آپ کی آوازتازہ ترین خبریں

کرشن جنم استھان کے نام پر دھرم یدھ کا آغاز

ملک میں امن و امان کی فضاء نہیں بگڑنے دیں گے: مسرور الحسن صدیقی (ایڈوکیٹ)

(انور حسین جعفری)
کبھی سنتے تھے نعرہ ”ایودھیہ تو ایک جھانکی ہے ابھی مَتُھرا کاشی باقی ہے“۔ جو سنا تھا وہ حقیقیت بنتا نظر آر ہا ہے ایودھیہ میں رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہی ہوا ہے کہ ہندو وادی طاقتوں نے متھرا میں دھرم یدھ کا بِگُل بجا دیا ہے۔ مَتُھرا میں کشن جنم بھومی مندر سے لگی ہوئی شاہی عیدگاہ مسجد کو اصل کشن جنم استھان بتاتے ہوئے اس کی۔13.37 ایکڑ زمین پر اپنا مالکانہ حق جتاتے ہوئے متھرا کی عدالت میں سول جج کے سامنے ایک مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس کی سنوائی 30 ستمبر 2020 کو ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں مسرور الحسن صدیقی (ایڈوکیٹ) صدر، مسلم سحر فاؤنڈیشن نے کہا کہ یہ سول سوٹ صرف شر پھیلانے اور ملک میں فرقہ وارانہ زہر گھولنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ایڈوکیٹ صدیقی نے کہا کہ اس مقدمے میں مدعی رنجنا اگنی ہوتری لکھنو میں رہنے والی ایک وکیل ہیں انہوں نے خود کو شری کرشن کا دوست بتاتے ہوئے شری کرشن براجمان کے نام سے یہ مقدمہ دائر کیا ہے جس میں انہوں نے شاہی عید گاہ مسجد متھرا کی زمین پر مالکانہ حق مانگا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ کنس کا قید خانہ جہاں شری کرشن کا جنم استھان ہے وہ اسی عید گاہ کے نیچے واقع ہے۔ 1968 میں شری کرشن جنم بھومی سیوا سنستھان اور متنظمہ کمیٹی شاہی عید گاہ مسجد متھرا کے بیچ ایک سمجھوتا ہوا تھا جو رول آف کورٹ بھی بن گیا تھا اس کی روح سے شری کرشن جنم مندر اور شاہی عیدگاہ دونوں ساتھ ساتھ ہی موجود رہیں گی اور شاہی عید گاہ مسجد میں نماز اور دیگر انتظامات میں شری کرشن جنم بھومی ٹرسٹ یا جنم استھان سیوا سنستھان کسی بھی طرح کی مداخلت نہیں کرے گا۔ اس لئے اب 52 سال گزرنے کے بعد اس مسئلے کو اٹھانا بے معنی ہے اور ٹائم بارڈ بھی ہے۔ اس سول مقدمے میں بحیثیت وکیل وشنو شنکر جین اور ہری شنکر جین پیش ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ دونوں وکیل صاحبان رام جنم بھومی معاملے میں بھی ایک فریق کے وکیل کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی یہ دونوں وکیل ہمیشہ ایسے حساس اور نازک معاملات کی پیروی کرتے رہے ہیں جن کا تعلق مسلمانوں کے قوانین اور مذہبی معاملات سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ان کے دلوں کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ ایڈوکیٹ صدیقی نے کہا کہ ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین اور ہری شنکر جین نے سپریم کورٹ میں رِٹ پٹیشن داخل کی ہے کہ پلیسز آف ورشِپ ایکٹ 1991 کی دفعہ 4 کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔ اور ساتھ ہی دوسری رِٹ پٹیشن میں وقف ایکٹ 1995 کو غیر آئینی قرار دینے کی عدالت سے درخواست کی ہے۔ مسرور الحسن صدیقی (ایڈوکیٹ) نے کہا متھرا کی عدالت میں دائر مقدمے کی پلینٹ پر مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ مقدمہ صرف اور صرف شر پھیلانے، ملک کے امن و امان کو بگاڑنے اور جھوٹی واہ واہی لوٹنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ سیکشن 4 پلیسز آف ورشِپ ایکٹ 1991 کے مطابق 15 اگست 1997 کَٹ آف ڈیٹ طے کی گئی ہے جس کے بعد کسی بھی مندر مسجد کا تنازعہ عدالت میں زیر سماعت قبول نہیں ہوگا اور کوئی بھی مندر یا مسجد یا دیگر عبادت گاہیں جس حالت میں جہاں ہیں ویسی ہی رہیں گی یعنی اسٹیٹس کیومینٹین رہے گا۔ بابری مسجد رام جنم بھومی کو اس قانون سے الگ رکھا گیا تھا کیونکہ یہ معاملہ ایک عرصے سے مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہا تھا۔

سپریم کورٹ نے بابری مسجد رام جنم بھومی کا فیصلہ سناتے وقت یہ واضح کر دیا تھا کہ سیکشن 4 پلیسز آف ورکشپ ایکٹ کے مطابق اب کسی بھی مندر مسجد کی ملکیت کا جھگڑا عدالت میں نہیں سنا جائے گا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ عدالتیں تاریخ میں ہوئی غلطیوں کو درست کرنے کے لئے نہیں بیٹھی ہیں یعنی کسی بادشاہ یا حکمراں نے اپنے دورِ اقتدار میں کوئی غلط کام کیا ہو تو عدالتیں ان کو درست کرنے کے لئے نہیں بیٹھی ہیں۔ ایڈوکیٹ صدیقی نے کہا کہ اس قانونی دلیل کے مطابق متھرا کورٹ میں دائر کرشن جنم استھان سے متعلق سول سوٹ نون مینٹین ایبل ہے اور امید ہے کہ عدالت اس کو قانون کی روشنی میں آرڈر 7 رول 11 سی پی سی کے تحت ڈِس مِس کر دے گی اور بنا کسی دباؤ میں آئے قانون کی حکمرانی بالاتر رکھے گی۔

عرضی گزار رنجنا اگنی ہوتری خود ایک وکیل ہیں اور ساتھ ہی جن وکیل صاحبان کے ذریعے یہ مقدمہ دائر کیا ہے وہ بھی قابل اور تجربے کار وکیل ہیں پھر بھی سیکشن 4 پلیسز آف ورکشپ ایکٹ میں موجود لمٹیشن کے باوجود ایسا مقدمہ دائر کرنا عدالت کا وقت برباد کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں جس کے لئے مقدمے کو ڈِس مِس کرنے ساتھ ساتھ قانون کو جانتے ہوئے ایسا مقدمہ دائر کرنا عدالت کا وقت برباد کرنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں اس لئے ان صاحبان پر بھاری جرمانہ بھی عائد کرنا چاہیئے۔ ایڈوکیٹ صدیقی نے مزید کہا کہ بابری مسجد رام جنم بھومی کا فیصلہ مسلمانوں نے خوش اسلوبی اسے قبول کیا لیکن پھر سے ایک نیا فتنہ کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں جس سے ملک کی فضاء بگڑنے کا امکان ہے۔ ہندو اور مسلم قوموں میں انتشار بڑھے گا اور فساد جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اور ساتھ ہی مذہبی جذبات بھی مجروح ہوں گے جس کے لئے مدعی اور وکیلوں پر تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اور 153 اے کے تحت بروقت مقدمہ درج کرانے کی ضرورت ہے۔ وکیلوں کو بھی غیر جانبدار رہ کر انسانی خدمات انجام دینے کی ضرورت ہے کیونکہ وکیل کو آفسر آف دی کورٹ کہا جاتا ہے اور جو وکیل اپنے فرض سے بہک جاتے ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی ضروری ہے اس لئے ایسے وکیل حضرات کے خلاف ہم بار کاؤنسل آف انڈیا میں شکایت کریں گے تاکہ ان کے خلاف ایڈوکیٹ ایکٹ 1961 کے تحت کارروائی کی جا سکے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close