اترپردیش

یوپی اسمبلی میں ہنگامہ، ایس پی۔کانگریس کا واک آوٹ

اترپردیش اسمبلی میں پرنسپل اپوزیشن سماج وادی پارٹی و کانگریس نے اسمبلی کی کاروائی کے دوران متعدد مسائل پر وقفہ سوالات کے دوران تسلی بخش جواب نہ ملنے پر اسمبلی سے واک آوٹ کیا۔ سماج وادی پارٹی اراکین اسمبلی نے سولر پینل لگائے جانے پر حکومت کی جانب سے دی جانی والی سبسڈی کے سوال پر وزیر توانائی سری کانت شرما کے جواب سےعدم اتفاق کرتے ہوئے واک آوٹ کیا تو وہیں کانگریس نے آوارہ مویشیوں کے ذریعہ کسانوں کی فصلوں کو پہنچائے جارہے نقصان پر اسمبلی کا بائیکاٹ کیا۔

پہلے سوال میں ایس پی اراکین نے الزام لگایا کہ حکومت سولر پاور یونٹس لگوانے والے صارفین/کسانوں کو دی جانے والی سبسڈی کی تفصیلات فراہم نہیں کررہی ہے۔اس کے جواب میں مسٹر شرما نے کہا کہ حکومت ایسے کسان جو پانچ ہارس فاور(ایس پی) کے سولر پمپ لگوار رہے ہیں ان کو 75 فیصدی سبسڈی فراہم کررہی ہے۔ اسی طرح سے حکومت 15000 ہزار روپئے فی ہارس پاور(ایچ پی) اور زیادہ سے زیادہ 30000 ہزار روپئے چھت پر سولر پلانٹ لگانے کے لئے فراہم کررہی ہے۔

حکومت نے یہ بھی دعوی کیا کہ حکومت کی جانب سے بجلی کنکشن کی فراہمی کے لئے بڑے پیمانے پر چلائی گئی مہم کے بعد گذشتہ تین سالوں میں بجلی کے مطالبے میں 54 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ وہیں سجے گرگ(سماج وادی پارٹی) کے مطابق ریاست میں فی کس بجلی خرچ تقریبا 606 یونٹ ہے جو اتراکھنڈ، دہلی، ہریانہ، پنجاب سمیت متعدد ریاستوں سے کم ہے۔ ایس پی کے اراکین لگاتار وزیر سے سوال کرتے رہے اور جب وہ تشفی بخش جواب نہیں دے سکے تو انہوں نے واک آوٹ کرگئے۔

ایک دوسرا سوال کہ آوارہ مویشی کسانوں کے فصلوں کو تباہ کررہے ہیں کے جواب میں ریاستی مویشی پروری کے وزیر چودھری لکشمی نارائن نے آواہ مویشیوں کی جانب سے کسانوں کی فصلوں کو ہونے والے نقصانات کے دعوی کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں گذشتہ سالوں میں زرعی پیداوا میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش،راجستھان سے آوارہ موشیوں کو یوپی میں بھیجنے کا دعوی کرتے ہوئے کانگریس اراکین سے کہا کہ یہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی حکومت ان چیزوں کو روکے۔وزیر کے اس جواب سےعدم مطمئن کانگریس اراکین نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے اسمبلی سے واک آوٹ کیا۔

اپوزیشن لیڈر رام گوند چودھری نے کہا کہ آوارہ مویشیوں سے پریشانیوں کا آغاز بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے شروع ہوا ہے۔ لیکن اس کے جواب میں وزیر نے کہا کہ ان کی حکومت نے دوسری حکومتوں کے میعاد کار کے برخلاف گئوکشی پر پابندی لگائی ہے اور گایوں کو ذبح ہونے سے بچایا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close