اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کشمیر: مواصلاتی و ریل خدمات بدستور معطل، خطرے میں طلباء کا تعلیمی مستقبل

جموں وکشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 و دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی منسوخی اور ریاست کی دو حصوں میں تقسیم کے خلاف وادی کشمیر میں پیر کے روز مسلسل 57 ویں دن بھی ہڑتال رہی۔

گرمائی دارالحکومت سری نگر اور دیگر 9 اضلاع کے قصبہ جات و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں و تجارتی مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت معطل ہے۔ تاہم جہاں ہڑتال کے دوران سڑکوں پر چلنے والی نجی گاڑیوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے وہیں اب کچھ سڑکوں بالخصوص بارہمولہ-جموں ہائی وے پر صبح اور شام کے وقت چھوٹی مسافر گاڑیاں بھی چلتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ بارہمولہ-جموں ہائی وے کے برعکس وادی کے دیہات و قصبہ جات کو ضلع ہیڈکوارٹروں اور ضلع ہیڈکوارٹروں کو سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آواجاہی 5 اگست سے لگاتار بند ہے جس کے باعث مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ تاہم سڑکوں پر چل رہی نجی گاڑیاں مسافروں کو حسب وسعت لفٹ دیتی ہیں جس سے وہ اپنے اپنے منزلوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

اتنا ہی نہیں وادی کشمیر میں گزشتہ دو ماہ سے موبائل فون اور انڑنیٹ خدمات پر جاری پابندی سے پرائمری اسکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء تک کے مشکلات و مسائل میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ جہاں تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں معطل ہیں وہیں انتظامیہ کی طرف سے قائم این آئی سی سینٹروں میں انٹرنیٹ تسلی بخش بھی نہیں ہے اور ان میں داخل ہونے کی اجازت بھی مشکل سے ہی دی جاتی ہے۔ وادی کے طلباء گزشتہ قریب دو ماہ سے نہ صرف انٹرنیٹ کے ذریعے پڑھائی کرنے سے معذور ہیں بلکہ مخلتف اسکالرشپوں کے فارم اور ریاست و بیرن ریاست کی یونیورسٹیوں میں داخلہ فارم جمع کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

جاوید احمد نامی ایک طالب علم نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ قریب دو ماہ سے انٹرنیٹ پر عائد پابندی سے طلباء کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے اور انتظامیہ کی طرف سے قائم این آئی سی سینٹرس تسلی بخش نہیں ہیں۔انہوں نے کہا: ‘وادی میں قریب دو ماہ سے انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات پر جاری پابندی سے طلباء کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے، انتظامیہ نے اگرچہ طلباء کے لئے این آئی سی سینٹر قائم کئے ہیں لیکن ان میں بعض اہم ترین ویب سائٹس بند رکھی گئی ہیں ان میں داخل ہونے کی اجازت بھی مشکل سے ہی دی جاتی ہے ‘۔

جاوید احمد نے کہا کہ طلباء کو تعلیمی نقصان سے ہی دوچار نہیں ہونا پڑرہا ہے بلکہ بیرون ریاست یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا داخلہ فارم جمع کرنے سے معذور ہیں جس کے باعث انہیں سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔محمد حسین نامی ایک طالب علم نے کہا کہ وادی میں طلباء پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ فارم جمع کرنے سے بھی قاصر ہیں کیونکہ اس کے لئے موبائل فون اور انٹرنیٹ کا چلنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا: ‘وادی میں کمونی کیشن پر عائد پابندی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو تعلیمی نقصان سے ہی دوچار نہیں ہونا پڑرہا ہے بلکہ پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کے فارم جمع کرنے سے اسکولوں میں زیر تعلیم طلباء بھی معذور ہیں کیونکہ فارم جمع کرنے کے لئے موبائل کا چلنا ضروری ہے، فارم جمع کرنے کے دوران موبائل پر او ٹی پی آتا ہے جب موبائل بند ہے تو وہ کہاں سے آئے گا’۔

عبدالرحمان نامی ایک والد نے کہا کہ میرے بچے کو ہر سال اسکالر شپ ملتا تھا جس سے اس کی پڑھائی کا خرچہ نکلتا تھا۔انہوں نے کہا: ‘میرا بیٹا ایک پرائیویٹ اسکول میں زیر تعلیم ہے۔ ہرسال اس کو اسکالر شپ ملتا تھا جس سے اس کا تعلیم کے خرچے کی کافی حد تک بھر پائی ہوجاتی تھی لیکن امسال وہ فارم جمع کر ہی نہیں پارہا ہے جس سے میرے اوپر بوجھ بڑھ گیا ہے شاید میرے بیٹے کی تعلیم متاثر ہوسکتی ہے ‘۔ ادھر این ای ٹی اور جے آر ایف کے لئے فارم جمع کرنے والے طلباء نے کہا کہ وہ فارم جمع ہی نہیں کرپا رہے ہیں جس سے نہ صرف ہماری محنت رائیگاں ہوگی بلکہ تعلیمی مستقبل پر بھی خطرات کی تلوار لٹک رہی ہے۔انہوں نے کہا: ‘انٹرنیٹ پر عائد پابندی سے ہم نہ اچھی طرح پڑھ پا رہے ہیں اور نہ ہی اب فارم جمع کرسکتے ہیں، ہماری سال بھر کی محنت رائیگاں ہوگی اور ہمارے تعلیمی مستقبل پر بھی خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے ‘۔

دوسری طرف گزشتہ قریب دو ماہ سے پبلک ٹرانسپورٹ لگاتار بند رہنے سے اس سے جڑے افراد کو بے تحاشا مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ وادی کی سڑکوں پر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی تعداد پچاس ہزار بتائی جا رہی ہے جن کی نقل وحرکت پانچ اگست سے معطل ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ وادی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور پتھراو کے واقعات بھی کم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں کہیں بھی لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندیاں عائد نہیں ہیں تاہم احتیاط کے طور پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری کو تعینات رکھا گیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی بالخصوص سری نگر میں پیر کے روز مختلف علاقوں میں احتجاجی نوجوانوں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ جھڑپوں کے دوران کتنے افراد زخمی ہوئے یہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا۔سیکورٹی فورسز نے وادی کے یمین ویسار میں اپنے بنکر بنانے کا سلسلہ مزید تیز کردیا ہے۔ وادی میں گزشتہ دو ماہ کے دوران سینکڑوں جگہوں پر سیکورٹی فورسز کے نئے بنکر قائم کئے گئے ہیں۔ مقامی لوگوں نے نئے بنکروں کی تعمیر پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف حکومت حالات میں بہتری کا دعویٰ کرتی ہے جبکہ دوسری طرف نئے بنکروں کی تعمیر کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نئے بنکروں کی تعمیر سے مقامی لوگوں کے لئے نئے خطرات پیدا ہوئے ہیں۔ وادی میں گرچہ دکانیں و تجارتی مراکز دن کے وقت مکمل طور پر بند رہتے ہیں تاہم کچھ بازاروں میں صبح اور شام کے وقت رونق دیکھی جارہی ہے۔ گرمائی دارالحکومت سری نگر کے کچھ حصوں میں اب نماز فجر کی ادائیگی کے بعد دکانیں کھل جاتی ہیں اور لوگ بھی ان دکانوں کا رخ کرکے خریداری کرتے ہیں تاہم نو بجتے ہی دکانیں فوراً بند ہوجاتی ہیں اور بازاروں میں ایک بار پھر اگلے فجر تک ہوکا عالم چھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس وادی کے دیگر اضلاع میں دکانیں شام کے وقت ایک یا دو گھنٹے تک کھلی رہتی ہیں۔ اسی طرح سری نگر میں قائم سبزی منڈیوں میں فجر ہوتے ہی لوگوں کی اس قدر بھیڑ لگ جاتی ہے کہ صرف ایک یا دو گھنٹے کے اندر ہی ساری سبزی بک جاتی ہے۔ وادی میں موبائل فون و انٹرنیٹ خدمات پر جاری پابندی پیر کو 57 ویں دن میں داخل ہوگئی۔

مواصلاتی خدمات پر پابندی کی وجہ سے اہلیان کشمیر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پیشہ ور افراد کا کام اور طلباء کی پڑھائی بری طرح سے متاثر ہے۔ طلباء اور روزگار کی تلاش میں برسر جدوجہد نوجوان آن لائن فارم جمع نہیں کرپا رہے ہیں۔ وادی میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز پر پابندی کے بعد لینڈ لائن سروس ہی رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔ لینڈ لائن سروس چونکہ وادی کے شہر و قصبہ جات تک ہی محدود ہے لہٰذا دور افتادہ دیہات کے لوگوں کو اپنوں کے ساتھ رابطہ کرنے کے لئے شہر یا نزدیکی قصبوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جو ہڑتال کے چلتے دشوار گزار کام ہے۔وادی میں جموں خطہ کے بانہال اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل خدمات بھی 5 اگست سے لگاتار معطل ہیں۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ سروسز مقامی پولیس و سول انتظامیہ کی ہدایت پر معطل رکھی گئی ہے اور مقامی انتظامیہ سے گرین سگنل ملتے ہی بحال کی جائیں گی۔ ان کے مطابق ریلوے کو روزانہ کم از کم دو لاکھ روپے کا نقصان ہوتا ہے۔وادی بھر میں تعلیمی ادارے گزشتہ زائد از ڈیڑھ ماہ سے بند پڑے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جو تعلیمی ادارے کھولے گئے ہیں ان میں طلباء کی حاضری صفر کے برابر ہے۔ اگرچہ سرکاری دفاتر کھلے ہیں تاہم ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان میں ملازمین کی حاضری بہت کم دیکھی جارہی ہے۔ لوگ بھی دفاتر کا رخ نہیں کرپاتے ہیں۔ سیاحتی سرگرمیاں 5 اگست سے مکمل طور پر ٹھپ ہیں۔ وادی کی تمام سیاحتی مقامات پر واقع ہوٹل بند یا خالی ہیں اور سری نگر میں سبھی ہاؤس بوٹ خالی ہیں۔ وہ افراد جن کی روزی روٹی سیاحتی شعبے پر منحصر ہے کو شدید مالی دشواریوں کا سامنا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کی تمام مشہور سیاحتی مقامات بشمول گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ، یوسمرگ اور دودھ پتھری میں سیاحتی سرگرمیاں 5 اگست سے مکمل طور پر معطل ہیں۔ ان سیاحتی مقامات پر واقع سبھی ہوٹل اور دکانیں بند ہیں جبکہ ہوٹلوں میں کام کرنے والے ملازمین کی چھٹی کردی گئی ہے۔انتظامیہ نے بی جے پی کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو نظر بند رکھا ہے۔ نیشنل کانفرنس صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ انہیں اپنے ہی گھر میں بند رکھا گیا ہے۔ علاحدگی پسند لیڈران بھی خانہ یا تھانہ نظر بند ہیں۔

میڈیا کے ایک نامہ نگار جس نے پیر کی صبح پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا کے مطابق پائین شہر میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر کوئی پابندیاں عائد نہیں ہیں تاہم لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے اور پتھراؤ کرنے والے نوجوانوں سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات رکھی گئی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق جامع مسجد کو بدستور مقفل رکھا گیا ہے اور کسی کو بھی اس کے دروازوں کے سامنے ٹھہرنے یا گاڑی کھڑا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پائین شہر میں تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے بیشتر سڑکیں سنسان نظر آرہی ہیں۔

بتادیں کہ وادی کشمیر میں پانچ اگست سے موبائل اور انٹرنیٹ پر لگاتار پابندی عائد ہے جس سے زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں کو گوناں گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

کشمیر میں مواصلاتی پابندی کا 57 واں دن، طلباء سخت پریشان
سری نگر، 30 ستمبر (یو این آئی) وادی کشمیر میں گزشتہ دو ماہ سے موبائل فون اور انڑنیٹ خدمات پر جاری پابندی سے پرائمری اسکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء تک کے مشکلات و مسائل میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ جہاں تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں معطل ہیں وہیں انتظامیہ کی طرف سے قائم این آئی سی سینٹروں میں انٹرنیٹ تسلی بخش بھی نہیں ہے اور ان میں داخل ہونے کی اجازت بھی مشکل سے ہی دی جاتی ہے۔وادی کے طلباء گزشتہ قریب دو ماہ سے نہ صرف انٹرنیٹ کے ذریعے پڑھائی کرنے سے معذور ہیں بلکہ مخلتف اسکالرشپوں کے فارم اور ریاست و بیرن ریاست کی یونیورسٹیوں میں داخلہ فارم جمع کرنے سے بھی قاصر ہیں۔جاوید احمد نامی ایک طالب علم نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ قریب دو ماہ سے انٹرنیٹ پر عائد پابندی سے طلباء کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے اور انتظامیہ کی طرف سے قائم این آئی سی سینٹرس تسلی بخش نہیں ہیں۔انہوں نے کہا: ‘وادی میں قریب دو ماہ سے انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات پر جاری پابندی سے طلباء کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے، انتظامیہ نے اگرچہ طلباء کے لئے این آئی سی سینٹر قائم کئے ہیں لیکن ان میں بعض اہم ترین ویب سائٹس بند رکھی گئی ہیں ان میں داخل ہونے کی اجازت بھی مشکل سے ہی دی جاتی ہے ‘۔جاوید احمد نے کہا کہ طلباء کو تعلیمی نقصان سے ہی دوچار نہیں ہونا پڑرہا ہے بلکہ بیرون ریاست یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا داخلہ فارم جمع کرنے سے معذور ہیں جس کے باعث انہیں سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔محمد حسین نامی ایک طالب علم نے کہا کہ وادی میں طلباء پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ فارم جمع کرنے سے بھی قاصر ہیں کیونکہ اس کے لئے موبائل فون اور انٹرنیٹ کا چلنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا: ‘وادی میں کمونی کیشن پر عائد پابندی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو تعلیمی نقصان سے ہی دوچار نہیں ہونا پڑرہا ہے بلکہ پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کے فارم جمع کرنے سے اسکولوں میں زیر تعلیم طلباء بھی معذور ہیں کیونکہ فارم جمع کرنے کے لئے موبائل کا چلنا ضروری ہے، فارم جمع کرنے کے دوران موبائل پر او ٹی پی آتا ہے جب موبائل بند ہے تو وہ کہاں سے آئے گا’۔عبدالرحمان نامی ایک والد نے کہا کہ میرے بچے کو ہر سال اسکالر شپ ملتا تھا جس سے اس کی پڑھائی کا خرچہ نکلتا تھا۔انہوں نے کہا: ‘میرا بیٹا ایک پرائیویٹ اسکول میں زیر تعلیم ہے۔ ہرسال اس کو اسکالر شپ ملتا تھا جس سے اس کا تعلیم کے خرچے کی کافی حد تک بھر پائی ہوجاتی تھی لیکن امسال وہ فارم جمع کر ہی نہیں پارہا ہے جس سے میرے اوپر بوجھ بڑھ گیا ہے شاید میرے بیٹے کی تعلیم متاثر ہوسکتی ہے ‘۔ادھر این ای ٹی اور جے آر ایف کے لئے فارم جمع کرنے والے طلباء نے کہا کہ وہ فارم جمع ہی نہیں کرپا رہے ہیں جس سے نہ صرف ہماری محنت رائیگاں ہوگی بلکہ تعلیمی مستقبل پر بھی خطرات کی تلوار لٹک رہی ہے۔انہوں نے کہا: ‘انٹرنیٹ پر عائد پابندی سے ہم نہ اچھی طرح پڑھ پا رہے ہیں اور نہ ہی اب فارم جمع کرسکتے ہیں، ہماری سال بھر کی محنت رائیگاں ہوگی اور ہمارے تعلیمی مستقبل پر بھی خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے ‘۔بتادیں کہ وادی کشمیر میں پانچ اگست سے موبائل اور انٹرنیٹ پر لگاتار پابندی عائد ہے جس سے زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں کو گوناں گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close