بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

بہار اسمبلی انتخابات: این ڈی اے میں سیٹوں کا اعلان، جے ڈی یو کو 122 اور بی جے پی کو ملی 121 سیٹیں

پٹنہ، (یو این آئی)
قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے بہار اسمبلی انتخاب کیلئے آج حلیف جماعتوں کے مابین سیٹوں کی تقسیم کا اعلان کیا۔ جس کے تحت جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے حصے میں 122 اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حصے میں 121 سیٹیں آئی ہیں۔

وزیراعلیٰ اور جے ڈی یو کے قومی صدر نتیش کمار نے بی جے پی کے بہار انتخاب کے انچارج دیورندر فڑنویس، بھوپندر یادو اور دونوں پارٹیوں کے ریاستی سطح کے سینئر لیڈران کی موجودگی میں منگل کو یہاں منعقدہ پریس کانفرنس میں این ڈی اے کی حلیف جماعتوں کے مابین سیٹ تقسیم کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ تال میل کے تحت اس بار جے ڈی یو کو 122 اور بی جے پی کو 121 سیٹیں ملی ہیں۔

مسٹر کمار نے کہاکہ سابق وزیراعلیٰ جیتن رام مانجھی کی پارٹی ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) کو جے ڈی یو اپنے کوٹے سے سات سیٹیں دے گی۔ وہیں بی جے پی کے کوٹے سے مسٹر مکیش سہنی کی ویکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کو سیٹ دی جائے گی۔ جس کے ساتھ بی جے پی کی بات چیت آخری مرحلے میں ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ ”ہم لوگ بہار کی ترقی کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہمیں ایک ساتھ کام کرنے کا ایک طویل تجربہ ہے اور آئندہ بھی ریاست کی ترقی کیلئے کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے بغیر کسی کا نام لئے اپوزیشن پر نشانہ لگایا اور کہاکہ کچھ لوگوں کو بغیر وجہ بولنے کی عادت ہے لیکن وہ ان سب باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔

مسٹر کمار نے سابق وزیراعلیٰ لالو پرساد یادو اور مسز رابڑی دیوی کا نام لئے بغیر کہاکہ سب کو معلوم ہے کہ سال 2005 کے قبل پندرہ سال تک جن کو ریاست میں کام کرنے کا موقع ملا انہوں نے کیا کیا۔ ان کے وقت میں این ڈی کی کیا حالت تھی، جرائم شباب پر تھا اور اجتماعلی قتل عالم کے واقعات ہوتے تھے۔ ریاست میں سڑکوں کی حالت ٹھیک نہیں تھی اور نہ ہی اسکول ٹھیک سے چل رہے تھے۔ اسکولوں میں اساتذہ کو تنخواہ تک نہیں ملتی تھی۔ لیکن سال 2005 میں ان کی قیادت میں بنی این ڈی اے حکومت نے تعلیم، صحت سمیت سبھی شعبوں کیلئے کام کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ ان کی حکومت نے شروع سے ہی انصاف کے ساتھ سب کی ترقی یعنی سماج کے ہر طبقہ کی ترقی اورہ ہر علاقے کی ترقی کے اصول پر کام کیا ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وبا سے پوری دنیا پریشان ہے اس کے باوجود بہار میں ان کی حکومت نے اس کی روک تھام اور بچاﺅ کیلئے کافی کام کئے ہیں۔ انہوں نے لاک ڈاﺅن میں بہار میں پھنسے لوگوں کیلئے ”تارکین وطن“ لفظ کے استعمال پر پھر سے اعتراض کیا اور کہاکہ ایسے لوگوں کو بہار لانے کیلئے انہوں نے جتنا ممکن تھا وہ سب کیا۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close