تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

گھوٹكی بہنوں کا زبردستی مذہب تبدیل نہیں کرایا گیا، وہ رہ سکتی ہیں اپنے شوہروں کے ساتھ: پاک عدالت

پاکستان میں صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹكي میں دو ہندو لڑکیوں کے مبینہ طور پر مذہب تبدیل کرکے مسلم نوجوانوں کے ساتھ نکاح کرنے کے معاملہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو دونوں بہنوں کو اپنے شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔

ہائی کورٹ دونوں بہنوں کی اپنے شوہروں کے ساتھ رہنے کی عرضی پر سماعت کر رہا تھا۔ ضلع گھوٹكي کے داهاركي رہنے والی روینہ اور رینا نے گزشتہ ماہ ہائی کورٹ میں پناہ لیتے ہوئے حکومت، پولیس اور ان کے خاندان کی طرف سے ’زبردستی واپس لانے اور پھر زبردستی ہندو مذہب میں تبدیلی‘ سے تحفظ کی فریاد کی تھی۔ دونوں بہنوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے مذہب اسلام اپنا کر شادی کی ہے۔ آج کی سماعت میں ہائی کورٹ نے دونوں فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد دونوں بہنوں کو ان کے شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی. کورٹ نے داخلہ سکریٹری کو دونوں بہنوں اور ان کے شوہروں کی سیکورٹی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے جانچ کمیشن کو 14 مئی تک حتمی رپورٹ دینے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ مذکورہ معاملہ میں عدالت نے دو اپریل کو پانچ رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دی تھی۔ پاکستان میڈیکل سائنس انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ ریڈيولوجي نے ایک طبی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ شادی کے وقت دونوں بہنیں نابالغ نہیں تھیں۔ رپورٹ میں روینہ کی عمر ساڑھے انیس سال اور رینا کی ساڑھے اٹھارہ سال بتائی گئی ہے۔ دونوں بہنوں کی عمر کا پتہ ہڈیوں کے ایکس رے سے لگایا گیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close