اترپردیشتازہ ترین خبریں

یوگی حکومت کا پسماندہ برادریوں کو شیڈول کاسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ

اترپردیش کی حکومت نے 17 انتہائی پسماندہ ذاتوں کو درج فہرست ذات (شیڈول کاسٹ) کے زمرے میں شامل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہاں بتایا کہ ریاستی حکومت نے ریاست کی 17 انتہائی پسماندہ برادریوں کو شیڈول کاسٹ کے زمرہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کی تعمیل میں کیا گیا ہے، جس میں اس نے انتہائی پسماندہ برادریوں کو درج فہرست ذات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

ریاستی حکومت نے تمام ضلع مجسٹریٹوں کو ان برادریوں کے کنبوں کو ثبوت (کاسٹ سرٹیفکیٹ)دئیے جانے کا حکم نامہ بھیج دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملہ میں دسمبر 2016 میں پسماندہ طبقہ کی فہرست میں داخل 17 برادریوں – کہار، کشیپ، کیوٹ، ملاح، نشاد، کمہار، پرجاپتی، دھیور،بند، بھر، راج بھر، دھیمر، باتھم، ترھا، گوڑیا، ماجھی اور مچھووا کو شیڈول کاسٹ میں شامل کرنے سے متعلق حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔ اس حکم نامہ کے خلاف‘ڈاکٹر بی آر امبیڈکر گرنتھالیہ ایوم جن کلیان’ نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔ اس پر عدالت نے پیشگی حکم تک اسٹے دے دیا تھا۔

اس معاملہ میں 29 مارچ، 2017 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے احکامات میں کہا کہ اس سرکاری حکم نامہ کے تحت کوئی بھی کاسٹ سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے تو وہ عدالت کے آخری فیصلہ سے مشروط ہو گا۔ اس حکم کے عملدرآمد میں چیف سکریٹری (سماجی بہبود) منوج سنگھ نے حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ، الہ آباد کی طرف سے 29 مارچ، 2017 کو منظور آرڈر کی تعمیل کو یقینی بناتے ہوئے جائز اور صحیح ریکارڈ کی بنیاد پر قانون کے مطابق کاسٹ سرٹیفکیٹ جاری کئے جانے کے لئے ضروری کارروائی کویقینی بنائیں۔

قابل غور ہے کہ اس سے پہلے سماج وادی پارٹی (ایس پی) حکومت اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت بھی 17 انتہائی پسماندہ ذاتوں کو درج فہرست ذاتوں کے زمرے میں لانا چاہتی ہے۔گزشتہ تقریبا دو دہائی سے ان 17 انتہائی پسماندہ ذاتوں کو شیڈول کاسٹ میں شامل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ماضی کی سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی حکومتوں میں بھی انہیں شیڈول کاسٹ میں شامل تو کیا گیا، لیکن معاملہ ٹھنڈے بستے میں ہی پڑا رہا۔ طویل عرصہ سے ان برادریوں کو شیڈول کاسٹ میں شامل کرنے کی کوششیں بہت سی حکومتیں بھی کر چکی ہیں لیکن ان سرکاروں کامیابی نہیں مل سکی۔یوگی حکومت کے اس فیصلے کا دارومدار بھی اس بابت مستقبل قریب میں عدالت کی طرف سے دئیے جانے والے آخری فیصلے پر منحصر ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close