آپ کی آواز

کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے اب

بے ساختہ.....جمشید عادل علیگ

انتخاب کے سب سے اہم دور سے گزر رہا ہے ہندوستان اور ہندوستان کی سب سے پرانی پارٹی کانگریس شاید نشاط الثانیہ کے دور سے گزر رہی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ پھر وہ اپنے پرانے دور کی طرف پہنچے گی۔ چار مرحلوں کا انتخاب حکومت وقت اور اپوزیشن کے لئے بھی امتحان کا مرحلہ رہا۔ 2014 میں جس طرح تشہیروپرپیگنڈہ کے طوفان میں بی جے پی کو غیر معمولی فتح حاصل ہوئی تھی، مودی کے نام پر ووٹ تو مل گئے تھے، لیکن اب پانچ سال کے بعد مودی کے نام پر ووٹ ملنے کا سوال بے بسی سے ادھر ادھر دیکھ رہا ہے۔

کانگریس جس کا 2014 میں ایک طرح سے صفایا ہو گیا تھا اور وہ 44 سیٹوں پرسمٹ گئی تھی، اب نئے مظرنامے کے تحت اس کا ’پنرجنم‘ ہو رہا ہے۔ راہل گاندھی کی سیاسی پختگی اور محنت نے عوام کی فکر کو بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پرینکاگاندھی کی آمد نے کانگریس کارکنان میں ایک نئی ہمت دے دی ہے، لہذا 2014 کی جو پوزیشن تھی 2019 اس کے برعکس ہے۔

پانچواں مرحلہ تو کمال کا ہوگیا۔ اس مرحلے میں سات ریاستوں کی کل 51 سیٹوں پر پولنگ ہوئی ہے۔ پانچواں مرحلہ بی جے پی کے لئے انتہائی کٹھن اور اہم مرحلہ رہا، ان 51 سیٹوں میں 39 سیٹوں پر بی جے پی کا پہلے سے قبضہ تھا اور گٹھ بندھن کی جماعتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ اس مرحلے میں خاص طور پر یوپی میں 14 سیٹوں میں سے 12 سیٹوں میں راجستھان کی 12 میں سے 12 سیٹیں اور مدھیہ پردیش کی ساتوں سیٹیں ایسی ہیں، جو بی جے پی کو ملی تھیں، لہذا کانگریس کے پاس اب کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے، اسے جو بھی ملے گا وہ مودی مخالفت اور راہل گاندھی کی بڑھتی مقبولیت کا منظرنامہ ہوگا۔ بی جے پی اپنی 51 میں سے 39 سیٹیں بچا سکتی ہے یانہیں یہ بڑا سوال ہے۔ جہاں تک یوپی، راجستھان، مدھیہ پردیش کا سوال ہے تو پانچویں مرحلے میں کانگریس کو زبردست فائدہ ملنے کا امکان ہے، جبکہ بی جے پی پانچویں مرحلے میں اب تک کے سب سے خستہ حال مرحلے سے دوچار رہی ہے۔ پانچویں مرحلے میں بی جے پی کو حد درجہ نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ بی جے پی کو خوش فہمی ہے کہ وہ یوپی کی کمی کو بنگال سے پورا کرے گی۔ پانچویں مرحلے میں بنگال میں سات سیٹوں پر انتخاب ہوا ہے، ان میں سے وہ کتنی ترنمول کانگریس سے چھین پائے گی یہ کہنامشکل ہے۔ بنگال کانگریس کے لئے بھی اہم ہے، جن کے امیدوار بنگال کی 51 سیٹوں میں 23 پر دوسرے نمبر پر تھے۔ چار ماہ قبل مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کانگریس کو جیت حاصل ہوئی ہے۔ عوام ابھی کانگریس سے دور نہیں ہوئے ہیں، لہذا ان ریاستوں میں بی جے پی اپنی کتنی سیٹیں بچا پائے گی یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بی جے پی کی 19 سیٹیں ہیں۔ پانچویں مرحلے نے ان سیٹوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ خاص بات تو یہ ہے کہ یوپی میں پانچویں مرحلے کے انتخاب نے یوگی حکومت کے لئے بھی ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ کئی سیٹوں پر کانگریس اور مہاگٹھ بندھن بی جے پی کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔

بہار میں بھی ووٹوں کی پولنگ شرح کم ضرور ہوئی ہے، وہاں کانٹے کی ٹکر ہے، لیکن پانچویں مرحلے میں وہاں بھی بی جے پی کو شدید جھٹکا لگنے کی امید ہے۔ بی جے پی کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس الیکشن میں جذباتی ایشو کوئی کام نہیں آ رہے ہیں۔ دیش پریم، آرمی پر ووٹ مانگنے کا اثر نہیں ہو رہا ہے۔ بی جے پی شدید بوکھلاہٹ کی شکار ہے۔ پانچواں مرحلہ یقینا ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ چار مرحلے اتار چڑھاؤ کے کہے جاسکتے ہیں، لیکن پانچواں مرحلہ بے شک سیکولر طاقتوں کے لئے ایک عندیہ ہے۔ چھٹے اور ساتویں مرحلے میں بھی یہی صورتحال نظر آرہی ہے۔ مجموعی طورپر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابھی جمہوریت کی طاقت کمزور نہیں ہوئی ہے۔ ہندوتو کی لہر اس الیکشن میں ایک جھاگ ثابت ہوئی ہے۔ بنیادی مسائل پر راشٹر پریم کا دباؤ ناکام ہو چکا ہے اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ یوپی اور بہار میں گٹھ بندھن کا جو رجحان ہے وہ کافی حوصلہ بخشتا ہے۔ یوپی میں جہاں 80 میں 73 سیٹیں جیت کر بی جے پی اقتدار کی منزل تک پہنچی تھی، اب وہی اترپردیش بی جے پی کے اقتدار کے آگے دیوار بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ پانچویں مرحلے کی خوبی یہ ہے کہ اس مرحلے میں کانگریس سب پارٹیوں سے زیادہ ابھر کر سامنے آرہی ہے۔ مجموعی طور پر پانچواں مرحلہ کانگریس کے لئے نشاط الثانیہ ہے۔ کانگریس کے پاس اس مرحلے میں کچھ نہیں تھا اور اب اسے کثیر تعداد میں سیٹیں مل رہی ہیں۔

(Writer: Jamshed Adil Alig………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close