تازہ ترین خبریںدلی نامہ

اروند کجریوال نے سائنسدانوں کی تیار کردہ بایو ڈکمپوزر تکنیک کا لیا جائزہ

یہ ٹکنالوجی آسان، قابل استعمال اور عملی ہے، یہ سائنسدانوں کی کئی سال کی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے: کجریوال

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
سردیوں کے موسم میں راجدھانی سے منسلک ریاستوں میں پرالی جلانے سے ہونے والی فضائی آلوگی سے دہلی کو نجات کیلئے ایگری کلچر انسٹی ٹیوٹ پوسا، نئی دہلی کے سائنسدانوں نے بایو ڈکمپوزر تکنیک کے ذریعہ حل نکال لیا۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے آج پوسا ایگری کلچر انسٹی ٹیوٹ میں آئی اے آر آئی کے سائنسدانوں کی تیار کردہ بایو ڈکمپوزر تکنیک کا معائنہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ سائنسدانوں نے گزشتہ روز وزیراعلی سے ملاقات کرکے اس ٹیکنالوجی کی پرفارمنس وزیراعلی کو دی تھی، جس پر وزیر اعلی نے آج براہ راست اس کے کام کرنے کے طریقے کو دیکھنے کیلئے پوسا ایگری کلچر انسٹی ٹیوٹ آنے کیلئے سائنس دانوں کو کہا تھا۔

وزیر اعلی اروند کجریوال نے اس موقع پر کہاکہ یہ تکنیک پرالی کے جلنے سے ہونے والی فضائی آلودگی کو روکنے کیلئے عملی اور کافی کارآمد ہے۔ پوسا انسٹی ٹیوٹ کے تیار کردہ کیپسول کا گھول کھیتوں میں چھڑکا جاتا ہے، جس سے پرالی کا ڈنٹھل گل کر کھاد بن جاتا ہے اور اسے جلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ کھاد کا استعمال بھی کم ہوتا ہے۔ وزیر اعلی اروند کجریوال نے کہاکہ میں اگلے ایک دو دن میں مرکزی وزیر ماحولیات سے مل کر ہمسایہ ریاستوں میں اس ٹکنالوجی کے موثر اور بہتر کام پر بات کروں گا۔ انہوں نے کہاکہ کیوںکہ یہ ٹکنالوجی بہت آسان، قابل استعمال اور عملی ہے، یہ سائنسدانوں کی کئی سال کی محنت اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔

پوسا انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہاکہ دسمبر کے مہینے میں کسان اپنے کھیت میں کھڑے دھان کی پرالی کو جلانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس کا دھواں دہلی سمیت کئی ریاستوں پر چھایا رہتا ہے۔ ہم نے پوسا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر سے بات کی۔ پوسا کے سائنسدانوں نے نئی قسم کی ٹکنالوجی ایجاد کی ہے، جس کے ذریعے وہ کیپسول دیتے ہیں۔ چار کیپسول ایک ہیکٹر کے لئے کافی ہے، اس ایک کیپسول کے ذریعہ کسان تقریبا 25 لیٹر گھول بنا لیتا ہے، جب کسان اسے اپنے کھیت پرالی پر چھڑکتا ہے تو پرالی کا موتا مضبوط ڈنٹھل 20دن میں گل کر کھاد بن جا تا ہے۔ اس کے بعد کاشتکار اپنے کھیت میں فصل بو سکتے ہیں۔ اس کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس تکنیک کے استعمال کے بعد کسان کو اپنے کھیت میں پرالی جلانے کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیر اعلی نے کہاکہ زرعی سائنس دان کہہ رہے ہیں کہ اس کیپسول کی قیمت بہت کم ہے۔ فی ایکڑ کتنی لاگت آ رہی ہے اس کی مکمل تجویز بناکر ہمیں دیں گے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کیپسول کی قیمت فی ایکڑ میں تقریبا 150 سے 250 روپے آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ اس نئی ٹیکنالوجی کی ایجاد کے پیچھے سائنسدانوں کی کئی سال کی محنت ہے۔ تقریبا ڈیڑھ سال قبل یہ تجربہ مکمل ہوا تھا اور اب انہوں نے اس کے تجارتی استعمال کیلئے اس کا لائسنس بھی لے لیا ہے۔سی ایم اروند کیجریوال نے کہاکہ آج یا کل میں مرکزی وزیر ماحولیات سے ملاقات کروں گا اور ان سے درخواست کروں گا کہ وہ پڑوسی ریاستوں سے بات کریں کہ زیادہ سے زیادہ اس تکنیک کا اپنی ریاستوں میں استعمال کریں۔ اگر اس تکنیک کاستعمال کیا جائے تو پرالی جلانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close