آئینۂ عالمتازہ ترین خبریں

کشمیر: مسلسل 38 ویں روز بھی معمولات زندگی درہم برہم

جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے پانچ اگست کے مرکزی حکومت کے فیصلے کی مخالفت میں وادی کشمیر مسلسل 38 ویں روز بدھ کو بھی بند رہی اور معمولات کی زندگی بری طرح متاثر رہی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق وادی میں فی الحال کسی بھی مقام پر کرفیو نافذ نہیں ہے لیکن دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ لوگوں کے ایک مقام پر جمع ہونے پر پابندی لاگو ہے ۔ ایسا امن وامان برقرار رکھنے کے لئے احتیاطاََ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے حالات کو پوری طرح پر امن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رات کے دوران کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ اور امن وقانون کی خلاف ورزی کی اطلاع نہیں ہے۔

وادی میں بھارت سنچار نگم لمیٹڈ اور دیگر کمپنیوں کی انٹرنیٹ خدمات پانچ اگست سے معطل ہے لیکن گزشتہ جمعہ سے تمام ٹیلی فون ایکسچینج سے لینڈ لائن خدمات شروع کر دی گئی۔ وادی کشمیر میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے اور سڑکوں سے گاڑیاں بھی ندارد رہی ۔ کسی بھی طرح کے مظاہرے کو روکنے کے لئے یہاں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورس تعینات ہے ۔

دریں اثنا شمالی کشمیر کے بارہ مولہ سے جموں کے بانہال کے درمیان مسلسل 38 ویں روز بھی ٹرین خدمات معطل رہیں۔ حریت کانفرنس (ایچ سی) کے اعتدال پسند دھڑے کے چیئرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق کے گڑھ مانے جانے والی تاریخی جامعہ مسجد کے تمام گیٹ پانچ اگست سے ہی بند ہیں۔ اس مسجد میں آخری مرتبہ نماز چار اگست کو ادا کی گئی تھی۔ جامعہ بازار اور گردونوح کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کافی پہلے کر دی گئی تھی۔ سری نگر سمیت مختلف علاقوں میں بھی تمام کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور ٹھپ ہیں اور ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں بھی سڑک پر نہیں ہیں لیکن نئے شہر، سیول لائنس اور بیرونی علاقوں میں سڑكوں پر پرائیوٹ گاڑیاں چلتی نظر آئیں۔

کسی بھی طرح کے ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لئے سیول لائنس، تاریخی لال چوک میں سکیورٹی اہلکار بلٹ پروف جیکٹ میں ملبوس تعینات ہیں۔سرکاری دفاتر اور بینکوں میں کام کاج بھی متاثر رہا۔ اننت ناگ، کولگام، پلوامہ، شوپیاں، کپواڑہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، پٹن، سوپور اور هندواڑہ سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں مسلسل 38 ویں روز بدھ کو بھی دکانیں اور تجارتی ادارے بند رہے۔ اسی طرح کی رپورٹیں وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام سے بھی موصول ہوئی ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close