تازہ ترین خبریںدلی نامہ

انڈین یونین مسلم لیگ کے چاروں ممبران پارلیمنٹ نے زرعی بل کیخلاف کی آواز بلند

اس طرح سے معطل کرنا اپوزیشن کی آواز کو خاموش کرنے کا یہ نایاب حربہ ہے

نئی دہلی(امیر امروہوی)
مرکزی حکومت کی شے پر گذشتہ دنوں راجیہ سبھا اسپیکر کے ذریعہ معطل کئے جانے پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور سیاسی، سماجی و ملی تنظیموں نے اس کی زبردست مذمت کی ہے۔ اسی سلسلے میں انڈین یونین مسلم لیگ کے چاروں ممبران پارلیمنٹ، محمد نواز عنی، ای ٹی بشیر، عبدالوہاب ممبر پارلیمنٹ کنہالی کٹی کی قیادت میں راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے 8 ممبران کو پارلیمنٹ کے معطل کرنے کے معاملے پر ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور ان انہوں نے پارلیمنٹ احاطہ میں زبردست احتجاج درج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اپوزیشن کے خلاف ایک دھوکہ ہے، اپوزیشن کی آواز کو خاموش کرنے کا یہ نایاب حربہ ہے۔راجیہ سبھا ممبروں کو معطل اور ان کے حقوق ختم کردیئے گئے۔

انڈین یونین مسلم لیگ کے تمام ممبران نے اپنے غم کے اظہار کے لئے گاندھی مجسمہ پر احتجاج درج کرایا ہے۔ واضح رہے کہ مرکز نے تین نئے بل، ضروری اجناس کی خدمات کی اصلاحات ایکٹ، مارکیٹ کمیٹی ڈریگولیشن بل اور معاہدہ زراعت بل پیش کیا ہے۔ ان زرعی بلوں پر کسانوں نے مرکزی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنا شروع کردیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس بل پر سخت تنقید کی ہے، اسے”کسان مخالف“ قرار دیتے ہیں اور اس کے خلاف پنجاب اور ہریانہ میں احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں، انڈین یونین مسلم لیگ نے پریس کانفرنس کی اور مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔

ممبر پارلیمنٹ کنہالی کٹی نے کہا کہ راجیہ سبھا میں زرعی بل آنا تھا، اس پر بحث کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن حکومت نے جلدی میں بل منظور کرلئے۔ اس بل پر ممبران کے سوالات تھے، بحث پر اصرار کیا گیا تھا، لیکن اس اصرار کو ایک طرف رکھ دیا گیا۔ یہ بل کسانوں کو غلام بنانے کا ذریعہ بنے گا ان کی فصلوں کو اونے پونے کمپنیاں خرید کر عوام کو مہنگے داموں میں فروحت کریں گی۔جس سے جہاں کسانوں کو واجب دام نہیں ملے گا وہیں عوام کی محنت کی کمائی پر کمپنیاں ہاتھ صا ف کریں گے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close