اترپردیشتازہ ترین خبریں

یو پی میں پوسٹر وار جاری: اب یوگی آدتیہ ناتھ اور کیشو موریہ کے لگے پوسٹر

اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ریاستی حکومت کی جانب سے شہریت(ترمیمی) قانون کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد کے مبینہ ملزمین کی فوٹو مع نام وپتہ کی ہورڈنگ لگانے کے بعد شروع ہوئے پوسٹر وار میں اپوزیشن سماجوادی پارٹی( ایس پی) کے بعد اب کانگریس نے یوگی آدتیہ ناتھ اورکیشو پرساد موریہ سمیت متعدد بی جے پی لیڈروں کے پوسٹر لگائے ہیں۔

سنیچر کو کانگریس نے شہر کے اہم شاہرہوں پر وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ کے ساتھ بی جے پی کے دیگر لیڈروں کے فوٹو والے پوسٹر اور ہورڈنگ لگائے ہیں۔ ان دو سینئر لیڈروں کے ساتھ پوسٹر میں رادھا موہن داس اگروال،سنگیت سوم، سنجیو بالیان، امیش ملک، سریش رانا اورسادھوی پراچی کی تصویریں لگائی گئی ہیں۔ کانگریس لیڈر سدھانشو واجپائی اور لالو قنوجیا کی جانب لگائے جانے والے اس پوسٹر پر ’’جنتا مانگے جواب۔ ان دنگایوں سے وصول کب‘‘؟ بڑی سرخی کے ساتھ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور کیسو پرساد موریہ کی جانب سے لوک سبھا انتخابات میں داخل کئے گئے حلف ناموں کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر درج مقدمات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سماج وادی پارٹی کی جانب سے گذشتہ کل بی جے پی کے عصمت دری کے ملزم سوامی چنمیانند اور کلدیپ سنگھ سینگر کے فوٹو والے پوسٹر لگائے تھے۔ سماج وادی پارٹی کی جانب سے لگائے گئے پوسٹربی جے پی لیڈروں کے تصاویر کے ساتھ ان کے مجرمانہ معاملات کی تفصیلات کے ساتھ ’بیٹیاں رہے ساودھان۔سرکشت رہے ہندوستان‘لکھا ہوا تھا۔ جسے پولیس نے خبر لگتے ہی فورا ہٹوا دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ 19دسمبر کو ریاستی راجدھانی میں شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں فائرنگ کے ساتھ آتشزنی ہوئی تھی اور دو افراد سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ آگزنی میں عوامی املاک کا کافی نقصان ہوا تھا۔اب اس ضمن میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر جہاں ضلع انتظامیہ ریکوری نوٹس بھیج رہا ہے تو وہیں اس نے مبینہ طور پر ملوث افراد کی فہرست تیار کر کے ریاستی راجدھانی کے مختلف چوراہوں پر ان کے پوسٹر لگائے ہیں۔

ریاستی حکومت کی جانب سے لگائے گئے ان پوسٹروں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے الہ آبائی کورٹ نے اسے غیر قانونی اور شہری کے پرائیوسی میں مداخلت سے تعبیر کرتےہوئے فوراہٹانے کا حکم دیا تھا لیکن ریاستی حکومت نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس ضمن میں سماعت کرنے کے بعد معاملے کو بڑی بنچ کو بھیج دیا۔ لیکن الہ آبادہائی کورٹ کے فیصلے پر کوئی روک نہیں لگائی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close