تازہ ترین خبریںدلی نامہ

کون بنے گا دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کا چیئر مین؟

حاجی اشراق خان، امانت اللہ اور عاصم احمد خان میں تلاش جاری،

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے ارکان کی مدت کار 16مارچ کا ختم ہونے جا رہی ہے۔ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کا اس مرتبہ چیئر مین کون ہوگا اس کےلئے بھی قیاس آرائیاں لگائی جا رہی ہیں۔ اگر ایک بار پھر ایم ایل اے کو چیئر مین بنایا جاتا ہے تو یہاں موجودہ چیئر مین حاجی اشراق خان سمیت امانت اللہ خان اور عاصم احمد خان کے نام بھی سامنے آتے ہیں، انہی میں سے کسی ایک کو دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی ذمہ داری سو نپی جانی ہے۔ لیکن فی الحال قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ دہلی حج کمیٹی کا چیئر مین کون بنے گا؟ کیوں کہ حاجی اشراق خان کے ایک بار پھر دہلی حج کمیٹی کا چیئر مین بننے میں قانونی پیچیدگیاں درپیش ہیں۔ حج ایکٹ کے مطابق کوئی بھی رکن لگا تار 2مرتبہ سے زیادہ دہلی حج کمیٹی کا رکن نہیں بن سکتا۔ جبکہ چیئر مین حاجی اشراق خان اور امانت اللہ خان دو مرتبہ لگاتار دہلی حج کمیٹی کے رکن بن چکے ہیں۔ حالانکہ ان کی پہلی مدت کار محض 6ماہ کی تھی۔ لیکن یہ دہلی حکومت کا قانونی محکمہ طے کرے گا کہ وہ ممبر بننے کے اہل ہیں یا نہیں۔؟

اگر حج ایکٹ کو دیکھیں تو حج ایکٹ 2002چیپٹر 3 سیکشن 22 (2) کے تحت کوئی بھی ممبر لگاتار 2مرتبہ سے زیادہ دہلی حج کمیٹی کا ممبر نہیں بن سکتا۔ جبکہ دوسری مرتبہ ممبر بننے میں بھی یہ شرائط ہیں کہ گزشتہ کمیٹی میں سے بھی 50فیصد سے زیادہ لوگ نہیں لے سکتے، کمیٹی میں 50 فیصد لوگ نئے ہوں گے۔ دہلی حج کمیٹی کو جوں کی توں دوبارہ نہیں بنا جا سکتا۔ حج کمیٹی کی تشکیل نو کےلئے لاء محکمہ کی منظوری لینی ہوتی ہے، اب دہلی حکومت کے لاء ڈہارٹمنٹ پر ہے کہ وہ ان ممبران کی 6 ماہ کی اس مختصر مدت کو ایک ٹرم مانتا ہے یا نہیں؟ کیوں کہ کوئی بھی کمیٹی کی تشکیل پر اسکی فائل حکومت کے لاء محکمہ کو بھیجی جاتی ہے جہاں قانونی ایکسپرٹس طے کرتے ہیں کہ یہ ممبربننے کے اہل یا نہیں؟

بتا دیں کہ حج ایکٹ 2002کے تحت حج رولس 2006 جو فریم کئے گئے اس میں دہلی حکومت کے تحت سب سے پہلی دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی 21-1-2013 کو تشکیل دی گئی۔ اس سے قبل دہلی حج کمیٹی مکمل نہیں بن پاتی تھی، ہائی کورٹ کے حکم کے بعد دہلی اسٹیٹ حج پہلی مرتبہ مکمل بنی تھی۔ یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کو مستقل ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد عارفی کی شکل میں ملا تھا، جو ابھی بھی دہلی حج کمیٹی کے ای او ہیں۔ اس کمیٹی کی معیاد 20جنوری 2016 کو پوری ہوئی۔ اس کمیٹی میں ایم پی کوٹے میں پرویز ہاشمی، ایم ایل اے کوٹے میں چودھری متین احمد، حسن احمد، کونسلر کے زمرے میں شعیب دانش، عالم میں مو لانا عبدالحنان قاسمی اور سماجی زمرے میں ڈاکٹر پرویز میاں تھے جو اس کمیٹی کے منتخب چیئر مین تھے۔ اس سے قبل حج ایکٹ لاگو ہونے سے پہلے ڈاکٹر پرویز میاں دو مرتبہ حج دہلی حج کمیٹی کے کار گزار چیئر مین تھے۔

2013 میں تشکیل ہوئی اس حج کمیٹی کی مدت کار کے دوران ہی دہلی میں اسمبلی الیکشن ہوئے جس میں دونوں ایم ایل اے کے ہارنے کے سبب اس زمرے کی دونوں سیٹیں خالی ہو گئیں اور 8جولائی 2015 کو دہلی کی نئی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے ایم ایل اے زمرے کی خالی سیٹوں پر امانت اللہ خان اور حاجی اشراق خان کو نامزد کیا۔ حالانکہ یہ لوگ صرف تقریباً 6ماہ ہی ممبر رہ سکے اور 20جنوری 2016 کو اس کمیٹی کی مدت کار ختم ہو گئی۔ نئی کمیٹی کی تشکیل میں تقریباً 2 ماہ لگے اور 17مارچ 2016 کو دہلی حج کمیٹی میں نئے ارکان نامزد ہوئے۔ جس میں ایم ایل اے زمرے میں حاجی اشراق خان (مو جودہ چیئر مین )، امانت اللہ خان اور ممبران میں کو نسلر زمرے میں کانگریس کی کونسلر سیما طاہرہ، اسلامی اسکالر زمرے میں فیروز احمد، سماجی زمرے میں نصرو الدین سیفی ہیں۔ جبکہ ایم اپی کے زمرے میں پرویز ہاشمی ممبر تھے، جن کی رکنیت ان کی راجیہ سبھا کی رکنیت کی مدت ختم ہونے کے ساتھ ختم ہو گئی ہے اور اب یہ سیٹ خالی ہے، اس کے ساتھ ہی ایک ممبر، ایکس آفیشو ممبر (ای او) ڈاکٹر اشفاق احمد عارفی ہیں۔

اب حاجی اشراق خان کے دوبارہ چیئر مین بننا دہلی حکومت کے لاء ڈپارٹمنٹ پر منحصر ہے اگر وہ حاجی اشراق خان کی چھ ماہ کی مدت کار کو ٹرم مان لیتا ہے تو حاجی اشراق خان کا چیئر مین بننا ممکن نہیں۔ وہیں ماہرین کی مانیں تو چونکہ امانت اللہ خان بھی پہلے رکن رہ چکے ہیں تو ایکٹ کے مطابق وہ بھی رکن نہیں بن سکتے، ایسے میں مٹیا محل سے رکن اسمبلی عاصم احمد خان اور وزیر عمران حسین دو ہی مسلم رکن اسمبلی باقی ہیں، جن میں عمران حسین وزیر ہیں تو وہ حج کمیٹی کے چیئر مین نہیں بنیں گے ایسے میں اب عاصم احمد خان ہی چیئر مین کے عہدے کےلئے باقی بچتے ہیں۔لیکن دیکھنا یہ کہ دہلی حکوممت کا لاء ڈپارٹمنٹ کیا فیصلہ کرتا ہے۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close