اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کشمیر میں اب ملی ٹینسی کے ساتھ سختی سے نمٹا جا رہا ہے: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ جموں وکشمیر میں اب ملی ٹینسی کے ساتھ سختی سے نمٹا جارہا ہے اور سرحدوں پر دشمن کو کرارا جواب دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے لئے ملک اور ملک میں رہنے والے لوگوں کا مفاد سب سے مقدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے کوئی کمی باقی نہیں چھوڑی جائے گی۔

وزیر اعظم نے کانگریس کا نام لئے بغیر کہا کہ اگر سابقہ سرکاروں نے دھیان دیا ہوتا تو آج گرو نانک دیو جی کی پیدائش کی جگہ (کرتار پور صاحب) بھارت میں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت مہاجر کشمیری پنڈتوں کی باز آبادکاری کے لئے وعدہ بند ہے۔ وزیر اعظم مودی اتوار کے روز یہاں بی جے پی کی ایک ریلی سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر ایمز سمیت متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا۔

وزیر اعظم مودی نے ریاست میں پنچایتی انتخابات کے انعقاد کے لئے عوام اور انتظامیہ کی سراہنا کرتے ہوئے کہا ‘جب ہماری یہاں مخلوط حکومت تھی تو بہت سی چیزیں ہو نہیں پائیں۔ ہم ریاست میں پنچایت کے انتخابات کرانا چاہتے تھے۔ لیکن تب وہ ممکن نہیں ہو پایا۔ اب حال ہی میں منعقد ہوئے پنچایت انتخابات میں جس طرح لوگوں نے حصہ لیا، تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ 70 فیصد سے زیادہ لوگوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ جموں وکشمیر کے لوگ اس کے لئے مبارکبادی کے حقدار ہیں۔ یہاں کی انتظامیہ مبارکبادی کا حقدار ہے۔ اب ریاست میں جنگجویت سے بھی سختی سے نمٹا جارہا ہے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے کوئی کمی باقی نہیں چھوڑی جائے گی۔ مرکزی حکومت کے لئے ملک اور ملک کے لوگوں کا مفاد سب سے مقدم ہے’۔

وزیر اعظم نے دفاعی بجٹ میں کئے گئے اضافے پر کہا کہ اس سے دفاعی تیاریاں مضبوط ہونے کے علاوہ فوجیوں کو بھی فائدہ ملے گا۔ انہوں نے کہا ‘حالیہ بجٹ میں جے کسان کے ساتھ ساتھ جے جوان کے لئے بھی بہت بڑا فیصلہ لیا گیا۔ میں جموں وکشمیر کے ہزاروں فوجی کنبوں کو مبارکباد دیتا ہوں کیونکہ دیش کا دفاعی بجٹ تین لاکھ کروڑ روپے کو پار کرگیا ہے۔ اس سے ہماری دفاعی تیاریاں مضبوط ہوں گی اور ہمارے جوانوں کو بھی فائدہ ملے گا’۔

وزیر اعظم مودی نے پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ سرحدوں پر دشمن کو کرارا جواب دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ‘دیش گواہ ہے کہ کیسے چار دہائیوں تک ون رینک ون پنشن کا معاملہ لٹکا ہوا تھا۔ مرکز کی بھاجپا سرکار اس کے لئے اب تک 35 ہزار کروڑ روپے واگزار کرچکی ہے۔ آج جموں وکشمیر پولیس ہو یا پیرا ملٹری فورسز یا وہ فوج کے جوان ہو۔ وہ کٹھن صورتحال میں بھی امن کے دشمنوں کے ساتھ لوہا رہے ہیں۔ میں شہید نذیر احمد وانی، شہید اورنگزیب، شہید امتیاز احمد میر جیسے کئی ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ میں ہر شہید کے کنبے کو یقین دلاتا ہوں کہ دیش کی سرکار ہر وقت آپ کے ساتھ کھڑی رہے گی’۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close