آئینۂ عالمتازہ ترین خبریں

کشمیر معاملہ: ہندوستان سے اقوام عالم کے اتفاق پر بوکھلاہٹ میں پاکستانی

ایک ایسے وقت میں جب ہندوستان میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے رواں برس کے اجلاس میں حکومت ہند پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو مدعو کرنے جا رہی ہے۔ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اقدام سے بوکھلائے پاکستان نے ہند پاک باہمی تعلقات کی سطح اور نیچے لاتے ہوئے کشمیر کے رُخ پر ہندوستان اور اقوام عالم کو بہ انداز دیگر کوسنا شروع کر دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہندوستان جہاں ایک بڑی منڈی ہے، وہیں بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لئے اُن کے تجارتی مفادات زیادہ اہم ہیں۔ ہندوستان میں مرکز کے زیر انتظام خطے جموں وکشمیر کی صورتحال کی پاکستانی سوچ سے مسٹر خان نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے حالات کا اس وقت اپنے طور پر موازنہ کیا جب جرمن نشریاتی ادارے ‘ڈوئچے ویلے’ کو انٹرویو میں اُن سے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات پر سوالات کئے گئے۔

پاکستانی وزیر اعظم نے اقوام عالم پر مسئلہ کشمیر کے تعلق سے بھر پور آواز نہ اٹھانے کا الزام لگایا اور از خود یہ نتیجہ بھی اخذ کر لیا کہ بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لئے اُن کے تجارتی مفادات جہاں زیادہ اہم ہیں، وہیں ہندوستان ایک بڑی منڈی ہے۔ کشمیر کو ہند پاک باہمی معاملہ قرار دینے کے عالمی موقف کو بھی انہوں نے کشمیر کے تعلق سے اقوام عالم کے رویے کی سرد مہری پر محمول کیا۔ انٹرویو میں اُن کے اِس استدلال پر کہ ہندوستان میں ترمیم شدہ شہریت ایکٹ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ہے! جب ڈوئچے ویلے کے نمائندے نے مسٹر خان کی توجہ چین کے ایغور مسلمانوں کے ساتھ چین کے سلوک کی طرف مبذول کرائی اور کہا کہ آپ کشمیر اور ہندوستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تو بہت تنقید کرتے ہیں، لیکن جب چین اور ایغور مسلمانوں کی بات ہوتی ہے، تو آپ اتنے بلند آواز نہیں ہوتے۔ ایسا کیوں ہے؟ تو انہوں نے بلا جھجک کہا کہ“پہلی بات تویہ ہے کہ جو کچھ ہندوستان میں ہو رہا ہے، اس کا موازنہ چین کے ایغور باشندوں سے نہیں کیا جا سکتا، دوسری بات یہ کہ چین ہمیشہ ہی ہمارا بہت قریبی دوست رہا ہے۔ہم چین کے ساتھ مختلف امور پر نجی سطح پر تو بات کرتے ہیں لیکن عوامی سطح پر نہیں، کیونکہ یہ حساس معاملات ہیں”۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close