اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کلکتہ پولس بمقابلہ سی بی آئی: سی بی آئی کے پانچ افسران گرفتار

شاردا چٹ فنڈ گھپلہ کی جانچ نے آج اس وقت ڈرامائی شکل اختیار کرلی جب سی بی آئی کے افسران کلکتہ پولس کمشنر راجیو کمار کو گرفتار کرنے پہنچے مگر کلکتہ پولس نے سی بی آئی کے افسران کو ہی حراست میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق سی بی آئی کے افسران آج شام کلکتہ پولس کمشنرراجیو کمار کو گرفتار کرنے کیلئے ان کے گھر پہنچے تھے ۔یہ خبر ملتے ہی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی بذات خود بنگال پولس کے اعلیٰ افسران کے ساتھ راجیو کمار کے گھر پہنچ گئیں اور کلکتہ پولس کے اہلکاروں نے راجیو کمار کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔راجیو کمار کے گھر پہنچے سی بی آئی کے افسران کو جبراً حراست میں لے کر شیکسپئر سرانی تھانے میں لے جایا گیا۔کلکتہ پولس کے ذرائع کے مطابق سی بی آئی کے پانچ افسران کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی تادم تحریر راجیو کمار کے گھر میں موجود ہیں اور سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کررہی ہیں۔دوسری جانب کلکتہ پولس اہلکاروں نے سی بی آئی کے دفتر سی جی او کمپلیکس کا محاصرہ کرلیا ہے۔ دہلی میں سی بی آئی کی میٹنگ ہورہی ہے۔ سی بی آئی شاردا چٹ فنڈ گھپلہ کے معاملے میں راجیو کمار سے پوچھ تاچھ کرنا چاہتی تھی۔انہیں متعدد مرتبہ نوٹس دیا گیا تھا مگر وہ نوٹس کا جواب نہیں دے رہے تھے۔

1989بیچ کے آئی پی آفیسر راجیو کمار جو وزیرا علیٰ ممتا بنرجی کے قریبی ہیں شاردا چٹ فنڈ گھپلہ اور روز ویلی چٹ فنڈ گھپلہ کی جانچ کیلئے قائم ایس آئی ٹی کے سربراہ تھے۔2014میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد ان گھپلوں کی جانچ کی ذمہ داری سی بی آئی نے لی تھی۔ شاردا چٹ فنڈ گھپلہ سامنے آنے کے بعد وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے 2013میں ایس آئی ٹی قائم کی تھی ۔2013میں ہی شاردا گروپ بند ہوگیا تھا۔اس گروپ نے بڑے پیمانے پر کئی ریاستوں میں غریب عوام سے رقم وصول کی تھی ۔

جانچ ایجنسی سی بی آئی کو شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ کی جانچ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے راجیو کمار سے کچھ دستاویز کی ضرورت ہے۔راجیو کمار گزشتہ کئی دنوں سے منظر نامے سے غائب ہیں ۔گزشتہ منگل کو آخری مرتبہ کلکتہ انٹر نیشنل کتاب میلہ کے افتتاح میں نظر آئے تھے۔اس پروگرام میں وزیر اعلیٰ موجود تھیں۔اس کے بعد راجیو کمار کلکتہ پولس کے اسٹال پر بھی گئے جہاں وزیرا علیٰ ممتا بنرجی کی کئی کتابیں منظر عام پر رکھی گئی تھیں۔

اس بعد سے ہی راجیو کمار نظر نہیں آرہے ہیں۔یہاں تک کہ الیکشن کمیشن کی طلب کردہ میٹنگ میں بھی پیش نہیں ہوئے۔اس کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے بنگال حکومت کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔جسے بعد میں وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے معافی مانگ کرمعاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی تھی۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close