اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کشمیر: مکمل بند کا 26 واں دن، سری نگر کی سڑکیں پھر سیل

کشمیر جمعہ کو مسلسل 26 ویں روز بھی مکمل طور پر بند رہا۔ جمعہ کو سری نگر کے بیشتر حصوں اور دیگر 9 اضلاع کے قصبہ جات میں لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر سخت ترین پابندیاں نافذ رہیں جبکہ دیگر حصوں میں دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ وادی کی متعدد مساجد اور امام بارگاہوں بالخصوص سری نگر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں مسلسل چوتھے جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انتظامیہ نے سری نگر کا قلب کہلائے جانے والے تاریخی لالچوک کی طرف جانے والی بیشتر سڑکوں کو خاردار تار سے بند کردیا تھا۔ مختلف اضلاع کو سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر خاردار تار بچھائی گئی تھی۔ ان سڑکوں پر تعینات ہزاروں سیکورٹی فورسز اہلکار کسی بھی گاڑی کو لال چوک کی طرف جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ ایمبولنس اور سرکاری ملازمین کی گاڑیوں کو بھی لال چوک کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔

یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے جمعہ کی صبح سری نگر کے ڈاون ٹاون کا دورہ کیا نے بتایا کہ ڈاون ٹاون میں کرفیو نافذ ہے اور سڑکوں پر جگہ جگہ خاردار تار بچھی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اور دیگر صحافیوں کو ایک بار پھر نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر نہیں آنے دیا جارہا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق کشمیر کے سبھی دس اضلاع میں جمعہ کو مسلسل 26 ویں روز بھی دکانیں اور دیگر تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے اور سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری بہت کم دیکھی گئی۔ بیشتر بنک شاخیں بند نظر آئیں۔ وادی میں مرکزی حکومت کے حالیہ اقدامات جن کے تحت ریاست کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 ہٹائی گئی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام والے علاقے بنایا گیا کے بعد سے وادی کشمیر میں معمول کی زندگی معطل ہے۔ ہر طرح کی انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات بدستور منقطع ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کو متعدد جگہوں پر مقامی لوگوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جس دوران فورسز نے پتھرائو کے مرتکب احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے۔ جھڑپوں کے دوران کتنے افراد زخمی ہوئے یہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا۔

انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وادی کی صورتحال تیزی کے ساتھ بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم اس کے برعکس سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں بھی سڑکوں سے غائب ہیں۔ ان میں سے کچھ درجن بسوں کو سول سکریٹریٹ ملازمین اور سری نگر کے دو تین ہسپتالوں کے عملے کو لانے اور لے جانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ایس آر ٹی سی کی کوئی بھی گاڑی عام شہریوں کے لئے دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اس کے علاوہ دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد سے سٹیٹ بنک آف انڈیا کی بیشتر شاخوں پر تالا لگا ہوا ہے۔ وہ افراد جن کے ایس بی آئی کی بنک شاخوں میں کھاتے ہیں نے بتایا کہ بنک شاخوں کے مسلسل بند رہنے سے انہیں بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنک کے بیشتر اے ٹی ایم بھی بند پڑے ہیں۔

وادی بھر میں فون اور انٹرنیٹ گزشتہ زائد از تین ہفتوں سے معطل ہیں جبکہ بیشتر تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جو تعلیمی ادارے کھولے گئے ہیں ان میں طلباء کی حاضری صفر کے برابر ہے۔ اگرچہ سرکاری دفاتر کھلے ہیں تاہم ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان میں ملازمین کی حاضری بہت کم دیکھی جارہی ہے۔ لوگ بھی دفاتر کا رخ نہیں کرپاتے ہیں۔ انتظامیہ کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ وادی میں عائد پابندیوں میں نرمی لانے اور لینڈ لائن فون خدمات کی بحالی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے بیشتر حصوں میں اگلے احکامات تک دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی جاری رہے گی۔

قابل ذکر ہے کہ وادی میں کسی بھی علاحدگی پسند یا دوسری تنظیم نے ہڑتال کی کال نہیں دی ہے بلکہ جس ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے وہ غیر اعلانیہ ہے۔ انتظامیہ نے کشمیر میں سبھی علاحدگی پسند قائدین و کارکنوں کو تھانہ یا خانہ نظر بند رکھا ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کو چھوڑ کر ریاست میں انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کے لیڈران کو سرکاری رہائش گاہوں، اپنے گھروں یا سری نگر کے شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کناروں پر واقع سنٹور ہوٹل میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔

وادی میں مواصلاتی پابندی کی وجہ سے زندگی کا ہر ایک شعبہ بری طرح سے متاثر ہو کر رہ گیا ہے۔ عام لوگوں کو بالعموم جبکہ طلباء اور پیشہ ور افراد کو بالخصوص شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وادی میں ای بزنس بھی مکمل طور پر ٹھپ ہے۔ جہاں وادی میں آج کل گلیوں میں کرکٹ کھیلنا وقت گذاری کا بہترین ذریعہ بن گیا ہے وہیں پیر وجوان کی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کو دکانوں کے تھڑوں اور برلب سڑک چھوٹی پارکوں میں موجودہ حالات پر گرما گرم بحث و مباحثوں میں بھی مشغول دیکھا جارہا ہے۔

دریں اثنا وادی میں ریل خدمات جمعہ کو مسلسل 26 ویں روز بھی معطل رہی۔ ریلوے ذرائع نے بتایا کہ ریل خدمات سرکاری احکامات پر معطل رکھی گئیں اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد ہی بحال کی جائیں گی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close