اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کشمیر میں افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے: فارق عبداللہ

نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جموں وکشمیر بالخصوص وادی کشمیر میں جاری بے چینی، غیر یقینیت اور افراتفری کے ماحول پر زبردست تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی اور مرکزی حکومتوں سے کہا کہ عوام کے خلاف جاری مبینہ ظلم و تشدد اور مار دھارڈ کا سلسلہ فوری طور پر بند کرکے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ4سال سے جاری سخت گیر پالیسی نہ صرف سرے سے ہی ناکام ہوئی ہے بلکہ اس کے تباہ کن نتائج سامنے آئے ہیں۔

سری نگر کے مضافاتی علاقہ حضرت میں منعقدہ ایک تقریب میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے وادی کشمیر کے موجودہ حالات کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے مرکز کی غلط پالیسیوں کو من و عن ریاست میں عملایا، جس کا نتیجہ ہم آج بخوبی زمینی سطح پر دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا’ بھاجپا نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے وادی کو آگ کے شعلوں کی نذر کردیا جبکہ جموں میں فرقہ پرستی کے رجحان کو ہوا دی‘۔ فاروق عبداللہ نے الزام لگایا کہ وادی میں آج جو کچھ ہورہا ہے اُس کا خاکہ آر ایس ایس نے کھینچا ہے، یہ لوگ ریاست جموں وکشمیر کو ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے یہ لوگ ہمیں مذہب، زبان اور علاقائی بنیادوں پر لڑوانے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو اپنی انفرادیت ، وحدت ، پہچان اور کشمیریت کو قائم رکھنے کے لئے ہمیں متحدد ہو کر رہنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا’ پی ڈی پی نے جس طرح کشمیریوں کی پیٹ پر چھرا گھونپ کربھاجپا کے ساتھ اتحاد کیا اور آر ایس ایس کے خاکوں میں رنگ بھرنے کے لئے جو رول نبھایا وہ یہاں کے عوام کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتے‘۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ فرقہ پرست طاقتیں آئین ہند کی دفعہ 370 کے ساتھ ساتھ دفعہ 35اے کو بھی ختم کرنے کے پیچھے لگی ہیں، جس کے تحت ریاست کے لوگوں کو خصوصی جمہوری اور آئینی حقوق حاصل ہوئے ہیں۔ گزشتہ 70برسوں سے یہ فرقہ پرست ریاست کے لوگوں کو اُن خصوصی پوزیشن کے ساتھ ساتھ ان جمہوری اور آئینی حقوق سے مکمل طور پر محروم کرنا چاہتے ہیں جو آئین ہند کے تحت ریاست کے لوگوں ملے ہیں اور جن کے تحت یہاں کے مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے ساتھ 3شرائط پر الحاق کیا تھا۔ یہ لوگ ریاست کے مسلم کردار کو ہر سطح پر زخ پہچانے اور آبادیاتی تناسب بگاڑنے کی سازشیں بھی کر رہے ہیں۔ ان کا یہی ارادہ رہا ہے کہ مسلمانانِ ریاست کو کس طرح اقلیت میں تبدیل کیا جائے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھاجپا کے فرقہ پرست لیڈران اب انتخابی مقاصد کے لئے کشمیر پر گندی سیاست کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا’ ایسے میں ریاست کے تمام مذاہب کے لوگوں کو اتحاد اور سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانا ہوگا‘۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close