اترپردیشتازہ ترین خبریں

کملیش کے ماں کے الزامات کی غیر جانبدارانہ جانچ ہو

اترپردیش کانگریس کے صدر اجے کمار للو نے کہا ہے کہ سخت گیر ہندو لیڈر کملیش تیواری کے قتل کے مختلف پہلوؤں کی جانچ کر رہی سیکورٹی ایجنسیوں کو متوفی کے ماں کے الزامات کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہئے۔

واضح رہے کہ کملیش تیواری قتل کو لے کر سوشل میڈیا پر دو ویڈیو کافی وائرل ہو رہی ہے وہ ایک ویڈیو تو یہ ہے جس میں اس ویڈیو کے مطابق کملیش تیواری کو اپنے قتل کا پہلے سے ہی احساس تھا، جس کی معلومات پولس کو دی تھی، انہوں نے موجودہ حکومت یعنی یوگی حکومت پر کئی سنگین الزام لگائے ہیں۔ جبکہ دوسری ویڈیو میں ان کی ماں یوگی حکومت اور یوپی پولس پر سنگین الزام لگا رہی ہیں. یہاں دیکھیں وہ دونوں ویڈیوز

مستر للو نے اتوار کو صحافیوں سے کہاکہ ہندو وای لیڈر کملیش تیواری کی دن دہاڑے قتل یوپی کی بدحال نظم ونسق کی پول کھولتی ہے۔ مقتول کی ماں نے اس معاملے میں سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں اور سرکار کو ان بیانات کو سنجیدگی سے جانچ کرنی چاہئے تاکہ خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی عوام کے درمیان کوئی الجھن کی صورتحال پیدا نہ ہوسکے۔

انہوں نے کہاکہ کانگریس پہلے ہی کہتی آئی ہے کہ یوپی میں جنگل راج ہے۔ دن دہاڑے ہورہی لوٹ پاٹ اور قتل کی وارداتیں اب عام ہوچکی ہیں۔ عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔ مذہب کے نام پر ہراسانی کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ نظم ونسق کے حوالے سے حکومت کی دعوؤں کی قلعی کھل چکی ہے اور اب سچ لوگوں کے سامنے آنے لگا ہے۔

کانگریس ریاستی صدر نے فائنانس کمیشن سے اپیل کی ہے کہ مالی خسارے کو کم کرنے کے نام پر سماجی مفادات سے منسلک اسکیمات میں کٹوتی کی جائے۔ 2018۔19 میں اترپردیش کا مالی خسارہ فائنانس کمیشن کے میعاف تین فیصدی سے زیادہ 3.1 فیصدی ہوچکا ہے۔ اس خسارے کو کم کرنے کے نام پر کسان،نوجوان اور تاجروں پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید اور ریاستی ترجمان انپ پٹیل پیر کو فائنانس کمیشن کے سامنے جاکر مفاد عامہ میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ مشرقی یوپی کا ایک بڑا حصہ سیلاب سے اور بندیل کھنڈ میں سوکھے سے نبرد آزما ہیں۔ کانگریس سیلاب اور سوکھے جیسی آفات سے کسانوں کو بچانے کا مطالبہ کرے گی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close