اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کشمیر: بند کا 34 واں دن، موبائل فون و انٹرنیٹ خدمات پر پابندی جاری

وادی کشمیر میں ہفتہ کو مسلسل 34 ویں دن بھی ہڑتال رہی۔ وادی میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر جمعہ کو جو پابندیاں عائد رہیں، وہ پابندیاں ہفتہ کی صبح ہٹائی گئیں۔ سری نگر اور وادی کے دیگر 9 اضلاع میں ہفتہ کو جہاں بڑی تعداد میں نجی گاڑیاں سڑکوں پر چلتی ہوئی نظر آئیں وہیں پبلک ٹرانسپورٹ 34 ویں دن بھی سڑکوں سے غائب رہا۔

تاہم انتظامیہ نے ہفتہ کو ایک بار پھر محرم کے بڑے ماتمی جلوس برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد سری نگر کے حسن آباد اور وادی کے دیگر چند علاقوں میں عزاداروں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ سیکورٹی فورسز نے عزاداروں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔ سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں کتنے عزادار زخمی ہوئے یہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا۔

وسطی کشمیر کے قصبہ بڈگام میں پابندیوں کا نفاذ ہفتہ کو مسلسل دوسرے دن بھی جاری رہا۔ قصبے کی طرف جانے والی تمام سڑکیں سیل رکھی گئی ہیں۔ شیعہ اکثریتی قصبہ بڈگام میں جمعہ کے روز سے محرم الحرام کے ماتمی جلوس برآمد ہونے کا سلسلہ شروع ہونا تھا۔ اگرچہ ضلع انتظامیہ نے قصبہ میں ماتمی جلوس برآمد کرنے پر مبینہ طور پر روک عائد کی ہے، تاہم عزاداروں نے جمعہ کو پابندیوں کو توڑتے ہوئے ماتمی جلوس نکالا۔ قصبہ میں تعینات سیکورٹی فورسز نے عزاداروں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے تھے جس کے نتیجے میں متعدد عزادار زخمی ہوئے تھے۔

بڈگام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ہفتہ کو پابندیوں کے باوجود کری پورہ سے ماتمی جلوس برآمد ہوا جو اپنے روایتی راستے آغا صاحب روڑ سے ہوتے ہوئے مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں اختتام پذیر ہوا۔ وادی بھر میں موبائل فون و انٹرنیٹ خدمات کی معطلی جاری رکھی گئی ہے۔ ہڑتال اور مواصلاتی پابندی کی وجہ سے سرکاری دفاتر، بنکوں اور ڈاک خانوں میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر ہے۔ تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں معطل ہیں۔ وادی میں ریل خدمات بھی گزشتہ زائد از ایک ماہ سے معطل ہے۔ ریل خدمات کی معطلی سے ریلوے محکمہ کو قریب ایک کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
وادی میں معمول کی زندگی 5 اگست کو اس وقت معطل ہوئی جب مرکزی حکومت نے ریاست کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 ہٹادی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام والے علاقے بنانے کا اعلان کردیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ہفتہ کو بھی سری نگر اور وادی کے دیگر نو اضلاع میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ کلی طور پر غائب رہا۔ تاہم سری نگر کے سول لائنز و بالائی شہر اور مختلف اضلاع کو سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر اچھی خاصی تعداد میں نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ آٹو رکھشا بھی سڑکوں پر چلنے لگے ہیں۔ پھل و سبزی فروشوں کو سڑکوں کے کنارے گاہکوں کا انتظار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

سری نگر کے جن علاقوں میں جمعہ کو کرفیو اور دیگر سخت پابندیاں عائد رہیں، وہ پابندیاں ہفتہ کی صبح ہٹائی گئیں۔ پائین شہر سے اگرچہ کرفیو ہٹا لیا گیا ہے تاہم مختلف نوعیت کی پابندیاں اور بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی بدستور جاری رکھی گئی ہے۔ پائین شہر کی بیشتر سڑکوں کو لوگوں کی آمدورفت کے لئے کھول دیا گیا ہے۔

پائین شہر میں بھاری تعداد میں سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات رکھے گئے ہیں اور حساس جگہوں پر سیکورٹی فورسز نے بلٹ پروف گاڑیاں کھڑی رکھی ہیں۔ نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد کو بدستور مقفل رکھا گیا ہے۔ اس تاریخی مسجد کے باہر تعینات فورسز اہلکار کسی بھی فوٹو یا ویڈیو جرنلسٹ کو مسجد کی تصویر لینے یا ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ فورسز اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں ہدایات ملی ہیں کہ کسی بھی صحافی کو جامع مسجد کی تصویر لینے یا ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں دینی ہے۔

ادھر سول لائنز اور بالائی شہر میں ہفتہ کو بھی سڑکوں پر اچھی خاصی تعداد میں نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ تاہم پبلک ٹرانسپورٹ 34 ویں دن بھی سڑکوں سے غائب رہا۔ سول لائنز اور بالائی شہر میں کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرے کو ناکام بنانے کے لئے بڑی تعداد میں فورسز اہلکار تعینات رکھے گئے ہیں۔

انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وادی کی صورتحال تیزی کے ساتھ بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم اس کے برعکس سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں بھی سڑکوں سے غائب ہیں۔ ان میں سے کچھ درجن بسوں کو سول سکریٹریٹ ملازمین اور سری نگر کے دو تین ہسپتالوں کے عملے کو لانے اور لے جانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ایس آر ٹی سی کی کوئی بھی گاڑی عام شہریوں کے لئے دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وادی بھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات گزشتہ زائد از ایک ماہ سے معطل ہیں جبکہ بیشتر تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جو تعلیمی ادارے کھولے گئے ہیں ان میں طلباء کی حاضری صفر کے برابر ہے۔ اگرچہ سرکاری دفاتر کھلے ہیں تاہم ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان میں ملازمین کی حاضری بہت کم دیکھی جارہی ہے۔ لوگ بھی دفاتر کا رخ نہیں کرپاتے ہیں۔

وادی میں مواصلاتی پابندی کی وجہ سے زندگی کا ہر ایک شعبہ بری طرح سے متاثر ہو کر رہ گیا ہے۔ عام لوگوں کو بالعموم جبکہ طلباء اور پیشہ ور افراد کو بالخصوص شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وادی میں ای بزنس بھی مکمل طور پر ٹھپ ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وادی کے بیشتر حصوں میں لینڈ لائن فون خدمات بحال کی جاچکی ہیں جبکہ شمالی کشمیر کے کپواڑہ اور ہندواڑہ کے کچھ حصوں میں موبائل فون خدمات بھی بحال ہوچکی ہیں۔ تاہم انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ وادی میں عائد پابندیوں میں نرمی لانے اور مواصلاتی خدمات کی بحالی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے بیشتر حصوں میں اگلے احکامات تک دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی جاری رہے گی۔

قابل ذکر ہے کہ وادی میں کسی بھی علاحدگی پسند یا دوسری تنظیم نے ہڑتال کی کال نہیں دی ہے بلکہ جس ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے وہ غیر اعلانیہ ہے۔ انتظامیہ نے کشمیر میں سبھی علاحدگی پسند قائدین و کارکنوں کو تھانہ یا خانہ نظر بند رکھا ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کو چھوڑ کر ریاست میں انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کے لیڈران کو سرکاری رہائش گاہوں، اپنے گھروں یا سری نگر کے شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کناروں پر واقع سنٹور ہوٹل میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close