تازہ ترین خبریںدلی نامہ

کانگریس اور ’آپ‘ میں اب بھی ہو سکتا ہے اتحاد؟

دہلی کے عوام مختلف زاویوں سے لگا رہے ہیں قیاس آرائیاں

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
کانگریس اور عام آدمی پارٹی کا کیا دہلی میں اب بھی اتحاد ہو سکتا ہے؟ یہ سوال ابھی بھی دہلی کے عوام کے ذہنوں میں گھوم رہا ہے اور مختلف زاویوں سے جوڑ کر قیاس آرایاں لگائی جا رہی ہیں۔ حالانکہ دہلی کی ساتوں سیٹوں کےلئے عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے تمام امیدواروں نے اپنے نامزدگی کے کاغذات داخل کر دیئے ہیں، جن کے نام واپس لینے کی 26 اپریل آخری تاریخ ہے۔ لیکن ناممکن اتحاد کو ایک بار پھر ممکن ثابت کرنے میں لوگ مصروف ہیں۔
دہلی کے مختلف علاقوں میں ابھی بھی عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے اتحاد کا معاملہ زیر بحث ہے۔ گلی محلوں، نکڑوں، چائے خانوں اور مختلف عوامی مقامات پر جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں، بس ایک ہی چرچہ ہے کہ کیا ابھی بھی دہلی میں ’آپ‘ اور کانگریس کا اتحاد ہو سکتا ہے۔ امیدواروں کی جانب سے نامزدگی داخل کرنے کے بعد اتحاد کا طریقہ اور شکل بھی بتا رہے ہیں کہ کس طرح اب اتحاد ہو سکتا ہے۔

پرانی دہلی سمیت دہلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ’اتحاد‘ بحث کا موضوع ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کو اتحاد کے لئے کافی وقت ملا لیکن ان میں اتفاق نہ ہو سکا، لیکن ابھی وقت ہے کہ یہ پارٹیاں اتحاد کر لیں۔ لوگوں کے مطابق کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے امیدواروں نے بھلے ہی اپنی نامزدگی داخل کر دی ہو لیکن اتحاد کرنے کی ابھی گنجائش نام واپس لینے کی آ خری تاریخ تک ہے۔ اگر دونوں پارٹیاں دہلی میں اپنے اتحاد کے فارمولے 4-3 پر اتفاق کرکے اتحاد کے لئے رضامند ہوتی ہیں تو کانگریس اپنے 4 امیدواروں کے نام واپس لے سکتی ہے جبکہ عام آدمی پارٹی اپنے 3 امیدواروں سے نام واپسی کراکر دہلی میں اتحاد کر سکتی ہیں۔ کیوں کہ دہلی میں کاغزات نامزدگی کے بعد اب امیدوار کے نام واپس لینے کی آخری تاریخ تک اب صرف یہی صورت اتحاد کی باقی ہے۔

سیاسی ماہرین کی مانیں اگر کانگریس اور عام آ دمی پارٹی دو نوں دہلی میں اتھاد کر لیتی ہیں تو یہ ممکن ہے کہ ساتوں سیٹوں پر بی جے پی کو شکست اور اتحاد کو فتح حاصل ہو سکتی ہے، لیکن اتحاد نہ ہونے کی صورت میں سہہ رخی مقابلہ ہوگا اور کہیں نہ کہیں عام آدمی پارٹی اور کانگریس کو بڑا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ کیوں کہ دہلی میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی کا ووٹ بینک انٹی بی جے پی ووٹر ہے، جو عام آدمی پارٹی اور کانگریس میں تقسیم ہوگا، اس کے علاوہ کچھ دیگر امیدوار بھی ہوں گے جو ووٹ کاٹیں گے، جبکہ بی جے پی کا اپنا ووٹ بینک ہے جو کسی دو سری پارٹی پر تقسیم نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے امیدواروں کو زیادہ محنت کرنی ہوگی اور جیت کی امید کم ہوگی۔ جبکہ اتحاد میں ایک طرف ووٹ ڈلنے سے اتحادی امیدوار کی جیت یقینی ہو سکتی ہے۔

غرض یہ کہ اب جبکہ کانگریس اور ’آپ‘ امیدوار اپنے پرچے نامزدگی بھی داخل کر چکے ہیں تب بھی دہلی کے عوام ایک آس اور امید میں ہیں کہ شاید 26 تاریخ نام واپس لینے کی تاریخ تک کوئی اتحاد ہو جائے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ دہلی کے لوگ اتحاد کے حق میں ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close