اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کیا ختم ہو رہا ہے ریزرویشن!

بغیر جانچ گرفتاری نا ممکن، سپریم کورٹ، ریزرویشن بی جے پی و آر ایس ایس کے ڈی این اے میں نہیں: راہل

نئی دہلی (پی این این)
سپریم کورٹ میں سرکاری ملازمتوں اور ترقی میں ریزرویشن کے معاملے میں مرکزی وزیر برائے سماجی انصاف تھاور چند گہلوت کے بیان کے بعد کانگریس سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں نے آج لوک سبھا سے واک آؤٹ کیا۔ گہلوت نے کہاکہ ریزرویشن کے معاملے میں حالانکہ حکومت پارٹی نہیں ہے لیکن حکومت اس معاملے پر مناسب قدم اٹھائے گي۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر اعلی سطحی مشاورت کے بعد کوئی قدم اُٹھائے گی۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ یہ معاملہ 2012 کا ہے اور تب اتراکھنڈ میں کانگریس کی حکومت تھی۔ اس پر کانگریس کی طرف ہنگامہ شروع ہو گیا۔ کانگریس کے لیڈر اد ھیر رنجن چودھری نے اس معاملے پر کچھ کہنا چاہا لیکن اسپیکر اوم برلا نے کہاکہ وزیر کے بیان کے بعد کسی کو بات رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ اس کے بعد کانگریس، ڈی ایم کے اور ریولیشنری سوشلسٹ پارٹی نے ایوان سے واک آؤٹ کر لیا۔

اس سے قبل چودھری نے وقفہ صفر میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا کہ اتراکھنڈ حکومت کی طرف سے ان طبقات کے لئے ریزرویشن کے تعلق سے سپریم کورٹ میں عرضی پر سماعت کے دوران کہا گیا کہ سرکاری نوکریوں اور ترقی میں ریزرویشن بنیادی حقوق میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور ریاستی حکومت کی جانب سے یہ دلایل ریزرویشن کے سلسلے میں عدالت میں پیش کی گئیں ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت ریزرویشن ختم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں سال سے پسماندہ ان طبقات کو حکومت کو ریزویشن دینا چاہئے لیکن بی جے پی حکومت اس کی مخالفت میں عدالت میں غلط دلایل پیش کر رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے درج فہرست ذات و قبائل (انسداد مظالم ) ترمیمی ایکٹ 2018 کی آئینی قانونی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کے ترمیم کو صحیح مانا ہے۔ جسٹس ارون مشرا، جسٹس ونیت سرن اور جسٹس ایس روندر بھٹ کی بنچ نے آئینی قانونی حیثیت کو چیلنج دینے والی درخواستوں پر پیر کو یہ فیصلہ سنایا۔ بنچ نے گزشتہ سال اکتوبر میں اس معاملہ میں فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ یہ قانون ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کسی ملزم کو پیشگی ضمانت دینے کی دفعات پر روک لگاتا ہے۔ عدالت عظمی نے 20 مارچ 2018 کو اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے تحت بغیر تحقیقات کے گرفتاری نہیں ہو سکتی ہے۔ اس پر مرکزی حکومت نے عدالت کے دو ججوں کی بنچ کے اس فیصلہ پر اختلاف ظاہر کرتے ہوئے نظر ثانی درخواست دائر کی تھی۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ اتراکھنڈ حکومت نے درج فہرست ذات و قبائل (ایس سی ایس ٹی) کے ریزرویشن کے حوالہ سے جو بیان دیا ہے اس سے صاف ہو گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ریزرویشن کو ختم کرنا چاہتی ہے لیکن کانگریس اس خواب کو کبھی پورا نہیں ہونے دے گی۔ مسٹر گاندھی نے پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں پیر کو کہا کہ بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس آئینی اداروں کو لگاتار نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اب انہوں نے درج فہرست ذات و قبائل کے لوگوں کو ملنے والے ریزرویشن کے آئینی حق کو ختم کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس طبقہ کے مفادات کی حفاظت کرے گی اور ان کو ملنے والے ریزرویشن کو ختم نہیں ہونے دے گی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close