تازہ ترین خبریںدلی نامہ

ہماری پسماندگی کی وجہ تعلیم سے دوری: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

مشن ایجوکیشن کی جانب سے ’عوام روبرو حکام سے‘ کے عنوان سے’شہری حقوق کانفرنس‘ کا انعقاد

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
عوام کو حکام سے روبرو کرانے اور ان کے مسائل کے حل کی غرض سے تعلیم کے فروغ کیلئے سر گرم تنظیم مشن ایجو کیشن کی جانب سے ’عوام روبرو حکام سے‘ کے عنوان سے’شہری حقوق کا نفرنس‘ کا انعقاد ایوان غاب میں کیا گیا۔ جس کی صدارت دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کی۔ جبکہ مہمان زی وقار کے طور پر دہلی خواتین کمیشن کی رکن فردوس خان نے شر کت کی۔

پرو گرام میں مشن ایجوکیشن کی جانب سے اقلیتی کمیشن کی اسکیموں اور پالیسیوں کے تعلق سے ایک سوینیر کا چیئرمین ظفر الاسلام خان اور مہمانوں کے ہاتھوں اجرا کیا گیا۔ ساتھ ہی مشن کی جانب سے سماجی خدمات کے میدان میں نمایاں کارکردگی نبھانے کے لئے عمران خان چیئرمین مولانا آزاد فاؤنڈیشن، انیس فاطمہ صدر رائٹ وے آرگنائزیشن، مہرالنساء صدر جن کلیان مہیلا سمیتی اور بدر جہاں جنرل سکریٹری مشن ایجوکیشن کو اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

پرو گرام کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہاکہ شہری حقوق یہ ہے کہ جہاں پالیسیاں بنائی جا تی ہیں وہاں ہماری موجود گی ہو۔ لیکن اس کیلئے جد و جہد اور محنت کی ضرورت ہے اور یہ صرف تعلیم سے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری پسماندگی کی وجہ تعلیم سے دوری ہے۔جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں کی سیاست کو ہم اگر نہیں سمجھیں گے تو ترقی کیسے ممکن ہے۔ڈاکٹر ظفر الاسلام کان نے کہاکہ تعلیم کیلئے ایک صحیح فیصلہ ترقی کی را ہیں ہموار کر تا ہے۔اگر ہم تعلیم یافتہ ہیں تو کوئی طاقت ہمیں ترقی کر نے سے نہیں رو ک سکتی۔ڈاکٹرظفر الاسلام خان نے کہا کہ دہلی اقلیتی کمیشن، اقلیتوں اور سرکاری محکموں کے بیچ میں نگراں ادارہ ہے جو آپ کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر کارروائی کرتا ہے۔

اس موقع پر مشن ایجوکیشن کی تحریک و کارگزاری کا تعارف کراتے ہوئے مشن ایجوکیشن کے صدر شفیع دہلوی ممبر مشاورتی کمیٹی اقلیتی کمیشن دہلی نے کہا کہ عوام کے بیچ میں سماجی کارکنوں کو انہیں بیدار کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے مشن ایجوکیشن کی جانب سے لگائے گئے شکایتی کیمپوں میں جمع کی گئی شکایتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کا میٹر، راشن کارڈ، مکان کے کرائے کی رسید، مختلف قسم کے سرٹیفکیٹ کی حصولیابی اور تعلیم کے تعلق سے لوگ مختلف قسم کی پریشانی سے دوچار ہیں۔

انہوں نے کہا لوگوں کی خواہش ہے کہ جہاں سرکار تعلیم کے اوپر لاکھوں روپیہ خرچ کرتی ہے تو اسکولوں کے چھٹی کے بعد خالی کلاس روم ٹیوشن اور کوچنگ کے لئے استعمال کئے جائیں۔ جس سے طلبہ میں ٹیوشن میں بھی کلاس روم جیسا ماحول ملے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، پانی، بجلی اور روزگار عوام کے شہری اور بنیادی حقوق ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان بنیادی چیزوں پر توجہ دے اور راشن کارڈ کی فراہمی تعلیم اور بجلی کی فراہمی کے طریقہ کار کو آسان کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی کے تمام ایس ڈی ایم آفس میں دستاویز سے متعلق شرائط اور ضرورتی کاغذات کی تفصیل کی تشہیر کی جائے اور تمام ایس ڈی ایم کو باور کرایا جائے کہ پوری دہلی میں تمام امور کے لئے دہلی سرکار کا مرکزی نوٹیفکیشن لاگو کیا جائے۔

اس موقع پر خواتین کمیشن کی ممبر فردوس خان نے خواتین کمیشن کی کارگزاری پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے اندر اعتماد پیدا کریں اور جہاں کہیں آپ کے ساتھ نانصافی ہوتی ہے وومین کمیشن سے رجوع کریں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ مشن کی جنرل سکریٹری بدرجہاں نے شکریہ کی تحریک پیش کی اور کہا کہ یہ عوامی پروگرام اس تحریک کی کڑی ہے جو مشن ایجوکیشن نے عوامی بیداری کے لئے شروع کی تھی اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

کانفرنس میں مشن ایجو کیشن کے نائب صدرفضل الرحمن قریشی، خازن حسنین اختر منصوری سمیت خصوصی طور پر معززین شہر حاجی ادریس خان، فاروق انجینئر، جمیل انجم دہلوی، سابق پرنسپل مشتاق بیگ، دہلی حج کمیٹی کے سابق رکن نصیر الدین سیفی، عبدالنعیم، پروفیسر واشنے، انیس درّانی نے شرکت کی۔ پروگرام کو کامیاب کرانے میں حسنین اختر منصوری، محمد صابر فاروقی، محمد صغیر، اسد آزاد، اسد میاں، خضر حیات، محمد صابرین، برہان کریم، حافظ اکمل نے نمایا رول ادا کیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close