اپنا دیشتازہ ترین خبریں

’یوم شہدا‘ کے موقع پر کشمیر میں مکمل ہڑتال، امرناتھ یاترا اور ٹرین سروس معطل

مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے ‘یوم شہدائے کشمیر’ کی مناسبت سے دی گئی ہڑتال اور ‘مزار شہداء نقشبند صاحب چلو’ کال کی وجہ سے ہفتہ کے روز وادی کشمیر کے اطراف واکناف میں معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے۔ حکام نے شہر خاص کے بعض حساس علاقوں میں ممکنہ احتجاجوں کی روک تھام کے لئے پابندیاں عائد کی تھیں۔

واضح رہے کہ 13 جولائی 1931 کو سنٹرل جیل سری نگر کے باہر ڈوگرہ پولیس کی فائرنگ میں 22 کشمیر مارے گئے تھے اور تب سے مسلسل جموں وکشمیر میں 13 جولائی کو سرکاری سطح پر بحیثیت ‘یوم شہداء’ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 13 جولائی کشمیر کی گزشتہ 86 برسوں کی تاریخ کا واحد ایسا دن ہیں جس کو سبھی مکتب ہائے فکر سے تعلق رکھنے والی جماعتیں مناتی آئی ہیں۔ جموں وکشمیر میں اس دن سرکاری طور پر تعطیل ہوتی ہے۔

وادی کشمیر کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران بالخصوص ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مزار شہداء پر حاضری دیکر 13 جولائی 1931ء کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے علاوہ سرکاری عہدیداروں بشمول گورنر ستیہ پال ملک کے صلاح کار خورشید احمد گنائی نے مزار شہداء پر حاضری دیکر ‘شہدائے کشمیر’ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے ‘مزار شہداء’ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا تھا، جبکہ ان پر سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ہفتہ کے روز سری نگر کے بازاروں میں تمام دکانیں بند رہنے اور سڑکوں سے ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل معطل رہنے کے باعث ہو کا عالم طاری رہا۔ علاوہ ازیں وادی کے دیگر جملہ ضلع وتحصیل صدر مقامات میں بھی مکمل ہڑتال رہنے کی اطلاعات ہیں۔ جہاں جنوبی کشمیر چاروں اضلاع میں ہڑتال کی وجہ سے بازار و سڑکیں سنساں رہیں وہیں شمالی وسطی کشمیر کے اضلاع میں بھی یوم شہداء کے موقع پر بازاروں میں دن بھر الو بولتے رہے۔ ادھر حکام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی ‘مزار شہداء نقشبند صاحب’ چلو کال کے پیش نظر شہر خاص کے بعض حساس علاقوں میں پابندیاں عائد کی تھیں۔نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد جمعہ سے ہی مقفل ہے اور اس کے دروازے ہفتہ کے روز بھی مسلسل مقفل رہے جامع کے گرد وپیش بھی سکورٹی فورسز کی نفری کو بھاری تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔

حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کی سرگرمیوں کے گڑھ کے بطو مشہور جامع مسجد کی طرف کسی بھی شخص کو جانے کی اجازت نہیں جارہی تھی۔حکام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے مزار شہدا چلو کال کو ناکام بنانے کے لئے جہاں بندشیں عائد کی تھیں وہیں میرواعظ عمر فاروق کو نگین میں واقع اپنی رہائش گاہ پر خانہ نظر بند رکھا گیا تھا جبکہ بزرگ حریت لیڈر سید علی گیلانی گزشتہ قریب ایک دہائی سے حیدر پورہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر مسلسل خانہ نظر بند ہیں۔ حریت کے بیشتر لیڈران ملک کے مختلف جیلوں بالخصوص تہاڑ جیل میں پہلے ہی مقید ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close