تازہ ترین خبریںمحاسبہ

کیوں جیتنے کے بعد بھی لشکر اداس ہے؟

محاسبہ…………….سید فیصل علی

22 اور 23 دسمبر 1949 کی شب سے لے کر 9 نومبر 2019 تک 70 برسوں تک چلنے والی بابری مسجد کی طویل قانونی لڑائی پر عدالت کے فیصلے نے ماہرین قانون، دانشور طبقہ، بلکہ ہرذی شعور کو چونکا دیا ہے۔ کیونکہ کورٹ نے بابری مسجد کی زمین اس فریق کو سونپ دی ہے، جو خود عدالت کی نظر میں غیرقانونی ہے اور بدلے میں الگ سے 5 ایکڑ زمین مسلم فریق کو دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی سمجھ میں نہ آنے والے اس فیصلے پر مسلمانان ہند نے جس طرح سرتسلیم خم کرتے ہوئے صبروتحمل، خاموشی، امن وآشتی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے بھلے ہی میڈیا نے چشم پوشی کی ہے، مگر ملک کے برادران وطن نے نہ صرف ستائش کی ہے، بلکہ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی خاموشی کو صدا بھی دے دی ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مارکنڈے کاٹجونے کہا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے، ملکیت کے بجائے آستھا کو انصاف کا پیمانہ بنایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ہی سابق جسٹس گنگولی کا کہنا ہے کہ فیصلہ آئین کی روشنی میں ہونا چاہیے تھا، جب ملک میں آئین بنا تھا تو مسجد موجود تھی، سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔

سپریم کورٹ کے معروف وکیل لکیشورم نے اس فیصلے کو سیکولرزم کے منافی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کیسا فیصلہ ہے کہ کورٹ نے جسے مجرم سمجھا اسے ہی زمین کا مالک بنا دیا۔ تشار گاندھی نے بڑے رنج وغم کے ساتھ ٹویٹ کیا ہے کہ اگر موجودہ دور میں گاندھی جی کے قتل کا مقدمہ چلتا تو ممکن ہے کہ یہی فیصلہ ہوتا کہ گوڈسے قاتل ضرور ہے، مگر دیش بھکت بھی ہے۔ مسلمانوں کی خاموشی کو صدا دینے والوں میں سینئر صحافی ونود دُوا، آشوتوش، پرسون واجپئی، ارملیش، ابھیشار شرما سے لے کر رویش کمار تک ہندو صحافی مسلمانوں کی آواز بن کر اس فیصلے کو انصاف کی کسوٹی پر پرکھ رہے ہیں۔ مسلمان چپ چپ ہیں، گم صم ہیں، مگر ان کی خاموشی خود ایک آواز بن چکی ہے۔ رویش کمار نے ملک سے سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اپنے ضمیر سے پوچھئے کہ یہ فیصلہ کیسا ہے؟“ ایک طرف ہرذی شعور عدالت کے فیصلے پر ششدر ہے تو دوسری طرف اس معاملے کو دوبارہ سپریم کورٹ لے جانے کی سرگوشیاں بھی ہیں۔ حالانکہ سنی وقف بورڈ نے واضح کردیا ہے کہ وہ ریویوپٹیشن کے لئے سپریم کورٹ نہیں جائے گا۔

بورڈ کے چیئرمین زفر فاروقی کا کہنا ہے کہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ فیصلے کو تسلیم کریں گے تو پھر ریویوپٹیشن کیسی؟ اگر ہم مقدمہ ہارے ہوتے، ڈکری ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتی، پانچ ایکڑ زمین دینے کی بات نہیں ہوتی تو اور بات تھی، لیکن اس کے برعکس بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی ریویوپٹیشن کا اشارہ دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سنی وقف بورڈ ریویوپٹیشن داخل نہیں کرتا ہے تو اس سے مقدمے پر فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ سنی وقف بورڈ نے 1961 میں عرضی داخل کی تھی کہ اسے ریپریزنٹیٹیوسوٹ کا دعویٰ سمجھا جائے، یعنی مسلمانوں کی جانب سے ہندوؤں کے خلاف فریق سمجھا جائے، عدالت نے اس کی اجازت دی تھی، اس لئے اب معاملہ سنی وقف بورڈ کا نہیں ہے، ریویوپٹیشن کوئی بھی داخل کر سکتا ہے۔

مگر سوال تو یہ بھی ہے کہ 70 سالوں سے چلنے والے اس مقدمے میں جو فیصلہ آیا ہے، کیا وہ فیصلہ سات رکنی بینچ میں سماعت کے بعد بدل جائے گا؟ نصف صدی سے ملک نے بے سکونی اور نفرت کا جو عذاب جھیلا ہے، اس فیصلے نے اس عذاب سے نجات تو دلا ہی دی ہے، بھلے ہی یہ فیصلہ آستھا پر مبنی ہے، مگر یہ فیصلہ خود ملک کی جمہوریت اور سیکولرزم کے گلے میں اٹک کر ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی، عدل وقانون کے تئیں تابعداری کی یقین دہانی کراتا رہے گا۔ ریویوپٹیشن کو لے کر جمعیۃ علماء ہند کی منعقد 15-16 نومبر کی میٹنگ بے نتیجہ رہی ہے، اسی ایشو کو لے کر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ آج ہونے جا رہی ہے، 26 نومبر کو سنی وقف بورڈ کی میٹنگ ہونے جا رہی ہے، مگر میٹنگوں کا دور تو ہماری سیاست اور قیادت کی غذا ہے۔ حالانکہ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے بدلے اگر زمین دینے کی بات کی ہے تو وہ زمین لی ہی نہیں جائے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بھی یہی مشورہ سنی وقف بورڈ کو دیا ہے کہ وہ مسجد کو ملنے والی زمین قبول نہ کرے۔ فتح پوری مسجد کے شاہی امام ڈاکٹر مفتی مکرم احمد کا کہنا ہے کہ اگر یہ زمین بابری مسجد کے معاؤضے کے طور پر دی جا رہی ہے تو اسے قبول کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ ہم اسلامی ملک کا حصہ نہیں ہیں، سرکار کے ذریعہ دی گئی زمین پر مسجد کیسے بن سکتی ہے؟ ویسے بھی ایودھیا میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے، وہاں پھر مسجد بنائی جائے اور پھر کوئی تنازع کھڑا ہو جائے۔

بہرحال فیصلے کے بعد ایودھیا کی جو تپش تھی وہ کم ہو رہی ہے، مگر راکھ اب بھی گرم ہے، فیصلہ کے بعد ایک انٹرویو میں ماہر قانون فیضان مصطفیٰ نے بھی اسی خدشہ کا اظہار کیا کہ ایو دھیا کا فیصلہ آگے کے لئے نظیر نہ بن جائے، جس طرح پانچ ایکڑ زمین دے کر بابری مسجد کا حساب چکتا کر دیا گیا، اسی طرح کچھ زمین دے کر متھرا-کاشی کی مسجدوں سے بھی مسلمانوں کی ملکیت کا دعویٰ نہ ختم کر دیا جائے۔ زمین لینے سے مسلمانان ہند کی لیگل اور اخلاقی ہار ہو جائے گی، یعنی آپ نے فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے۔ مسلمانان ہند کی مجبوری ہے کہ حالات سیاست اور قیادت ایسی آگئی ہے کہ وہ غم وغصے کا اظہار بھی نہیں کرسکتے، وہ فیصلے کو تسلیم تو کرسکتے ہیں، مگر اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں، مگر ناخوشی کا اظہار بھی نہیں کرسکتے۔ مگر مکمل طور پر آستھا پر مبنی فیصلے کے باوجود مسلمانان ہند اس گھناؤنے الزام سے بری ہوگئے ہیں کہ بابری مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی تھی۔ آج فسطائی قوتوں کو بھی کورٹ کا فیصلہ آئینہ دکھا رہا ہے کہ 22 اور 23 دسمبر کی شب 1949 میں مسجد میں مورتیاں رکھنا غیرقانونی تھا۔ 6 دسمبر 1992 کو مسجد کا انہدام بھی قانون شکنی ہے، جب سب کچھ قانون شکنی ہی تھا تو پھر قانون شکنوں کے ہاتھوں میں زمین کیوں سونپ دی گئی؟ انصاف کا یہ ہتھوڑا ملک کے باضمیر دلوں پر اِک دھمک ضرور پیدا کرتا رہے گا۔ بقول شاعر:

کیوں جیتنے کے بعد بھی لشکر اداس ہے؟
کیا قتل ہو گیا ہے کسی بے گناہ کا؟

([email protected])

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close