تازہ ترین خبریںدلی نامہ

’ہوم آئسولیشن کے پرانے نظام کو نافذ کیا جائے‘

نائب وزیر اعلی کا ایل جی کو مکتوب، کورٹائن سینٹر میں ٹیسٹ سے لوگ پریشان، کورونا میں ہو رہا ہے اضافہ

نئی دہلی(انور حسین جعفری)
دہلی میں کورونا کے بڑھتے اثر کو دیکھتے ہوئے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے آج ایل جی انل بیجل کو ایک خط لکھ کر دہلی میں ہوم آئسولیشن کے پرانے نظام کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین کے کورونا متاثر ہونے پر وزارت صحت کا اضافی چارج سنبھالے ہوئے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے پریس کانفرنس میں کہاکہ کورونا کے ہر مریض کو کورنٹائن سینٹر جاکر ٹیسٹ کرانے کی لازمیت سے دہلی میں افراتفری پھیل رہی ہے۔ اس سے راجدھانی میں کورنا وبا مزید پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اسی لئے ایل جی انل بیجل سے خط لکھ کر ہوم آئسو لیشن کے پرانے نظام کو نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جس کے تحت حکومت کی طبی ٹیمیں گھروں میں جاکر لوگوں کے ٹیسٹ کرسکیں اور ضرورت کے مطابق ہی انہیں ہوم آئسولیشن یا اسپتال جانے کی صلاح دے سکیں۔

منیش سسودیا نے کہاکہ لوگوں کو دہلی میں ہوم آئسولیشن کئے جانے سے پہلے جو نظام بنایا ہے اس میں بہت سی پریشانیاں آ رہی ہیں۔ ایل جی نے اب جو نیا نظام تشکیل دیا ہے اس میں ہر کورونا مریض کو کوارنٹائن سینٹر جانا پڑے گا۔ وہیں اس کا ٹیسٹ ہوگا اور تب یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ اس شخص کو ہوم آئسولیشن میں رکھا جائگا تو اسے بھیج دیا جائے گا اور اگر کوئی علامت ہے اور اسے کورنٹائن سینٹر میں رکھنے کیلئے وہیں روک لیا جائے گا۔ اس سے لوگوں کے سامنے ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے کورونا پازیٹیو آتے ہی کنفیوزن ہو گی کہ اگرچہ اس میں علامت نہیں بھی ہیں تو بھی انہیں کوارنٹائن سنٹر جانا پڑے گا۔ اگر وہ نہیں جاتے ہیں تو انہیں پولیس اور انتظامیہ کا فون آتا ہے۔ جس سے آس پاس کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ لوگ گھبرا رہے ہیں۔

نائب وزیر اعلی نے کہا کہ پہلے ایل جی نے ہوم آئسولیشن کو ختم کرنے کا حکم جاری کیا۔ بہت کوشش کے ساتھ ہم نے ہوم آئسولیشن کو بحال کیا ہے، لیکن اب کوارنٹائن سینٹر جانے کی مجبوری کے نئے نظام کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج تمام میڈیا رپورٹس یہ کہہ رہی ہیں کہ پوری دہلی کے لوگ بہت افسردہ ہیں۔ کورونا کا جو بھی نیا مریض دہلی آرہا ہے، اسے اپنی بیماری کی نہیں بلکہ اس بات کی فکر ہے کہ اسے کورنٹائن سینٹر جاکر لائن لگاکر اپنا ٹیسٹ کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمبولینس پہلے اس شخص کو لیکر جائے جو بہت بیمار ہے۔ اس نئے سسٹم کی وجہ سے، ایمبولینس سسٹم پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے اور لوگوں میں افراتفری ہے۔

نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا کہ ان پریشانیوں کے پیش نظر ہی میں نے ایل جی کو ایک خط لکھا ہے کہ پرانے نظام میں حکومت کی میڈیکل ٹیم گھر جاتی تھی، جانچ کرتی تھی، کوئی علامت نہ ہونے پر گھر پر ہی رہنے کا مشورہ دیتے تھے اور اگر کوئی علامت ہوتی ہے تو وہ اسے اسپتال جانے کو کہتے ہیں۔ دہلی میں دوبارہ اسی نظام کو نافذ کیا جانا چاہئے۔ اس نظام پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے دہلی میں کافی پریشانی بڑھ رہی ہے، روزانہ تین ہزار افراد کورونا پازیٹیو نکل رہے ہیں۔ اگر روزانہ تین ہزار افراد کو کوارنٹائن سینٹر کے سامنے کھڑا ہونا پڑا تو اس سے مریضوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

منیش سسودیا نے امید ظاہر کی کہ ایل جی جلد ہی اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی میٹنگ طلب کریں گے۔ ہم نے ان سے جلد ہی ایس ڈی ایم اے کا اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے اور نیا حکم تبدیل کرنے اور لوگوں کی پریشانی دور کرنے کی درخواست کی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close