تازہ ترین خبریںمحاسبہ

کیا پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے؟

محاسبہ…………….سید فیصل علی

چالیس دنوں کی دھواں دھار یومیہ سماعت کے بعد بالآخر سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا ہے۔ 70 سال تک چلنے والی قانونی لڑائی میں مسلمانان ہند بابری مسجد کا مقدمہ ہار چکے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے نرموہی اکھاڑے کی ملکیت کے دعوے کو خارج کرتے ہوئے رام للا براجمان اور سنی وقف بورڈ کو ہی فریق تسلیم کیا ہے اور فیصلہ رام للا براجمان کے حق میں سناتے ہوئے زمین اسے سونپ دی ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ایودھیا میں مندر نرمان کے لئے تین ماہ کے اندر ٹرسٹ بنائے، ساتھ ہی ساتھ سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی کہیں 5 ایکڑ زمین مہیا کرائے تاکہ مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاسکے وہ الگ اپنی مسجد بنا سکیں۔

قانونی ما ہرین کا کہنا ہے کہ تا ریخ کے سب سے پرا نے اور پیچیدہ فیصلہ کے تحت ایو دھیا میں متنازع زمین نہ ہندوؤں کو ملی ہے اور نہ مسلمانوں کو دی گئی ہے بلکہ ایک طرح سے متنازع مقام نہ ہندو کا نہ مسلمان کا بلکہ رام کا قرار دے کر اس پر فیصلہ کی مہر لگائی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ د یئے گئے فیصلہ کا احترام اور تابعداری ہر شہری کا اولین فریضہ ہے۔ مسلمانان ہند کے نزدیک بھی سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ قابل احترام ہے۔ عدلیہ، قانون اور آئین پر اعتماد ہندوستانی مسلمانوں کا شیوہ امتیاز ہے۔ وہ عدلیہ کے فیصلہ پر ہمیشہ سرخم تسلیم کرتا رہا ہے مگر بابری مسجد کے فیصلہ کے تعلق سے مسلمانوں کا بڑا طبقہ مطمئن نہیں ہے مگر اس بے اطمینانی کے باوجود مسلمانوں کے صبر وتحمل اور عدلیہ کے احترام کا دل خوش منظر نامہ ہے کہ پورے ملک میں امن و اتحاد اور ہم آہنگی پہ کہیں بھی آنچ نہیں آئی ہے۔ مسلمانوں کا یہ رول قابل ستائش ہے۔

بلاشبہ عدلیہ کے اس فیصلہ پر میرا دل بھی بے اطمینانی کا شکار ہے کیونکہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ٹائٹل کا تصفیہ نہیں ہے بلکہ ایک طرح سے ثالثی کی طرح ہے، جس میں آستھا کو ترجیح دیتے ہوئے رام للا براجمان کو فریق تسلیم کیا گیا ہے اور متنازعہ زمین کو سرکاری قرار دیا ہے اور2.77 ایکڑ متنازع زمین کو رام جنم استھان قرار دیا گیا ہے اور کورٹ نے جب رام للا براجمان کو فریق تسلیم کرتے ہوئے اسے مالکانہ حق دے دیا تو مسلمانوں کے حق کی بات ہی ختم ہو گئی، اب اس پر کیا کہا جائے۔

سپریم کورٹ نے مسلمانوں کے ٹائٹل پر رام للا کو ترجیح دیتے ہوئے کہا ہے کہ 1856-57 تک متنازع مقام پر نماز پڑھنے کے ثبوت نہیں ملے ہیں جبکہ ہندو اس سے قبل اندرونی حصہ میں بھی پوجا کرتے تھے اور روکے جانے کے بعد باہر بھی صدیوں سے پوجا کرتے رہے ہیں۔ 1045 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ کئی سوال کھڑے کرتا ہے مگر تمام تر سوالات کے باوجود اس فیصلہ کے چند خوش گوار پہلو بھی ہیں۔ اگرچہ جسٹس رنجن گگوئی کی قیادت والی پانچ رکنی بینچ نے 1992 کی بابری مسجد انہدام کو غلط قرار دیا ہے۔1949 میں جس طرح مورتیاں رکھی گئیں اسے بھی عدالت نے غیر قانونی سمجھا اور نرموہی اکھاڑا کے مالکانہ دعوے کو بھی تسلیم نہیں کیا۔ اسی طرح عدالت نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کے ذریعہ مندر کے باقیات کے دعوے کو بھی مسترد کیا۔ کورٹ نے یہ بھی ماناکہ مندر توڑ کر مسجد نہیں بنائی گئی، بابر نے کوئی مندر نہیں توڑا۔

عدلیہ کے اس فیصلہ سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ نہ تم جیتے، نہ ہم جیتے اور یہ فیصلہ ’حقائق‘ سے زیادہ ’آستھا‘ پر مبنی ہے اور کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ ایک طرف عدالت نے رام للا براجمان کو فریق تسلیم کرکے اسے مالکانہ حق دیا تو دوسری طرف مسلمانوں کی ملکیت کو خارج کیا لیکن پانچ ایکڑ زمین دینے کی بات بھی کہی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اسی بات پر اعتراض کیا ہے، اس نے اس فیصلہ پر بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہو ئے کہا ہے کہ اگر سو ایکڑ زمین بھی ملے تو ہم نہیں لے سکتے۔ ادھر اویسی نے بھی کہا ہے کہ پانچ ایکڑ کی خیرات لینے سے بہتر ہے کہ مسلمان خود اپنے پیسے سے کہیں مسجد بنائیں۔ بہر حال، سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی 2.77 ایکڑ متنازع زمین رام للا براجمان کو سونپ دی ہے اور اس زمین سے دو گنی سے زائد مسلمانوں کو دینے کا حکم بھی دیا ہے۔ حالانکہ سپریم کو رٹ اسے مرہم سازی قرار دے رہا ہے۔

اگرچہ کورٹ نے مسلمانوں کی ملکیت کا دعویٰ خارج کر دیا ہے تو پانچ ایکڑ زمین دینے کے مقصد میں جذبہ خیر سگالی بھی شامل ہے تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہئے لیکن کیا اس لین دین سے مسلمانوں کے زخم بھر جائیں گے یہ بھی ایک بڑا سوال ہے مگر بابری مسجد کا فیصلہ آنے کے بعد جس طرح ہندو۔مسلمانوں کا ردعمل رہا ملک امن و آشتی کا مظہر بنا رہا وہ قابل ستائش ہے۔ گو کہ میڈیا کے ذریعہ فیصلہ کے بعد ڈبیٹ وغیرہ چل رہی ہے لیکن اس کے باوجود پورے ملک میں کسی رد عمل یا سورش کا اظہار نہیں ہوا ہے۔ لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ ملک بہت آگے جا چکا ہے اور یہ فیصلہ ماضی کو پیچھے چھوڑنے کے مترادف ہے۔حالانکہ اس فیصلہ کو لے کر ابھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف پوری طرح واضح نہیں ہوا ہے۔

دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام احمد بخاری کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ کو آگے بڑھانا بہتر نہیں ہے۔ فیصلہ کی مخالفت میں جو ریویوپیٹیشن کی بات کی جا رہی ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پورے ملک کے مسلمانوں نے اس فیصلہ کا احترام کیا ہے اور ویسے بھی 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک میں نفرت کی سیاست کی جوآندھی چلی تھی، اب اس کے ختم ہونے کے آثار پیدا ہو چکے ہیں، رام مندر نرمان کیلئے دروازے کھول دیئے گئے ہیں۔ نفرت کی سیاست کے بھی دروازہ بند ہونے کا امکان ہے، لیکن ایک تشویش تو یہ بھی ہے کہ ہندوتو کا ایک بڑا ایشو تو ختم ہو گیا ہے لیکن کیا اس فیصلہ کو نظیر مان کر کا شی، متھرا کی سیاست کی بھی آگ بھڑکائی جائے گی؟ اگر ایسی سیاست ہوتی ہے تو ملک کے معاشی، سماجی ڈھانچہ کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ دعا یہی ہے کہ یہ معاملہ یہیں ختم ہو جائے، مسلمانوں کو صبر و تحمل کے امتحان سے مزید نہ گزارا جائے۔ بقول شاعر:


آگ ہے اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے


([email protected])

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close