اترپردیشتازہ ترین خبریں

یوگی کا فرمان: 200 ملازمین کو زبردستی کیا ریٹائر

اتر پردیش کے 150 سے زیادہ افسر اب بھی حکومت کے راڈار پر

بدعنوانی کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سات پی پی ایس افسروں کو جبراً ریٹائر کر دیا ہے۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یوگی حکومت نے ریاست کے بدعنوان افسران کی فہرست تیار کی ہے۔ اس لسٹ میں تقریبا چھ سو افسران کے نام ہیں۔ ان افسران کے ساتھ ہی چار سو حکام کو ملازمین کو انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جا سکتا ہے۔ یوگی حکومت اس سے پہلے بھی کئی افسران کو زبردستی ریٹائر کر چکی ہے۔

لازمی ریٹائرمنٹ پانے والے پی پی ایس افسران میں معاون افسر 15 ویں ڈکٹ پی اے سی آگرہ میں ملازم ارون کمار، ڈسٹرکٹ فیض آباد میں پولیس ڈپٹی انسپکٹررہے ونود کمار گپتا، ڈسٹرکٹ آگرہ کے پولیس انسپکٹر رہے نریندر سنگھ رانا، پی اے سی جھانسی میں اسسٹنٹ افسر رہے رتن کمار یادو، مرادآباد میں ڈویزنل افسر رہے سنتوش کمار سنگھ، 27 ویں ڈکٹ پی اے سی سیتاپور میں ملازم رہے تیجویندر سنگھ یادو اور 30 ویں پی اے سی ڈکٹ گونڈا میں اسسٹنٹ افسر رہے تنویر احمد خان کے نام شامل ہیں۔

حکومت کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ریاستی حکومت کو ان تمام افسران کے بارے میں سنجیدہ شکایات مل رہی تھیں جس میں بدعنوانی کی زیادہ شکایات تھیں۔ داخلہ محکمہ کی جائزے کے دوران سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے بدعنوان اور ناکارہ پولیس اہلکاروں کو زبردستی ریٹائرمنٹ دینے کی ہدایت کی گئی۔اس کے بعد اے ڈی جی پیوش آنند نے تمام یونٹس اور اضلاع میں بنائی گئی اسکریننگ کمیٹی کی رپورٹ طلب کی۔ اس کے بعد یوگی حکومت نے بدعنوان افسروں کے خلاف ایکشن لینا شروع کیا۔

گزشتہ 2 سالوں میں یوگی حکومت مختلف محکموں کے 200 سے زیادہ افسروں اور ملازمین کو زبردستی ریٹائر کر چکی ہے۔ ان دو سالوں میں یوگی حکومت نے 400 سے زیادہ افسروں، ملازمین کو معطلی اور ڈموشن جیسے سزا بھی دیے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، اس کارروائی کے علاوہ 150 سے زیادہ افسر اب بھی حکومت کے راڈار پر ہیں۔ محکمہ داخلہ میں سب سے زیادہ 51 لوگوں کو جبرا ریٹائر کئے گئے تھے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے 50 سال کی عمر میں ہی سست حکام کو ریٹائرمنٹ دینے کا اعلان جولائی میں کیا تھا۔ اس کے تحت بہت سے بڑے افسروں کے ساتھ ملازم بھی راڈار پر آئے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close