اپنا دیشتازہ ترین خبریں

ہند-چین تنازعہ: ایل اے سی سے فوجی دستے پیچھے ہٹانے پر متفق

یاد رہے کہ گذشتہ 15جون کو دونوں ممالک کے افواج کے درمیان وادی گلوان میں پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی جس سے سرحد پر کشیدگی مزید گہری ہوگئی تھی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے وزراء خارجہ نے بات چیت کرکے اس مسئلے کا حل ذمہ داری کے ساتھ کرنے پر زور دیا تھا۔

لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر ہندوستانی اور چینی افواج کے مابین گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصہ سے جاری تعطل اور محدود جھڑپوں کے بعد اتوار کے روز پہلی بار دونوں ممالک کے درمیان ٹیلیفون پر خصوصی نمائندوں کی سطح کی بات چیت ہوئی، جس میں چین نے ہندوستان کے سخت موقف کے سامنے اعتراف کیا کہ ایل اے سی پر آمنے سامنے کھڑے فوجی دستوں کو مکمل طور پر پیچھے ہٹانا اور سرحدی علاقوں میں امن کی بحالی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

سرحدی معاملے پر ہندوستان اور چین کے خصوصی نمائندوں؛ ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اتوار کے روز ہند- چین سرحد کے مغربی سیکٹر میں حالیہ واقعات کے بارے میں کھلے طورپر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس میں مسٹر ڈوبھال نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ چینی فوج کو ہر حال میں ایل اے سی کا احترام کرنا ہوگا۔

وزارت خارجہ کی طرف سے آج جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق ظاہر کیا کہ انہیں سرحد پر امن برقرار رکھنے کے لئے دونوں ممالک کے لیڈروں وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جنپنگ کے درمیان قائم اتفاق رائے کے مطابق آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے سرحد پر قیام امن ضروری ہے۔ یہ بات بھی واضح کی گئی کہ انہیں اختلاف رائے کو تنازعہ نہیں بننے دینا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "دونوں فریقوں کا خیال ہے کہ سرحد پر مکمل امن کے لیے لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) سے متصل علاقوں سے فوج کو پیچھے ہٹانا اور سرحد پر کشیدگی کو کم کرنا ضروری ہے۔ دونوں فریقوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ سرحد پر تناؤ کو کم کرنے کے لئے مرحلہ وار طریقے سے قدم اٹھائے جائيں”۔

بیان کے مطابق انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں فریقین کو لائن آف ایکچول کنٹرول کا سختی سے احترام کرنا چاہئے اور جوں کی توں حالت کو تبدیل کرنے کے لئے یکطرفہ اقدامات نہیں کیے جانے چاہئیں۔ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہونا چاہئے جس سے سرحد پر بد امنی پیدا ہو۔ دونوں خصوصی نمائندوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں طرف کے سفارتی اور فوجی حکام کو مقررہ چینلوں کے ذریعے بات چیت جاری رکھنی چاہئے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں خصوصی نمائندے دو طرفہ معاہدوں اور پروٹوکول کے مطابق سرحد پرمکمل امن بحالی کے لئے بات چیت جاری رکھیں گے۔

دریں اثناء، ذرائع کے مطابق 29 جون کو دونوں افواج کے کورکمانڈروں کے درمیان ہونے والی بات چیت اور شرطوں کے مطابق دونوں ممالک کے فوجی دستوں نے آج وادی گلوان سے پیچھے ہٹنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ ذرائع نے یہاں بتایا کہ وادی گلوان میں پٹرول پوائنٹ-14 سے چین کی فوج کو ٹینٹ اور دیگر اشیاء کو ہٹاتے دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلوان اور گوگرہ علاقوں میں چینی فوج اور گاڑیوں کی سرگرمیاں دیکھی گئیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ چینی فوجی کتنی دور تک پیچھے ہٹے ہیں۔ دونوں افواج کے درمیان پٹرول پوائنٹ 14 پر ہی پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی جس میں ایک کرنل سمیت ہندوستان کے 20 فوجی شہید ہوگئے تھے۔ چین کے بھی بڑی تعداد میں فوجی مارے گئے تھے حالانکہ اس نے اس بارے میں یقینی تعداد نہیں بتائی تھی۔

ذرائع نے کہا کہ ہند چین فوج کی سرگرمیوں پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور آنے والے وقت میں زمینی حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔ دونوں افواج کے کور کمانڈروں کے درمیان گذشتہ 29 جون کومیراتھن میٹنگ ہوئی تھی اور اس میں ان کے درمیان باہمی پیچھے ہٹنے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس میٹنگ میں ٹکراو کے سبھی مقامات سے فوجیوں کو پیچھے ہٹانے کے طورطریقوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ گذشتہ 15جون کو دونوں ممالک کے افواج کے درمیان وادی گلوان میں پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی جس سے سرحد پر کشیدگی مزید گہری ہوگئی تھی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے وزراء خارجہ نے بات چیت کرکے اس مسئلے کا حل ذمہ داری کے ساتھ کرنے پر زور دیا تھا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close