تازہ ترین خبریںمحاسبہ

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم

محاسبہ…………….سید فیصل علی

لاک ڈاؤن4- کے دوران کورونا متاثرین کی تعداد بے تحاشہ بڑھی ہے، اس دوران 4 دنوں سے لگاتار متاثرین کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے، جمعہ کے روز کورونا متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ بڑھی، اب تک کورونا متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار کو پار کر چکی ہے، کورونا وائرس سے ملک کو کب نجات ملے گی یہ تو اوپر والا ہی جانتا ہے۔ دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال کے مطابق اب تو کورونا کے ساتھ ہی زندگی کی دوڑ میں شامل ہونا ہے، مگر تمام تر لاک ڈاؤن کے باوجود تلنگانہ، کرناٹک اور پنجاب سے لے کر دہلی تک زندگی تھوڑی بہت متحرک نظر آ رہی ہے، کرناٹک میں ٹرینیں چل رہی ہیں، تلنگانہ اور دہلی میں سڑکوں پر گاڑیاں چلنے لگی ہیں اور دکانیں بھی کھلنے لگی ہیں۔ لاک ڈاؤن4- میں تھوڑی بہت راحت نظر آ رہی ہے، مگر ملک کے بیشتر حصے اب بھی لاک ڈاؤن کے سخت شکنجے میں ہیں، وہی نفسانفسی کا عالم ہے، سڑکوں پر نقل مکانی کرنے والوں کا اژدھام ہے، محنت کشوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کا دعویٰ تو ضرور ہو رہا ہے، مگر ان کو لیجانے والی بسوں کو لے کر سیاست بھی گرم ہے، جو افسوس کا مقام ہے۔ دہلی-نوئیڈا سرحد پر پرینکا گاندھی کے ذریعہ مزدوروں کو لے جانے والی سیکڑوں بسیں کھڑی رہ گئیں، لیکن ان کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی، لہولہان قدموں سے مزدور بغل سے گزرتے رہے اور انسانیت شرمسار ہوکر کھڑی تماشہ دیکھتی رہی، ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بے حسی اور بے غیرتی کے اس دور میں انسان انسان کہلانے کا حق بھی کھوتا جا رہا ہے۔

کہتے ہیں کہ جب ملک کسی مسیحا کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو ہر کٹھن دور، ہر مشکل حالات اور ہر پریشان کن گھڑی کو سنبھالنا دشوار نہیں ہوتا اور ہاتھ جب کرشمہ ساز ہوں تو سانپ کا زہر بھی طریاق ہو سکتا ہے، مگر جب باگ ڈور نادانوں کے ہاتھ میں ہو تو شہد بھی نقصاندہ ہو جاتا ہے۔ کورونا کا مقابلہ کرنے کیلئے پہلے مرحلے میں ایک لاکھ 70 ہزارکروڑ کے پیکیج کا اعلان ہوا اور چوتھے مرحلے میں 20 لاکھ کروڑ کے پیکیج کا مزید اعلان ہوا، مگر ایک لاکھ 90 ہزار کروڑ کے راحت پیکیج سے عام لوگوں کو کیا راحت ملی یہ بڑا سوال ہے؟ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ غریبوں اور مزدوروں کو توانائی پہنچانے کے بجائے اس راحت پیکیج سے امیروں اور سرمایہ داروں کی صنعتی صحت کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے اور یہ اجاگر ہوا کہ ملک کا اصل شہری امیر اور سرمایہ دار طبقہ ہے، 80 فیصد غریب عوام اور متوسط طبقہ بالخصوص مزدور تو کیڑے مکوڑے ہیں، جو سڑکوں پر اپنے اپنے گھروں کی طرف رواں دواں ہیں اور اپنی زندگی داؤ پر لگا چکے ہیں، وہ سڑکوں پر کچل کر مریں یا بھوک سے ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے جمعہ کے دن ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اپوزیشن کی 15 جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ مذکورہ بالا امور پر اپنی تشویش کا اظہار کیا، کانفرنسنگ کے ذریعہ گفتگو میں بہار سے آرجے ڈی کے لیڈر تیجسوی یادو اور مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے بھی شامل تھے۔

آج سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم پر اور موبائل فون پر کورونا سے جنگ لڑنے والوں کے سمّان اور دیکھ بھال کی تلقین و تشہیر ہو رہی ہے، مگر ہمدردی کے ایک لفظ بھی ان بے کس مزدوروں اور محنت کشوں کیلئے بولنے والا کوئی نہیں ہے اور نہ ان کے آنسو پوچنے اور زخموں پر مرحم رکھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کوارنٹائن سینٹر میں 55 لاکھ سے زائد لوگوں کی اقامت کی باتیں کہیں جا رہی ہیں، مگر ان کوارنٹائن سینٹروں کی جو حالت ہے، اسے دیکھتے ہوئے ان سینٹروں کو مقام عبرت کہیں تو گریز نہیں، جہاں پر نہ سینی ٹائز ہے، نہ صابن ہے، نہ ماسک ہے اور نہ ہی کھانے کا کوئی بہتر نظام ہے۔ نہ کردہ گناہوں کی پاداش میں قید تنہائی کے شکار کوارنٹائن میں مقیم لوگ بے بسی کا پیکر بنے ہوئے ہیں، حالانکہ ملک کی 26 اور مرکزی تحویل کی 7 ریاستیں کورونا سے متاثرہیں، ملک میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار کو پار کر چکی ہے، راجستھان، تمل ناڈو، گجرات، دہلی اور مہاراشٹر یہ 5 ریاستیں سب سے زیادہ متاثر ہیں، 87 ہزار متاثرین صرف ان 5 ریاستوں میں ہیں اور کل تعداد میں سے 73 فیصد مریض صرف ان 5 ریاستوں میں پائے گئے ہیں، اس لئے کوارنٹائن سینٹر یہاں زیادہ ہیں، مگر کوارنٹائن سینٹر کے تحت راحت پیکیج کا صحیح استعمال ہو رہا ہے یا نہیں؟ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کوارنٹائن سینٹر مقام عبرت بن گئے ہیں، جہاں کے حالات سے لوگ بھاگنے لگے ہیں۔ ممبئی کے ایک سینٹر سے 100 کورونا متاثرین مریضوں کے بھاگنے کی خبریں ہیں۔ کوارنٹائن سینٹروں کی بدحالی میں یوپی اور بہار سب سے آگے ہیں، بہار کی حالت تو مت پوچھئے یہاں نہ تو مشتبہ افراد کو رکھنے کیلئے کوئی خاص نظم ہے اور کتنی تعداد میں کوارنٹائن سینٹر چل رہے ہیں، اس کا بھی پتہ نہیں چل پا رہا ہے۔ مزدوروں کی نقل مکانی کے باوجود انہیں رکھنے کا کوئی خاکہ نظر نہیں آرہا ہے۔ کہنے کو تو بہار میں 5 لاکھ 84 ہزار افراد کو کوارنٹائن کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، مگر یہ افراد کتنے سینٹروں میں ہیں کچھ پتہ نہیں ہے۔ کیا زیادہ تر کوارنٹائن سینٹر صرف کاغذی طور پر چل رہے ہیں یہ بڑا سوال ہے؟ ستم ظریفی تو یہ بھی ہے کہ بہار میں جو کوارنٹائن سینٹر نظر بھی آ رہے ہیں، ان کی حالت کیا کہئے! شیوہر کے ’کچھ مولیا‘ گاؤں کے کوارنٹائن سینٹر میں 52 افراد پر صرف ایک بالٹی استعمال کیلئے دی گئی ہے، اسی طرح ارریا، سمستی پور وغیرہ کے کوارنٹائن سینٹر نشان عبرت بنے ہوئے ہیں، وہاں مقیم افراد بھوک اور پیاس کی وجہ سے وہاں سے بھاگنے پر مجبور ہیں۔

غور طلب ہے کہ کوارنٹائن سینٹروں پر فی کس 2440 روپے خرچ کئے جانے کا نظم ہے، جس کے تحت 600 روپے خوارک کیلئے دیئے جاتے ہیں، جس میں 100 روپے کا بریک فاسٹ، 180 روپے لنچ، 180روپے ڈنر، 80روپے کا منرل واٹر، 60 روپے کی شام کی چائے کے علاوہ لانڈری کیلئے 60 خرچ کرنے کا بھی نظم ہے، مگر کیا کوارنٹائن سینٹروں میں رکھے جانے والے لوگوں کو یہ سہولت حاصل ہے؟ ستم تو یہ ہے کہ نتیش کمار مزدوروں کی نقل مکانی سے لے کر کوارنٹائن سینٹروں کی بدحالی تک تمام امور میں کان میں تیل ڈالے ہوئے بے حسی کی چادر اوڑھ کر سو رہے ہیں اور کورونا کے طوفان کے گزرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ دہلی، پنجا، مہاراشٹر اور گجرات سے لاکھوں مزدوروں کی واپسی ہو رہی ہے، انہیں کہاں رکھا جائے، کیسے لایا جائے، کیا سہولتیں دی جائیں؟ اس پر غور کرنے کی بالکل بھی فرصت نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن کے درمیان اس بات کا بھی عقبہ کھل گیا ہے کہ تمام تر تہذیبی عروج کے باوجود آج بھی ملک میں دولت طاقت کی حکمرانی ہے، دومہینے کی قیدتنہائی میں انسان انسان سے دور رہ کر کتنا عجیب ہوگیا ہے، انسانی ہمدردی اور ضمیر کی آواز جانے کہاں چھپ گئی ہے، ہر سمت بے حسی اور بے غیرتی کا منظرنامہ ابھر رہا ہے، سماج بھی دوحصوں میں بٹ گیا ہے۔ کوارنٹائن سینٹروں میں غیرانسانی ثبوت کو تو چھوڑیئے، دہلی، پنجاب مہاراشٹر اور گجرات سے آنے والے مزدوروں کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک جاری ہے، طویل سفر کے دوران وہ دھتکارے جا رہے ہیں، اپنے گاؤں پہنچ کر بھی انہیں سکون نہیں مل رہا ہے، گاؤں والے ہی انہیں گاؤں میں داخل نہیں ہونے دے رہے ہیں۔ سیمانچل کے بیشتر علاقوں میں آنے والے مزدوروں کو گاؤں کی سرحد پر ہی روک دیا گیا، ممبئی احمدآباد اور ریواڑی سے لوٹے مزدوروں کے واسطے ان کے گھر کی خواتین نے ہی دروازے بند کرلئے اور وہ بغل کے آم کے باغ میں کوارنٹائن کر دیئے گئے۔

بہرحال لاک ڈاؤن کے شکنجے کے درمیان ماہ صیام بھی گزر گیا، بھلے ہی اس ماہ مقدس میں مسجدیں ویران رہیں، تراویح اور تلاوت قرآن کی روح پرور آوازیں نہیں ابھریں، رمضان میں بازروں کی رونقیں معدوم رہیں، مگر اس دوران ہر مسلمان خدا کی رحمتوں اور فضیلتوں کی حصولیابی میں پیچھے نہیں رہا، ماہ رمضان ایک طرح سے خدا کو پالینے اور گناہوں کے بخشش کا مہینہ ہے، خدا سے اس تعلق کے نتیجے میں یقینا پرودگار عالم اس ماہ مقدس کی برکت و فضیلت سے ملک کو کورونا کے شکنجے سے نجات دلائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ مالک کائنات عید کی خوشیوں سے محروم ہر مومن کو عید کی خوشیوں سے زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔ وقت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ عید کی اجتماعی نماز کا اہتمام نہ کیا جائے، بلکہ گھر میں ہی عید منائی جائے تاکہ شرپسندوں اور میڈیا کو مسلم دشمنی کا موقع نہ ملے اور کورونا کے خلاف جنگ میں کوئی تساہلی نہ ہو۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں حوصلے اور یقین کے ساتھ زندگی کی دوڑ میں شامل ہونا ہے، کورونا کیخلاف جنگ جاری رہے گی اور زندگی کی جد و جہد بھی جاری رہے گی۔ تاریکی چاہے کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، مگر اس کو کہیں نہ کہیں روشنی کے آگے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑتے ہیں، کورونا کے تاریک دور کے بعد سحر یقینی ہے۔ بقول علامہ اقبال:

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زِندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

 

([email protected])

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close