اترپردیشتازہ ترین خبریں

یوپی میں احتجاجی مظاہرہ تشدد میں تبدیل، اب تک 15 لوگوں کی موت

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اترپردیش میں گذشتہ تین دنوں سے ہوئے احتجاجی مظاہروں کے درمیان آج ضلع رامپور میں احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا اور عوام و پولیس آمنے سامنے آگئے۔ رامپور میں فائرنگ کے دوران ایک شخص کی موت ہوگئی جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

سنیچر کو رامپور کے علاوہ کانپور سے بھی تشدد کی خبریں موصول ہوئیں. کانپور سے موصول اطلاع کے مطابق شرپسند عناصر نے یتیم خانہ پولیس چوکی میں آگزنی کی۔ ریاست کے دیگر اضلاع میں اکا دکا واقعات پیش آئے لیکن مجموعی طور پر حالات پرامن مگر کشیدہ رہے۔ حساس مقامات پر سیکورٹی اہلکار کا پہرہ رہا۔ وہیں گورنر آنندی بین پٹیل اور وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست کے شہریوں سے امن و امان کو قائم رکھنے اور کسی بھی بہکاوے یا اکساوئے میں نہ آنے کی اپیل کی۔

ضلع رامپور میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے لئے شہریوں نے اجازت طلب کی تھی لیکن ضلع انتظامیہ سے اجازت نہ ملنے کے بعد بھی عوام سڑکوں پر نکلے اور حکومت، این آر سی و سی اے اے کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے عیدگاہ کے پاس اکٹھا ہوگئے۔رامپور میں احتجاجی مظاہرے نے ریاست کے دیگر مقامات کی طرح دیکھتے ہی دیکھتے تشدد کی شکل اختیار کرلیا۔

مظاہرین کو منشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور فائرنگ بھی کی۔مشتعل مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے آگئےاور جم کر پتھر بازی ہوئی۔فائرنگ میں ایک شخص کی موت جبکہ پتھرا اور لاٹھی چارج میں 9 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے۔ آگزنی میں پرائیویٹ گاڑیاں آگ کے حوالے کردی گئیں۔

کانپور جہاں کل ہوئے مظاہرے میں فائرنگ میں دو افراد کی موت ہوگئی جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ آج اس صنعتی شہر سے ہیومن چین بنا کر ہاتھ میں پھول لے کر احتجاج کی خبریں موصول ہوئیں۔ مظاہرین کے اس انداز نے پولیس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھیر دئیے۔ بعد میں کانپور سے بھی تشدد کی خبریں موصول ہوئیں اور ایک پولیس چوکی کو آگے کے حوالے کردی گئی۔

وارانسی اور فیروزآباد سے موصول اطلاع کے مطابق شہر میں حالات کشیدہ لیکن پرامن ہیں۔ ان اضلاع میں جمعہ کے احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ پولیس نے جہاں بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا تھا تو وہیں مظاہرے میں موجود شرپسند عناصرنے پتھراؤ کیا اور کئی گاڑیوں میں آگ لگا دیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ریاست میں ابھی تک ہوئے پرتشدد مظاہروں میں 43 پولیس اہلکار سمیت 75 افراد زخمی ہوئے ہیں وہیں مصدقہ ذرائع سے 9 جبکہ غیر مصدقہ ذرائع سے 15 افراد کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ حالانکہ ریاست کے ڈی جے پی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مہلوکین کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ احتجاجات میں 24 سے زیادہ گاڑیوں کو نظر آتش کیا گیا ہے۔

ریاست میں احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے کئی امکانات ملتوی کردئے گئے ہیں تو وہیں سیکورٹی اہلکار کو شرپسند عناصر سے سختی کے ساتھ نپٹنے کی ہدایت دی گئی ہے۔پولیس کے مطابق تشدد پھوٹ پڑنے والے اضلاع میں حالات پرامن ہیں۔ راجدھانی لکھنؤ میں جمعرات کو ہوئے تشدد میں املاک کو ہوئے نقصان کا پی ڈبلیو ڈی محکمے نے تخمینہ لگانا شروع کردیا ہے اور مصدقہ ذرائع سے نشان زد افراد جو اس تشدد میں ملوث تھے ان کے نام کی نوٹس جاری کی جارہی ہے۔ تشدد میں ہوئے نقصان کی تلافی اس میں ملوث شرپسند عناصر سے کی جائےگی۔

ڈائرکٹر جنرل آف پولیس نے کہا کہ 19 دسمبر کو لکھنؤ میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں 218 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جس میں چھ مغربی بنگال کے مالدہ کے رہنے والے ہیں۔ ڈی جی پی کے مطابق ان افراد کو بنگال سے خصوصی طور سے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد کے خلاف راسوکا کے تحت کاروائی کی جائےگی۔ پولیس کسی بھی بے قصور کو گرفتار نہیں کرے گی۔ڈی جی پی کے مطابق ابھی تک اس معاملے میں پوری ریاست میں آٹھ ہزار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تقریبا ایک ہزار افرا کو گرفتار کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کئے جارہے ہیں۔ لیکن یوپی میں جمعرات سے شروع ہونے والے احتجاج تشدد کی شکل ااختیار کرتے چلے گئے۔جمعرات کو جہاں راجدھانی لکھنؤ اور سنبھل میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان چھڑپ پتھراؤ ،آگزنی اور پتھراؤ کی خبرین موصول ہوئی تو وہیں جمعہ کو ریاست کے تقریبا 26 اضلاع میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں بعض مقامات پر تشدد کی شکل اختیار کرلی۔ یوپی میں ابھی تک غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق 15 افراد کی موت ہوچکی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close