اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کشمیر میں زندگی اب بھی معمول پر نہیں

جموں وکشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والی دفعہ 370 اور 35 اے کے اختتام کے بعد سے وادی میں صورتحال اب تک معمول پر نہیں آئی ہے اور کاروبار اور دیگر سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ ایک مثبت علامت یہ ہے کہ 5 اگست کے بعد، کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن کے قریب اتوار کے روز مشہور بازار میں سیکڑوں افراد نے اپنے اسٹال لگائے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وادی کشمیر کے کسی بھی حصے سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ہے اور اتوار کے روز وادی میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد نہیں ہے۔ چار سے زیادہ افراد کو جمع ہونے سے روکنے کے لئے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے تاکہ امن و امان برقرار رہ سکے۔ 5 اگست سے وادی کشمیر میں ٹرین، موبائل اور انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں۔ حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے سربراہ ، میر واعظ مولوی عمر فاروق کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے میں جامع مسجد کے تمام دروازے بند ہیں۔

امن و امان برقرار رکھنے کے لئے نیم فوجی دستے یہاں تعینات ہیں اور جمعہ کی نماز بھی اس مسجد میں ادا نہیں کی جاسکتی ہے۔ شہر کے تاریخی لال چوک اور دیگر مقامات پر دکانیں اور کاروباری ادارے صبح چھ بجے سے نو بجے تک کھلے رہے اوراس کے بعد پورے دن کے لئے بند کردئے گئے۔ وادی کشمیر میں صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور دکانیں اور کاروباری ادارے اتوار کے روز بند رہے۔

یہی صورتحال کشمیر کے مختلف اضلاع، اننت ناگ، شوپیاں، پلوامہ، اونتی پورہ، ترال اور کولگام میں بھی ہے اور یہاں پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر غائب ہے لیکن نجی گاڑیوں کو کچھ راستوں پر چلتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ وادی کشمیر میں بھارت سنچار نگم لمیٹڈ اور دیگر کمپنیوں کی موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کو مسلسل 63 ویں دن معطل ہیں لیکن لینڈ لائن خدمات آسانی سے کام کر رہی ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close