تازہ ترین خبریںدلی نامہ

ہمارا ہدف 100دنوں میں وقف املاک کو 100فیصد ڈیجیٹل کرنا ہے: مختار عباس نقوی

مرکزی وقف کونسل کی قومی کانفرنس میں وقف املاک کا بہتر استعمال کرنے والے 7 متولیوں کو اعزاز سے نوازا گیا

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور اور سینٹرل وقف کونسل کے چیئر مین مختار عباس نقوی نے آج کہاکہ وقف املاک کے متولیوں پر یہ الزام لگتا تھا کہ وہ غلط کرتے ہیں لیکن جو اچھے کام کرتے ہیں ان کو انعام نہیں دیا جاتا۔ لیکن ہم نے طے کیا کہ جو وقف املاک کی صحیح دیکھ بھال ان کا استعمال سماجی ترقی فلاحی اور تعلیمی کام کیلئے کر رہے ہیں، ہم ان کو ایوارڈ دیں گے۔ تاکہ ملک کے دوسرے حصوں میں وقف املاک کا صحیح استعمال ہو اور وقف بورڈ اور متولیوں کو اس سے حوصلہ ملے۔

مرکزی وزیر مختار عباس نقوی آج وقف املاک کے تحفظ اور اور اس کے صحیح استعمال کیلئے بنائی گئی اسکیموں کا جائزہ لینے کیلئے این ڈی ایم سی کنوینشن ہال میں منعقدہ مرکزی وقف کونسل کی قومی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر مرکزی اقلیتی وزیر اور سینٹرل وقف کونسل کے چیئر مین مختار عباس نقوی نے ملک بھر میں موجود وقف املاک کی صحیح دیکھ بھال کرنے اور ان املاک کے ذریعہ فلاحی کام انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے قومی وقف بورڈ ترقیاتی اسکیم کے تحت ملک کے مختلف علاقوں کے 7وقف متولیوں کو اعزاز سے نوازا۔

وزیر موصوف نے ایوارڈ یافتہ گان کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی وقف بورڈوں کے بہتر کام کے سبب آئندہ سال ایوڑڈیز کی تعداد زیادہ ہوگی۔ جن متولیوں کو ایوارڈ دیا گیا، ان میں ہریانہ وقف بورڈ، درگاہ سید سالار (بہرائچ)، درگاہ حضرت حاجی عبدالرحمن شاہ سیلانی بابا (مہاراشٹر)، مسلم آرفینس (کرناٹک)، درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز (گل برگا کرناٹک) کیرلا کے ایک ادارے اور درگاہ سید شاہ عنایت حسین بخش (بھاگلپور) کے نمائندوں کو شال پہناکر اور پہلا انعام ایک لاکھ روپے اور دیگر 75ہزار روپے کا چیک سند اور شیلڈ پیش کی گئی۔ یہ پہلا موقع ہے جب مرکزی حکومت کی جانب سے وقف املاک کی آمدنی سے سماجی، اقتصادی اور تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کا کام کر نے والے وقف بورڈوں اور متولیوں کو اعزاز سے نواز کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ہو۔

اس موقع پر اقلیتی وزارت کے سیکرٹری سیلیش، ایڈشنل سکریٹری ایس کے برمن، جوائنٹ سکریٹری جان عالم، مرکزی وقف کونسل کے سکریٹر یا یس اے ایس نقوی اور کونسل کے ارکان، وزارت کے سینئر افسران سمیت ملک بھر کے ریاستی وقف بورڈوں کے چیئر مین، سی ای او اور دیگر سینئر افسران بطور خاص موجود تھے۔

اپنے خطاب میں مرکزی اقلیتی وزیر مختار عباس نقوی نے کہاکہ ملک بھر میں موجود وقف املاک کے تحفظ اور اس کے صحیح استعمال کے ساتھ ان جائدادوں کا سو فیصد ڈیجٹیلائزیشن کرانے کی سمت میں مرکزی حکومت تیزی سے کام کر رہی ہے۔ ملک بھر میں 6 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ وقف املاک ہیں، ہم نے طے کیا ہے کہ 100دنوں کے مرکزی حکومت کے ایجنڈے میں ملک بھر کی تمام وقف املاک سو فیصد ڈیجیٹل ہوں یہ ہم نے رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جی آئی ایس میپنگ (جیو گرافک انفورمیشن سسٹم) پر بھی کام چل رہا ہے۔ جو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور آئی آئی ٹی روڑ کی کے ذرئعہ کرائی جا رہی ہے ضرورت پڑی دوسرے اداروں کی خدمات بھی لی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ جو وقف بورڈ اس پر کام کو کر رہے ہیں ان کو مالی امداد بھی دی جا رہی ہے۔ جن وقف بورڈ کو پریشانی تھی ان کو 8 افسران بھی مہیا کرائے ہیں، یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ان افسران کی تقرری بھی ریاستی وقف بورڈ سے کرائی ہے۔

مرکزی وزیر نے کہاکہ وزیراعظم جن وکاس پروگرام میں وقف املاک پر اسکول یا سماجی ترقی و فلاح کے لئے کچھ بھی کرنا ہے اس کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہے اس کیلئے وزارت اقلیت کام کر رہی ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی حکومتیں اس میں فائدہ اٹھا رہی ہیں لیکن ریاستی وقف بورڈ اس میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اب تک صرف ہریانہ وقف بورڈ کی جانب سے ہی تجویز موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس میں مرکزی حکومت بورڈ سے کچھ لے نہیں رہی ہے بلکہ صرف بورڈ کو اس کی ترقی کیلئے دے گی۔ وقف بورڈ ہی یہ ادارے قائم کرے اور بورڈ ہی اس کی دیکھ بھال رکھے، مرکزی حکومت صرف بورڈ کی مدد کر رہی ہے۔

مرکزی اقلیتی امور کے وزیرمختار عباس نقوی نے لیز رول پر کہا کہ لیز رول کیلئے ایک کمیٹی بنی تھی جس نے اپنی رپورٹ دیدی ہے، جس پر ریاستی حکومتوں سے ہم نے ان کی رائے طلب کی ہے، جس کے بعد لیز رول کا ہم نفاذ کریں گے، تاکہ وقف جائدادوں کا صحیح استعمال ہو سکے اور تجاوزات سے بھی جائدادوں کو آزاد کرایا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کا مقصد ہے کہ وقف املاک کا 100 فیصد صحیح استعمال ہو سکے۔ آخر میں سینٹرل وقف کونسل کے سکریٹری ایس اے ایس نقوی نے اظہار تشکر کیا۔ جبکہ وقف املاک کے بہتر استعمال کی اسکیموں، مختلف مسائل کے حل اور وقف ایجنڈے پر ریاسٹی وقف بورڈ کے نمائندگان سے گفتگو جاری رہی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close