اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کولکاتا: امیت شاہ کی آمد پر احتجاج ومظاہرے، لگے’امت شاہ گو بیک‘ کے نعرے

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے کلکتہ آمد کے موقع پر سیاسی، سماجی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے پولس کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم کہیں سے بھی تناؤ اور تشدد کی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔

نیتاجی سبھاش چندر بوس ائیر پورٹ پر بڑی تعداد میں شہریت ترمیمی ایکٹ مخالفین جمع تھے اور امیت شاہ واپس جاؤ کے نعرے لگارہے تھے۔ مظاہرین کو ہوائی اڈے میں داخل ہونے سے روکنے کےلئے بڑے پیمانے پر سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے۔ بایاں محاذ کے سیاسی جماعتوں نے پارک سرکس، شیام بازار اور دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے اور امیت شاہ کا پتلہ جلایا۔

ایس ایف آئی کے ممبران بڑی تعداد میں ائیر پورٹ پر موجود تھے اور امیت شاہ واپس جاؤ کے نعرے لگارہے تھے۔ ائیر پورٹ پر کانگریس کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ تاہم اسپلینڈ میں اس وقت پولس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے جب مظاہرین بریگیڈ توڑ کر شہیدمینار میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے،جہاں امیت شاہ خطاب کرنے والے تھے۔

سی پی آئی ایم کے ممبر اسمبلی سوجن چکرورتی نے جنوبی کلکتہ کے سنتوش پور میں ایک بڑی ریلی کی قیادت کی۔ جب کہ کانگریس نے بیگ بگان سے پارک سرکس میدان تک ریلی نکالی اور امیت شاہ کے پتلے نذرآتش کئے۔ سی پی آئی کی طلبا تنظیم ایس ایف آئی اور یوتھ ونگ ڈی وائی ایف آئی نے شیام بازار، بے ہالا، کے کھالی اور انٹالی میں جلوس نکالا ۔اس کے علاوہ بی جے پی نے بھی شہریت ترمیمی ایکٹ کی حمایت میں جلوس نکالا۔ بی جے پی کی ریلی میں گولی مارو سالوں کا نعرہ بھی سنا گیا۔

مولا علی رام لیلا میدان میں بڑی تعداد میں مختلف تنظیموں کے کارکنان جمع ہوئے اور امیت شاہ کے خلاف نعرے لگائے۔ تاہم پولس کے منع کرنے کی وجہ سے ریلی نہیں نکالی گئی ۔دوسری جانب جمعیت علما، جس نے ایک مہینے قبل امیت شاہ کو کلکتہ میں داخل نہیں ہونے دینے کا اعلان کیا تھا، نے بھی رام لیلا میدان میں جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا تھا مگر آج صبح اس نے یہ کہتے ہوئے جلوس نکالنے سے منع کردیا کہ پولس نے اجازت نہیں دی۔

دوسری جانب ایکسپلینڈ میں گرانڈ ہوٹل کے باہر بڑی تعداد میں نوجوان جمع ہوکر امیت شاہ واپس جاؤ کے نعرے لگائے۔ جب یہ نوجوان شہیدمینار کی طرف بڑھنے لگے تو پولس نے انہیں روک دیا اس درمیان پولس اور مظاہرین کے درمیان دھکا مکی بھی ہوئی۔ مگر حالات بے قابو نہیں ہوئے۔ دوسری جانب خواتین کے ایک گروپ نے شہید مینار کے دوسری جانب میدان علاقے میں بڑی تعداد میں جمع ہوکر امیت شاہ کے خلاف احتجاج کیا۔ خواتین مظاہرین کا کہنا تھا کہ دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات پر قابو پانے میں ناکام رہنے والے امیت شاہ کو کلکتہ میں تقریر کرنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ امیت شاہ لااینڈ آرڈر بحال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

دوسری جانب امیت شاہ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ این آر سی اور شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کررہے ہیں وہ دراصل دراندازوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے ممتا بنرجی اور کانگریس پر غیر قانونی تارکین وطن کی پشت پناہی کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ملک کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں اور ووٹ بینک کی سیاست کی خاطر ملک کے عوام اور اقلیتوں کو گمراہ کررہے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close