اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کشمیر: گیلانی کی صحت سے متعلق افواہوں سے سراسیمگی، انٹرنیٹ خدمات معطل

حریت کانفرنس (گ) چیئرمین اور بزرگ علاحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی صحت کے متعلق گزشتہ شام گرم ہوئی بے بنیاد افواہوں کے ساتھ ہی جہاں انتظامیہ کو وادی میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات ایک بار پھر معطل کرنی پڑیں وہیں شہر وگام عوامی حلقوں میں سراسیمگی، افراتفری اور اضطرابی کیفیات کا ماحول پیدا ہوا۔ تاہم بعد ازں دن ڈھلنے کے ساتھ افواہیں بے بنیاد ثابت ہونے کے ساتھ ہی موبائیل انٹرنیٹ خدمات بھی بحال ہوئیں اور سراسیمگی کا ماحول بھی دور ہوا۔

دریں اثنا صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے مسٹر گیلانی کے انتقال کے بارے میں گرم ہوئی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے موصوف لیڈر کی صحت کا ملاحظہ ان کی رہائش گاہ پر کیا۔ بزرگ حریت لیڈر کی صحت کے بارے میں افواہیں پھیلنے کے بعد گزشتہ رات صوبائی کمشنر بصیر خان، آئی جی پولیس وجے کمار اور سکمز کے ناظم ڈاکٹر اے جی آہنگر کے درمیان میٹنگ ہوئی تھی۔ ادھر پولیس نے افواہ بازوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے افواہیں اور پروپیگنڈا پھیلانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ وفد نے لیفٹیننٹ گورنر کو سری نگر میں اپنی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور موصوف گورنر نے بھی وفد کو جموں کشمیر کی تعمیر و ترقی کے بارے میں کئے جانے والے اقدام سے باخبر کیا۔ اس موقع پر موصوف گورنر کے مشیران، پولیس سربراہ دلباغ سنگھ کے علاوہ کئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار بھی موجود تھے۔ قبل ازیں متذکرہ وفد جموں کشمیر ہائی کورٹ کی خاتون چیف جسٹس جسٹس گیتا متل سے بھی ملاقی ہوا۔

مرکزی حکومت کی طرف سے جموں کشمیر کو دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے پانچ اگست 2019ء کے فیصلوں کے بعد یہ کسی غیر ملکی وفد کا تیسرا دورہ کشمیر تھا۔ قبل ازیں 23 ارکان پر مشتمل پہلا یورپی وفد 29 اکتوبر 2019 کو وادی کے زمینی حالات کا جائزہ لینے کے لئے وارد وادی ہوا تھا جبکہ 15 غیر ملکی سفارتکاروں پر مشتمل دوسرا وفد ماہ جنوری کی 9 تاریخ کو وارد وادی ہوکر حکومتی چنندہ وفود و صحافیوں سے ملاقی ہوا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ غیر ملکی سفارتکاروں کے وفد کا یہ دورہ اس وقت ہورہا ہے جب دو سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر حال ہی میں پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا جو سوشل میڈیا پر سیاسی گلیاروں سے لے کر صحافتی حلقوں تک گرم موضوع بحث بن گیا تھا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close