اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کشمیر: ہڑتال کا 61 واں دن، نویں جمعہ کو بھی مقفل رہی تاریخی جامع مسجد

جموں وکشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں مسلسل نویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ زائد از 600 سال قدیم یہ مسجد جو کشمیر کی سب سے بڑی عبادت گاہ ہے، 5 اگست سے مقفل ہے اور اس کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات ہیں جو کسی بھی شہری یا صحافی کو جامع مسجد کے نزدیک جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق جو جامع مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے تھے، کو اپنی رہائش گاہ میں نظر بند رکھا گیا ہے۔دوسری جانب وادی میں جاری ہڑتال جمعہ کے روز 61 ویں دن میں داخل ہوگئی۔ اس دوران سری نگر کے پائین شہر میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر ایک بار پھر پابندیاں عائد کی گئیں۔ دیگر 9 اضلاع کے قصبہ جات میں دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ نیز وادی بھر میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بدستور تعینات ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق کشمیر کے سبھی دس اضلاع میں جمعہ کو مسلسل 61 ویں دن بھی دکانیں اور دیگر تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔ تعلیمی ادارے بند رہے اور سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری بہت کم دیکھی گئی۔ تاہم جمعہ کو بھی سری نگر کے سول لائنز اور اضلاع کو سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ اس کے علاوہ سول لائنز اور بالائی شہر میں صبح کے وقت دکانیں و دیگر تجارتی مراکز کھلے نظر آئے۔

میڈیا کے ایک نامہ نگار جس نے جمعہ کی صبح سری نگر کے ڈاون ٹاون کا دورہ کیا نے بتایا کہ ڈاون ٹاون میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندیاں عائد ہیں اور کچھ سڑکوں پر خاردار تار بچھی ہوئی ہے۔ پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے ڈاون ٹاون میں بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات رکھے گئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے 5 اگست کو اٹھائے گئے اقدامات جن کے تحت جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 ہٹائی گئی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام والے علاقے بنایا گیا، کے بعد سے وادی کشمیر میں معمول کی زندگی معطل ہے۔ ہر طرح کی انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات بدستور منقطع ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ پڑوسی ملک پاکستان کشمیر میں فون اور انٹرنیٹ خدمات کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کرتا ہے۔

سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ احتیاط کے طور پر سری نگر کے پائین شہر کے کچھ حصوں میں پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ وادی کے کچھ قصبہ جات میں بھی دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کی صبح نافذ کی گئی پابندیاں ہفتہ کی علی الصبح تک ہٹائی جائیں گی۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کو بھی وادی میں کچھ جگہوں پر مقامی لوگوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جس دوران فورسز نے پتھرائو کے مرتکب احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے۔ جھڑپوں کے دوران کتنے افراد زخمی ہوئے یہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا۔ وادی میں جموں خطہ کے بانہال اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل خدمات بھی 5 اگست سے لگاتار معطل ہیں۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ سروسز مقامی پولیس و سول انتظامیہ کی ہدایت پر معطل رکھی گئی ہیں اور مقامی انتظامیہ سے گرین سگنل ملتے ہی بحال کی جائیں گی۔

وادی بھر میں تعلیمی ادارے گزشتہ دو ماہ سے بند پڑے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جو تعلیمی ادارے کھولے گئے ہیں ان میں طلباء کی حاضری صفر کے برابر ہے۔ اگرچہ سرکاری دفاتر کھلے ہیں تاہم ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان میں ملازمین کی حاضری بہت کم دیکھی جارہی ہے۔ لوگ بھی دفاتر کا رخ نہیں کرپاتے ہیں۔ وادی میں بی جے پی کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو نظر بند رکھا ہے۔ نیشنل کانفرنس صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ انہیں اپنے ہی گھر میں بند رکھا گیا ہے۔ علاحدگی پسند لیڈران بھی خانہ یا تھانہ نظر بند ہیں۔ وادی میں جاری موجودہ ہڑتال کی کال کسی جماعت نے نہیں دی ہے بلکہ یہ بغیر کال کی ہڑتال ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close