آئینۂ عالمتازہ ترین خبریں

یمن کے الحدیدہ میں تشدد سے ہزاروں افراد کی زندگی خطرے میں: اقوام متحدہ

یمن کے بندرگاہی شہر الحدیدہ میں تازہ تشدد سے ہزاروں افراد کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے، جہاں تشدد بھڑکنے کی وجہ سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزيشن (ڈبلیو ایچ او) کو متاثرین تک ضروری طبی امداد لے کر پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد المنضری نے ایک بیان میں کہا کہ الحدیدہ میں پر تشدد جھڑپیں اب اسپتال کے علاقوں کے نزدیک پہنچ چکی ہیں، جس سے حفاظتی اور طبی عملہ، مریض اور ایمبولینس کی آمد و رفت متاثر ہورہی ہے۔ علاقے میں طبی مراکز کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، جہاں سیکڑوں ضرورتمندوں کو ضرروی علاج نہيں مل پا رہا ہے۔

ڈاکٹر احمد المنضری نے کہا کہ ملک بھر میں صرف 50 فیصد اسپتالوں میں کام ہورہا ہے اور یمن 18 فیصد اضلاع میں کوئي ڈاکٹر تعینات نہيں ہیں۔ ایسی حالت میں ہم تشدد کی زد میں مزید طبی ملازمین کی ہلاکت برداشت نہيں کرسکیں گے یا مزید کسی اسپتال کے بند ہونے کا خطرہ نہيں اٹھا سکیں گے۔ الحدیدہ شہر میں پر تشدد جھڑپيں اسپتالوں کے نزدیک پہنچ گئی ہیں، جن سے طبی ملازمین اور مريضوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

لڑائی سے الحدیدہ بندرگاہ کو بھی خطرہ در پیش ہے، جہاں سے ملک کی 85 فیصد اشیاء خورد و نوش درآمد ہورہی ہيں۔ یمن کے عوام مسلسل لڑائی کی وجہ سے پہلے ہی قحط کی زد میں ہیں، جہاں پانچ سال سے کم عمر کے 18 لاکھ بچے اور 11 لاکھ حاملہ اور زچہ خواتین نقص تغذیہ کے شکار ہيں۔ انہوں نے بتایا کہ یمن میں ڈبلیو ایچ او کی طرف سے 269 طبی مراکز قائم کئے گئے ہيں اور ملک کی 17 گورنریوں میں ڈائریا اور ہیضہ کی روک تھام کے لئے متعدد خصوصی مراکز بنائے گئے ہیں۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close