آپ کی آواز

کیا کہہ رہی ہے نبضِ جہاں غور تو کرو

کہتاہوں سچ کہ......ڈاکٹر ماجدؔ دیوبندی

پارلیمانی الیکشن جیسے جیسے قریب آتے جا رہے ہیں، ملک کا ماحول خطرناک حد تک خراب ہوتا جا رہا ہے۔ چاہے سیاسی ہو یا امن و امان کی صورتِ حال، ہر طرف ایک خوفناک فضا بنتی جا رہی ہے۔ امن و شانتی کا یہ ملک کچھ فرقہ پرستوں کی سوچ اور اقتدار کی چاہت میں برباد کیا جا رہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی ریلیوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا حق ہے اور وہ سیاسی طور پر مضبوط ہونا چاہتا ہے۔ اس کو بہر حال جمہوریت کا سہارا ہی لینا پڑتا ہے، جو ہمارے ملک کی پہچان ہے۔ آزادی کے بعد کانگریس زیادہ تر حکومت میں رہی اور اس نے جمہوری اقدار کو آگے بڑھانے اور ملک کو ترقی کی جانب لے جانے میں بے انتہا کام کیا۔

آج ہندوستان دنیا کے چند ترقی یافتہ ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کا سہرا کانگریس کو ہی جاتا ہے۔ جب کوئی حکومت میں رہتا ہے تو اس سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ کانگریس سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں لیکن ان کو ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے ملک تباہی کے دہانے پر جا رہا ہو۔ مسلمانوں کے لیے کانگریس کیوں کچھ کرتی جب خود مسلم رہنما ہندوستانی مسلمانوں کو بے وقوف بناتے رہے اور اپنے ذاتی مفاد میں مست رہے۔ اگر یہ لوگ مسلم قوم کے لیے سنجیدہ ہوتے تو آج مسلم یونیورسٹی، علیگڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی کردار مل چکا ہوتا۔ کاش کانگریس اس کا خیال رکھتی اور بابری مسجد میں مورتی رکھوانے سے لے کر شلانیاس کرانے اور تالا کھلوا کر اس کی شہادت تک کرانے میں شامل نہ ہوتی تو آج مسلمانوں کے ساتھ جو حالات پیش آ رہے ہیں وہ شاید نہ ہوتے۔ کانگریس کی پالیسی مسلمانوں کے لیے روزِ ازل سے غیر سنجیدہ رہی ہے۔ اس کی سوچ صرف یہ رہی:
مسائل حل تو ہو جائیں گے لیکن
مسائل پہلے پیدا کر نے دیجئے

چند سال قبل جب گجرات کے اسمبلی انتخاب ہو رہے تھے تو سری نگر میں ہندو یاتریوں کی بس پر حملہ کیا گیا اور اس سے بہت سی جانیں گئیں۔ پوری دنیا دیکھ رہی تھی کہ الیکشن سے قبل ایسا کیوں ہوتا ہے اور بی جے پی کو دھرم اسی موقع پر یاد کیوں آتا ہے۔ اس سوال کا جواب سب جانتے ہیں لیکن کوئی بولتا نہیں کہ اس پر ملک سے غداری اور مسلمانوں سے ہمدردی کا الزام نہ لگ جائے۔ اس حملے میں بھی کشمیر کے مسلمانوں نے جان کی بازی لگا کر وہاں اپنے ہندو بھائیوں کی جان بچائی اور سچے ہندوستانی ہونے کا ثبوت دیا، جس کو میڈیا نے بہت کم دکھایا۔ ویشنو دیوی کی یاترا میں کشمیر کے مسلمان ہر سال اپنے ہندو بھائیوں کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں، لیکن یہ بکے ہوئے میڈیا کو نظر نہیں آتا۔ اب جیسے ہی پارلیمانی الیکشن قریب آ تے جا رہے ہیں اور بی جے پی کو اپنی سیاسی زمیں کھسکتی نظر آ رہی ہے اس کے رہنما کچھ ایسا کرنے کے فراق میں ہیں جو ملک کو تباہی کی طرف لے جائے لیکن ان کی مذہبی نفرت پھیلانے کی سیاست چمکنے لگے۔

اِدھر حزب اختلاف کے اتحاد نے بی جے پی اور اس کے رہنمائوں کی نیند ایسی اڑائی کہ وہ پریشان پھر رہے تھے کہ پلواما میں دردناک حادثہ ہوا اور ہماری بہادر فوج کے چالیس سے زیادہ جوان ہلاک ہو گئے۔ حملہ اس قدر شدید تھا کہ اس نے کچھ سوچنے کا موقع تک نہیں دیا۔ فدائین حملوں میں یہ حملہ شدید ترین تھا۔ اس موقع پر سارا ملک اپنے فوجیوں کی شہادت کے غم میں شریک تھا اور سبھی سیاسی پارٹیوں نے اپنی ساری سیاسی تقریبات اور پریس کانفرنس تک ملتوی کر دیں لیکن افسوس کہ اس موقع پر بھی بی جے پی اپنی سیاسی دکان چلانے سے باز نہیں آئی اور اخبارات کی ایک اطلاع کے مطابق جب سارا دیش ان شہیدوں کا غم منا رہا تھا اور پاکستان اور ملک دشمن عناصر کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے، اس وقت بھی بی جے پی کے صدر امت شاہ، وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اپنی سیاسی ریلیوں میں مصروف تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کو ملک و قوم اور شہیدوں سے کچھ لینا دینا نہیں، ان کو صرف اور صرف اقتدار چاہئے۔ جو لوگ غم کی اس گھڑی میں بھی اپنی سیاست چمکا رہے ہوں، ان سے ملک کی بہتری کے لئے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ رامپور سے ان کے ایک ایم پی نے شہید فوجیوں کے لیے جو بیان دیا ہے، اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

پورے ملک میں پلواما میں ہوئے شہید فوجیوں کے لیے غم منایا جا رہا تھا اور ہندوستان کے سیکڑوں شہروں اور مدرسوں میں مسلمان پاکستان مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے اور کچھ لوگ جو خود کو دیش بھگت کہتے ہیں، ریلیوں میں مصروف تھے۔ ان کا یہ دوغلہ چہرہ ملک دیکھ رہا ہے اور آنے والے الیکشن کے نتائج میں اس کا بدلہ لینے کا من بنائے بیٹھا ہے۔ پلوامہ میں ہوئے حملے کے خلاف ہر مسلمان کھڑا ہے اور اس نازک گھڑی میں سچے ہندوستانی ہونے کا ثبوت دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی بے حد افسوس کی بات ہے کہ جموں میں بہت تھوڑی تعداد میں رہ رہے مسلمانوں کے گھروں میں بی جے پی اور آرایس ایس کے غنڈے آگ لگا رہے تھے اور مزید افسوس یہ کہ کوئی اخبار یا میڈیا اس بات کو اٹھانے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ سوچنا یہ ہے کہ کیا حالات بنتے ہیں اور اس ملک کی یکجہتی اور سلامتی کے لیے کیا کوششیں کی جاتی ہیں:

کیا کہہ رہی ہے نبضِ جہاں غور تو کرو
اٹھتا ہے کیوں دلوں سے دھواں غور تو کرو
جب ساتھ ہم کو رہنا ہے اس ملک میں تو پھر
کیوں کھو گیا ہے امن و اماں غور تو کرو

(Writer: Dr. Majid Deobandi………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close