آپ کی آواز

یوں ہم کو مٹانا کوئی آسان نہیں ہے

کہتاہوں سچ کہ......ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی

دنیا آج نفرتوں کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی ہے اور دن بدن اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ازل سے دنیا حق پرستوں اور ایمان والوں کی دشمن رہی ہے۔ حضورؐ جن کے صدقے میں کائنات بنی، جن کی بدولت ہم نے خدا کو پہچانا اُن کے ساتھ کیا نہیں ہوا؟ پتھر مارے گئے، اونٹ کی اوجھڑی پھینکی گئی۔ آپؐ نے کسی کو بددعا نہیں دی اور اللہ کی وحدانیت کا پیغام دیتے رہے۔ طائف میں تو یہاں تک ہوا کہ آپؐ کے قدم مبارک تک سے خون آ گیا، لیکن قربان جاؤں اس ذات پر کہ اپنا خون زمین پر نہیں گرنے دیا کہ اگر نبی کا خون زمین پر گر گیا تو اس زمین پر خدا کا عذاب آنا ضروری ہے۔ مرے آقاؐ نے سب کچھ خود سہا لیکن خدا کا عذاب نہیں آنے دیا۔

رحمتہ للعالمینؐ کے لوگ کیوں دشمن تھے؟ صرف اس لیے کہ وہ حق کی آواز کو بلند کرنے اور انسانیت کو فروغ دینے کے لیے دعوت کا کام کر رہے تھے جو بت پرستوں کو منظور نہیں تھا۔ وہ تو اپنے الگ الگ خدا کی پوجا میں مست تھے اور ایک خدا سے ان کو بیر تھا۔ اسلام دشمن محمد عربیؐ کی جان کے ایسے دشمن تھے کہ کب کیا ہو جائے معلوم نہیں تھا۔ اللہ سے وعدے کے مطابق رسول اممؐ اپنا کام کرتے رہے، جس کے لیے اللہ نے ان کو دنیا میں بھیجا تھا۔ خدا نے خود میرے نبیؐ کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا تو پھر کس میں ہمت تھی کہ کچھ نقصان کر سکتا، ہاں تکلیفیں اٹھانی تھیں جو اٹھائیں۔ کس کے لیے؟ ہمارے لئے۔ رب العالمین نے فرمایا کہ اے نبیؐ اگر آپ کہیں تو ان پہاڑوں کو آپ کے لیے سونے کا کر دیا جائے؟ میرے آقا نے منع کر دیا۔ طائف میں زمین و آسمان آنسو بہا رہے تھے کہ خدا کے محبوب پر اس قدر ظلم و ستم۔فرشتوں نے کہا کہ اگر آپؐ فرمائیں تو دو پہاڑوں کو آپس میں ملا کر ان ظالموں کو ختم کر دیا جائے تو بھی میرے آقاؐ نے منع فرما دیا کیوں کہ ان کو یقین تھا:
حق والوں کے ساتھ خدائی چلتی ہے
باطل کے ہمراہ زمانہ ہوتا ہے

1400 سال سے آج تک ایمان والوں کے ساتھ جو جو رو ستم ہو رہے ہیں اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ جس کو دیکھو وہ دشمن ہے ایمان والوں کا۔ ہمیں تاریخ کے وہ مناظر بھی یاد ہیں جب تاتاریوں نے مسلمانوں کو شہید کرکے ان کی کھوپڑیوں کے مینار بنائے تھے۔ تاریخ میں لاکھوں انسانوں کو صرف اس لیے ختم کر دیا گیا کہ وہ ایک خدا اور ایک رسول کو ماننے والے تھے۔ فلسطین میں آج بھی جو ظلم وستم ہو رہے ہیں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ہر چار پانچ سالوں میں معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے جس سے نسل آگے نہ بڑھ سکے۔ سلام فلسطین کے مسلمانوں، ان کی خواتین اور بچوں کو کہ دینی جذبے سے جی رہے ہیں اور دنیا کے مسلمانوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ایمان والوں کو بظاہر مارا جا سکتا ہے لیکن ان کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کے قتل وخون کی ایسی تاریخ ہے کہ جس کو لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ افغانستان، عراق، سیریا، برما اور ہندوستان میں چن چن کے مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اور افسوس پوری دنیا خاموش ہے۔ دنیا میں نام کے پچپن اسلامی ممالک ہیں جو انگریزوں کے غلام ہیں اور زبان بند کیے بیٹھے ہیں۔

گزشتہ جمعہ نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں جس طرح نمازیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا وہ دنیا کی بدترین مثالوں میں ہے کہ ان مسلمانوں کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ اپنے خدا کے حکم کی تعمیل میں نماز ادا کرنے آئے تھے۔ بظاہر یہ وہی جرم تھا جو رسول اللہؐ نے کیا تھا کہ اپنے خدا کی عبادت آخری سانس تک کرنے کا خدا سے کیاگیا وعدہ پورا کرنا تھا، جس تیاری کے ساتھ یہ 28 سالہ آسٹریلین ظالم قاتل آیا تھا، اس سے اس کی سوچ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے اس کے پیچھے یہی سوچ ہو سکتی ہے کہ اسلام کے ماننے والوں کو ختم کر دیا جائے۔ اس کے اس بدترین جرم پر پوری دنیا خاموش ہے اور انسانی ہمدردی رکھنے والی تنظیمیں جو صرف دکھاوا کرتی ہیں، آج زبان بند کئے ہیں۔ شاید ان کو یہ خوف ہوگا کہ ان کے خدا امریکہ اور اسرائیل ان سے ناراض نہ ہو جائیں۔ پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ دنیا کے چند ایک ممالک کے سربراہوں کے علاوہ کسی نے اس ظالمانہ حرکت پر اپنے غم کا اظہار نہیں کیا۔ ہندوستان نے تو ایک لفظ بھی تعزیت اور غم کا نہیں کہا، جس سے ان کی ذہنیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ افسوس کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو رام کے ماننے والے کہتے ہیں انہیں یہ ظلم نظر نہیں آیا۔ صرف اس لیے کہ شہید ہونے والے مسلمان تھے۔ کچھ سر پھرے شدت پسند ہندؤں نے تو اس قتل عام اور دہشت گردی پر خوشی کا اظہار تک کر دیا۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو اپنے ماں باپ کو بھی بڑھاپے میں گھر سے باہر کر دیتے ہیں۔ انساں نما ان شیطانون سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے۔

آج دل بے انتہا غم میں ہے اور رو رہا ہے کہ دنیا کس موڑ پر آگئی ہے جہاں سچ اور حق بات کرنے والوں خاص طور پر مسلمانوں کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے۔ غیروں کی کیا بات کریں، مسلمانوں کو بھی اس غم کا احساس نہیں۔ ہندوستان میں مسلمان آج کل الیکشن میں مست ہیں اور سیاسی پارٹیوں کے غلام بن کر گھوم رہے ہیں۔ انہیں ان شہیدوں کا کوئی غم نہیں۔ وہ یہ نہیں سوچ رہے ہیں کہ اس جگہ وہ بھی ہو سکتے ہیں۔ دنیا میں کہیں کوئی کینڈل مارچ نہیں نکالا گیا کہ شہید ہونے والے مسلمان تھے۔ انتہا یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایک دوسرے کو کافر کہنے والے بھی آج خاموش ہیں کہ انہیں اپنے گریبان میں جھانکے کی فرصت نہیں۔ وہ تو اپنی عیش ہرستی میں کھوئے ہوئے ہیں۔ کاش ان کا ضمیر جاگتا اور کم ازکم نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے کچھ سبق لیتے جنہوں نے پہلے ہی بیان میں اس دہشت گردانہ حملے پر افسوس کا اظہار اور قاتلوں کو گرفتار کرایا۔ انہوں نے نہ صرف اپنے غم کا ظہار کیا بلکہ اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ یہ دن نیو زی لینڈ کی تاریخ کا کالا دن ہے کہ ان کے ملک میں یہ غیر انسانی حرکت ہوئی۔

وزیراعظم خود شہیدوں کے اہل خانہ سے جاکر ملیں اور ان کے غم میں شریک ہوئیں، ساتھ ہی انہوں نے تین بار بیان دیا ہے۔ سلام ہے ایسی وزیراعظم کو جس نے انسانیت کا ثبوت فراہم کیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس قاتل کو جلدازجلد کب سزا ملتی ہے۔ اس وقت میری آنکھیں نم ہیں اور ہاتھ کانپ رہے ہیں کہ کس طرح یہ کالم مکمل کروں۔ نیوزی لینڈ کی مسجدوں میں ہوئے شہیدوں کو ہم سلام پیش کرتے ہیں کہ ان کی شہادت نماز کے لیے مسجد میں ہوئی۔ ان کے شہید ہونے میں کچھ شک وشبہ نہیں کہ وہ جنت کے اعلیٰ مقام پر ہیں۔ ان شہیدوں کی یہ قربانی ضائع نہیں جائے گی اور اسلام اور تیزی سے دنیا میں پھیلے گا۔ کاش آج کے مسلمان اب بھی سبق لیں، اتحاد کی کوشش کریں اور خدا اور رسولؐ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑ لیں کہ فتح ان شاءاللہ اسلام کی ہی ہونی ہے:

ہم نے تو بنائے ہیں سمندر میں بھی رستے
یوں ہم کو مٹانا کوئی آسان نہیں ہے

 

(Writer: Dr. Majid Deobandi………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close