مدت کار میں بھی بہار کو کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے 15 سالوں تک لوگوں کو صرف خواب دکھایا ہے، عوام کی پریشانیوں سے انہیں کوئی لینا دینا نہیں۔ وہ 15 سالوں تک صرف اپنی کرسی بچانے میں لگے رہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں درس وتدریس کا نظام پوری طرح سے چوپٹ ہوگیا ہے اور نوجوان روزگار۔روٹی کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔ اس کے پیچھے اچھی تعلیم کا نہ ہونا اہم وجہ ہے۔

آر ایل ایس پی صدر نے سوالیہ لہجے میں کہاکہ وزیراعلیٰ مسٹر کمار نے کہا تھاکہ وہ بدعنوانی سے کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے ایسے میں انہیں یہ بتانا چاہئے کہ بدعنوان سرکاری ملازمین کے کتنے مکان ہیں جن میں سرکاری اسکول چل رہے ہیں۔ مسٹر کمار بھی 15 سال قبل کی آرجے ڈی حکومت کی راہ پر چلتے رہے اور خزانے کو لوٹنے میں مصروف رہے۔ بغیر رشوت دیئے سرکاری دفاتر میں کوئی کام نہیں ہوتا ہے۔

سابق مرکزی وزیر مسٹر کشواہا نے کہاکہ نتیش حکومت اب تک ہر محاذ پر ناکام ثابت رہی ہے۔ انہوں نے لالو رابڑی (آرجے ڈی حکومت) کے پندرہ سال اور ابھی کے نتیش حکومت کے 15 سال کی مدت کار کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیا اور کہاکہ آرجے ڈی حکومت کے پندرہ سال کی حکومت میں ریاست میں تعلیم کی کیسی حالت تھی کہ سابق وزیراعلیٰ اپنے بچوں کو میٹرک کی بھی تعلیم نہیں دلا سکے۔ مسٹر کشواہا نے کہاکہ لوگوں کا ایسا ماننا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مہا گٹھ بندھن کی سیاست کو متاثر کر رہی ہے۔ آرجے ڈی اور بی جے پی کے ساتھ کچھ نہ کچھ ہے۔ انہوں نے کہاکہ بہار کے لوگ دونوں اتحاد سے اب آزادی چاہ رہے ہیں اس لئے ان کا نیا اتحاد سبھی 243 سیٹوں پر انتخاب لڑے گا۔

اس موقع پر بی ایس پی بہار معاملوں کے انچارج رامجی سنگھ گوتم نے کہاکہ ان کے اتحاد کی قیادت مسٹر کشواہا کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح سے اتر پردیش کی سابق وزیراعلیٰ مایاوتی کی مدت کار میں خوف سے پاک سماج کی تعمیر کی گئی تھی ٹھیک اسی طرز پر بہارمیں بھی قانون کا راج قائم کیا جائے گا۔ اس کے لئے بہار کی عوام کو آگے آنا ہوگا۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close