تازہ ترین خبریںمحاسبہ

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہوگا!

محاسبہ…………….سید فیصل علی

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لاک ڈاؤن کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کورونا کا علاج نہیں ہے، کورونا کا توڑ تو بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ ہے، جس میں حکومت پوری طرح سے ناکام ہے۔ ہارورڈ کے ہیلتھ ایکسپرٹ نے بھی بھارت میں بڑھتے ہوئے کورونا کے متاثرین کی تعداد کو لے کر کہا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو یہ سال کورونا کا مقابلہ کرتے کرتے ہی ختم ہوگا۔ ہیلتھ ایکسپرٹ نے ’ہائی رِسک ایریا‘ میں ٹیسٹنگ بڑھانے کی صلاح دی ہے اور کہا ہے کہ کورونا پر کنٹرول کرنے کیلئے بھارت کو 50 سے 60 کروڑ ویکسین کی ضرورت پڑے گی، مگر یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ مہاراشٹر اور گجرات ’ہائی رسک خطے‘ ہیں، جہاں ٹیسٹنگ کی رفتار بڑھانے کی شدید ضرورت ہے، لیکن مہاراشٹر جو کہ کورونا کا سب سے زیادہ متاثر اسٹیٹ ہے، وہاں کے 36 اضلاع میں سے 20 اضلاع ٹیسٹ لیب سے محروم ہیں، حتیٰ کہ وکاس ماڈل کہے جانے والے گجرات کے 35 اضلاع میں سے 23 اضلاع میں ٹیسٹنگ لیب کا کوئی بھی نظم نہیں ہے۔ سونے پہ سہاگا یہ ہے کہ گجرات، مدھیہ پردیش اور بہار ایسی ریاستیں ہیں، جہاں ٹیسٹنگ کی رفتار کچھوے کی چال چل رہی ہے، وہاں 2 ہزار سے زائد یومیہ ٹیسٹ بھی نہیں ہو رہے ہیں۔ ملک کے 531 اضلاع میں ٹیسٹنگ کیلئے لیبارٹری ہی نہیں ہے، ایسے میں کورونا پر کنٹرول کیسے ہوگا یہ ایک بڑا سوال ہے۔ حالانکہ مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے وضاحت کی ہے کہ کورونا کے علاج کیلئے 14 ویکسین پر کام چل رہا ہے، جس میں 4 ایڈوانس حالت میں ہیں، کیونکہ کورونا کیلئے سوشل اور فزیکل ڈسٹینس ہی سب سے بڑا ویکسین ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں سوشل وفزیکل ڈسٹینسنگ کا فارمولہ کامیاب ہے؟

بی جے پی مودی حکومت 2-کی پہلی سالگرہ منا رہی ہے اور کورونا کا مقابلہ کرنے کے معاملے میں اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے، جبکہ ملک میں تمام تر تالابندی کے باوجود مریضوں کی تعداد تقریباً 7ہزار یومیہ بڑھ رہی ہے، ایسے میں لاک ڈاؤن کے خاتمے کی باتیں تو ہو رہی ہیں، لیکن کورونا کے علاج کا کوئی موثر طریقہ نظر نہیں آرہا ہے۔ یہ کون سی عقلمندی ہے کہ بھارت کو قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل کوئی انتظام نہیں کیا گیا اور تالابندی کردی گئی۔ مجھے تو حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ جب مریضوں کی تعداد صرف 526 تھی تو بھارت کے گلے میں تالابندی کا طوق ڈال دیا گیا تھا اور اب جیسے جیسے لاک ڈاؤن کی معیاد بڑھتی جا رہی ہے، ویسے ویسے کورونا کی رفتار بھی تیز تر ہوتی جا رہی ہے اور آج یہ تعداد پونے دولاکھ سے اوپر ہوچکی ہے اور کورونا سے اموات کے معاملے میں بھارت نے چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جس طرح نوٹ بندی عجلت میں کی گئی، جی ایس ٹی کا بھی فیصلہ اسی طرح ہوا اور سزا عام لوگوں کو بھگتنی پڑی، اسی طرح لاک ڈاؤن کا فیصلہ بھی بغیر سوچے سمجھے عجلت میں کیا گیا، جس کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے۔ عجلت کاری کا بدترین منظرنامہ یہ ہے کہ 20 کروڑ سے زائد چھوٹے تاجر، چھوٹے صنعت کار اور متوسط طبقہ انتہائی پریشان ہیں اور خاص کر 12کروڑ محنت کش نہ تو گھر کے ہیں ناگھاٹ کے۔ کاش ان محنت کشوں کو گھر پہنچانے کا عمل لاک ڈاؤن سے پہلے کیا گیا ہوتا تو ان میں مایوسی، بدلی نہیں پیدا ہوتی، نہ ہی بھوک پیاس سے تڑپ کران کی موت ہوتی، نہ ہی سڑک حادثات میں وہ اپنی جانیں گنواتے اور پھر وہ واپس لوٹنے کے لئے بھی تیار ہو جاتے۔ لیکن آج حال یہ ہے کہ کل کارخانے و دیگر تجارتی ادارے ان مزدوروں کی نقل مکانی کی وجہ سے ویران ہوگئے ہیں، جی ڈی پی 11 سال میں پہلی بار گراوٹ کی آخری منزل پر ہے۔

ملک میں تالابندی کو دوماہ سے زائد ہوچکے ہیں، جس نے معیشت کا تیاپانچا کردیا ہے، ملک کی نصف آبادی مالی محتاجی کے کگار پر کھڑی ہے، اگر یہی منظرنامہ رہا تو وہ دن دور نہیں، جب آدھا بھارت کاسۂ گدائی لئے ہوئے کھڑا ہوگا، وہ کورونا کے بجائے مفلسی اور بھوک سے برسرپیکار ہوگا۔ کانگریس صدر سونیاگاندھی نے اسی صورتحال کے پیش نظر حکومت سے اپیل کی ہے وہ ملک کے 50فیصد ضرورتمندوں کیلئے فوری فنڈ مہیا کرائے۔ چھوٹی صنعتوں، چھوٹے تاجروں، خاص کر ملک کے 12کروڑ محنت کشوں کو نئی زندگی اور نیا حوصلہ دینے کیلئے فوری اقدامات کرے۔ راہل گاندھی نے بھی کم از کم 6 ماہ تک ملک کی نصف آبادی کیلئے مالی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن مزدوروں کی حالت اور معیشت کی زبوں حالی کو لے کر حکومت کو نیا خاکہ تیار کرنے کا مشورہ دے رہا ہے، مگر بی جے پی کے نقار خانے میں یہ آوازیں سنی کہاں جا رہی ہیں؟ شرمناک عمل تو یہ ہے کہ پوری دنیا میں کورونا نے موت کا ٹانڈو مچا رکھا ہے، مگر زہریلی سیاست اور میڈیا کے پروپیگنڈوں کے تحت کورونا بھارت میں مسلمان قرار دیا گیا، دہلی میں مجنوں کا ٹیلہ، مہرولی کے رادھا شیام مندر تک میں مذہبی جلسے جلوس ہوتے رہے، سورت اور باندرہ سے لے کر دہلی کے آنند وہار تک لاکھوں کا مجمع جمع رہا ہے، سوشل ڈسیٹنسنگ کی دھجیاں اڑتے ہوئے سب نے دیکھا، مگر کورونا کا سارا ٹھیکرا دہلی کے تبلیغی مرکز پر پھوڑا گیا، ٹی وی پر بحث ومباحثے کا دور شروع ہوا، مہاراشٹر، بہار، یوپی وغیرہ کی مسجدوں پر چھاپے مارے گئے، سوشل ڈسٹینسنگ کی خلاف ورزیوں کی خوب خوب ڈفلی بجائی گئی اور آج بھی سوشل ڈسٹینسنگ کو لے کر دو رخی پالیسی چل رہی ہے۔ ایئرپورٹ پر جائیے تو ’وِزِیٹرلانج‘ میں سوشل ڈسٹینسنگ کے تحت ایک فاصلے کے ساتھ عوام نظر آئیں گے، لیکن فلائٹس میں تمام سیٹیں بھری ہوئی نظر آئیں گی۔ ٹرینوں کی حالت تو مزید دیگرگوں ہے، سب سے بری حالت مزدوروں کو لیجانے والی ٹرینوں کی ہے، قومی شاہراہوں پر بھوک پیاس اور حادثوں کا شکار ہونے والے مزدور اب ٹرینوں میں بھی جانوروں کی طرح سفر کرنے پر مجبور ہیں، شدید گرمی اور بھوک پیاس کے سبب موت کے منھ میں جا رہے ہیں، ریلوے اسٹیشنوں پر نہ تو ان کے کھانے کا انتظام ہے اور نہ پانی کا، ان ٹرینوں میں 80 فیصد بہار کے مزدور ہیں۔ مزدوروں کو لیجانے والی ٹرینیں ایک طرح سے موت کی ٹرین ثابت ہو رہی ہیں، یہ ٹرینیں کب اپنی منزل تک پہنچیں گی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سورت سے سیوان جانے والی ٹرین 9دنوں کے بعد اپنی منزل پر پہنچی، امرتسر سے کٹیہار جانے والی ٹرین میں مظفرپور میں ایک بچے کی موت پیاس کی وجہ سے ہوگئی، پنجاب سے بہار جانے والی ٹرین پانچ دنوں کے بعد برونی پہنچی، جس میں ایک عورت سمیت ایک مرد کی موت ہوگئی، گورکھپور جانے والی ٹرین اوڈیشہ کیسے پہنچ گئی یہ بھی ایک بڑا سوال ہے، بنارس اسٹیشن پر بھی کئی مزدوروں کے مرنے کی خبریں ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے مزدوروں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کا ویڈیو جاری کرکے 8 مزدوروں کی ہلاکت کا سوال اٹھایا ہے۔ پٹنہ ہائی کورٹ نے مظفرپور میں بچے کی موت پر ریلوے سے سوال پوچھا ہے۔ ادھر سپریم کورٹ نے بھی مزدوروں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بسوں اور ٹرینوں میں ان کی مفت سفر کی ہدایت دی ہے اور ریاستوں کو بھی کہا ہے کہ وہ مزدوروں کی راحت کاری کا بہتر انتظام کریں۔

بہرحال لاک ڈاؤن4-اپنے آخری مرحلے میں ہے، آگے میعاد بڑھے گی یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے، لاک ڈاؤن تو ضرورہے، لیکن سوشل ڈسٹینسنگ کی دو رخی پالیسی نے خود حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ دہلی میں صنعتی اور تجارتی ادارے کھولنے کی باتیں ہو رہی ہیں، کسی حد تک کچھ ادارے کھل بھی چکے ہیں، مگر سیاست کی یہ کیسی بازی گری ہے کہ یوپی اور ہریانہ کی بی جے پی سرکاروں نے اپنی ریاستوں کی سرحدیں سیل کردی ہیں، نہ آپ نوئیڈا جا سکتے ہیں، نہ گرگاؤں کی طرف جانا ممکن ہے۔ سوشل ڈسٹینسنگ ہی اگر علاج ہے تو پھر اس علاج میں دو پیمانے کیوں؟ لاک ڈاؤن پر دلیل دی جا رہی ہے کہ جان ہے تو جہان ہے، لیکن انسان زندگی کی خاطر نفسیاتی مریض بن جائے اور قید نتہائی اسے ڈپریشن کی دَلدل میں دھکیل دے تو ایسی زندگی کس کام کی؟ آج ملک وبائی ہیجان سے زیادہ اپنے مستقبل کو لیکر پریشان ہے، ایسے میں تالابندی کتنا سود مند ہوگی؟ یہ بھی ایک بڑا سوال ہے، مگر یہ بات سمجھائے کون؟ بقول شاعر:

اب اور بھی ویراں کیا ہوگا، حیران وپریشاں کیا ہوگا
ہرشاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہوگا

 

([email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close