اپنا دیشتازہ ترین خبریں

بابری مسجد انہدام معاملہ: فیصلہ کل، یوپی میں ہائی الرٹ

اس معاملے میں سابق نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ رہے لال کرشن اڈوانی، سابق گورنر اور یوپی کے وزیر اعلیٰ رہے کلیان سنگھ، بی جے پی لیڈر ونے کٹیار، سابق مرکزی وزیر اور مدھیہ پردیش کی وزیر اعلیٰ رہیں اوما بھارتی ملزم ہیں۔ سی بی آئی نے 49 ملزمین کے خلاف چارج شیٹ فائل کی تھی جس میں سے17 افراد کی موت ہوچکی ہے۔

لکھنؤ: (یواین آئی)
بابری مسجد مسماری معاملے میں سی بی آئی کی اسپیشل عدالت کے ذریعہ بدھ کو فیصلہ سنائے جانے کے پیش نظر پورے اترپردیش میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ سی بی آئی کے اسپیشل کورٹ کے جج ایس کے یادو 32 ملزمین کے سامنے بدھ کی صبح 10 بجے اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ حالانکہ اس دوران کئی ملزمین ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ عدالت میں اپنی موجودگی درج کرائیں گے لیکن ان میں کچھ عدالت میں بھی موجود ہوں گے۔

تقریبا 28سال کے لمبے وقفے کے بعد آنے والے اس تاریخی فیصلے کی حساسیت کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ نیپال سرحد سمیت سبھی اضلاع میں سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس دوران اجودھیا میں سیکورٹی اہلکار کی خصوصی نظر ہوگی جہاں فیصلے کے وقت کچھ ملزمین موجود ہوں گے۔ اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس(نظم ونسق)پرشانت کمار نے منگل کو یہاں بتایا کہ سی بی آئی عدالت کے فیصلے کے پیش نظر سبھی اضلاع میں سیکورٹی اہلکار کو مستعد رہنے کو کہا گیا ہے۔ اجودھیا میں سیکورٹی کے خاص انتظامات کئے گئے ہیں۔

ملزمین کے وکیلوں کے مطابق سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی و سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کے عمر کی بنیاد پر انہیں عدالت میں پیش نہ ہونے کی مہلت دی گئی ہے وہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اپنی موجودگی درج عدالت کے سامنے درج کرائیں گے۔ اس دوران ان کے گھر کے باہر پولیس تعینات رہے گی اور اگر ضرورت پڑی تو انہیں گھر میں ہی نظر بند کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح سے کورونا متاثر مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی اوما بھارتی، یوپی کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ کے علاوہ کورونا سے شفایابی کے باجود لگاتار آکسیجن پر چل رہے مہنت نرتیہ گوپال داس عدالت میں موجود نہیں ہوں گے۔ ستیش پردھان سمیت کچھ دیگر ملزمین کو بھی بیماری کی وجہ سے عدالت میں موجود نہ رہنے کی مہلت دی گئی ہے۔

وکیلوں نے بتایا کہ فیصلہ کافی تفصیلی ہوگا کیونکہ سبھی 32ملزمین پر آئی پی سی کی الگ الگ دفعات کے تحت معاملے درج ہیں۔ اس لئے اگر وہ قصور وار پائے جاتے ہیں تو سزا بھی الگ الگ ہوگی۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close