تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

ہندوسینا کی غنڈہ گردی، تلواروں کے زور پر بند کروائیں گوشت کی دکانیں

(انور حسین جعفری)
ایک جانب جہاں ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کو مسلم عرب ممالک (متحدہ عرب امارات) کی جانب سے سب سے بڑے اعزاز ہائیسٹ سویلین ایوارڈ سے نوازا گیا. وہیں دوسری جانب مودی حکومت کے راج میں ہندوستان میں شر پسندوں کی جانب سے مذہب کے نام پر مسلم طبقہ کو نشانہ بنایا جانا جاری ہے

حال ہی میں ہولی کے روز ہریانہ کے گروگرام میں ایک مسلم خاندان کو بیہمانہ طور پر لاٹھی ڈنڈوں سے پیٹے جانے کے بعد گروگرام میں ہی شدت پسندوں کی جانب سے تلواروں اور ہتھیاروں کے زور پر گوشت کی دکانیں بند کروانے کا تازہ واقعہ پیش آیا ہے جہاں شرپسندوں نے کھلے عام تلواریں لہراتے ہوئے مختلف علاقوں میں گوشت کی دکانیں بند کروائیں.

بتا دیں کہ ہندوسینا کے کارکن مبینہ طور سے گروگرام میں تلواروں کے بل پر قریب 12گوشت کی دوکانیں بند کروا دیں۔ تلوار، لاٹھی-ڈنڈے سے مسلح کارکنان نوراتری پر گوشت کے فروختگی کی مخالفت کررہے تھے۔ کارکنان نے ڈونڈاہیڑا، سرہول، مولاہیڈ، گڑگاؤں، راجیندرپارک، بہرام پور، کادی پور، وغیرہ مقامات پر گوشت کی دوکانوں کو بند کروایا۔

اس کی وجہ سے کچھ مقامات پر ان کی دوکانداروں سے جھڑپ بھی ہوئی۔ ہندوسینا کے کے ریاستی صدر ریتو راج نے کہا کہ ہم نے 3 اپریل کو میمورنڈم سونپا، نوراترمیں گوشت کی دوکانیں بند کرانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن کوئی قدم نہیں اٹھایاگیا۔ اس لئے ہمیں مجبوراً سڑکوں پر اترناپڑا۔ تلوار کے ساتھ مظاہرہ کرنے معاملے پر راج نے کہا کہ اس کا پیغام کسی کو خوفزدہ کرنا نہیں تھا۔ وہیں گروگرام کے نائب کمشنر امت کھتری نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جن لوگوں نے قانون توڑا ، پولیس ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close