اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کشمیر مسئلے پر مودی نے ٹرمپ سے نہیں کی ثالثی کی بات

امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کے کشمیر مسئلے پر ثالثی کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کی مبینہ درخوات سے متعلق بیان پر لوک سبھا میں اپوزیشن کے شدید ہنگامے اور واک آؤٹ کے درمیان حکومت نے منگل کو وضاحت پیش کی کہ مسٹر مودی نے صدر ٹرمپ سے اس طرح کی کبھی کوئی درخواست نہیں کی۔وقفہ صفر میں کانگریس کے رہنما منیش تیواری نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے جوبیان دیا ہے اس میں اگر سچائی ہے تو یہ ملک کی اتحاد وسالمیت پر شدید حملہ ہے۔ اپوزیشن اراکین نے بھی ان کی بات کی حمایت کی۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر ہنگامے کے درمیان اس معاملے پر بیان دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ اس معاملے پر وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں آکر بیان دینا چاہیے۔ شوروغل کے درمیان وزیر خارجہ بیان دینے لگے تو کانگریس،ترنمول کانگریس، ڈی ایم کے، بہوجن سماج پارٹی، سماجوادی پارٹی، لیفٹ پارٹیوں سمیت تمام اپوزیشن رہنماپارلیمنٹ سے واک آوٹ کر گئے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پیر کی شام کو وزارت خارجہ کو امریکی صدارت ٹرمپ کے اس بیان کا پتہ چلا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان درخواست کریں تو امریکہ کشمیر مسئلے پر ثالثی کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم نے کبھی بھی اور کہیں بھی اس طرح کی درخواست نہیں کی ہے۔ ہندوستان کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ زیر التواء تمام مسائل کا حل دو طرفہ کی سطح پر ہی ہوگا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی بھی بات چیت اسی وقت ہوسکتی ہے جب وہ سرحد پار دہشت گردی کو ختم کردے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تمام مسائل دوطرفہ کی سطح پر حل کی بنیاد شملہ معاہدہ اور لاہور منشور ہے۔ اس سے قبل انہوں نے راجیہ سبھا میں بھی اس مسئلے پر بیان دیا تھا۔اسپیکر اوم برلا نے وقفہ صفر میں اپوزیشن کو یہ مسئلہ اٹھانے کی اجازت دی تو مسٹر تیواری نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ کے بیان کے مطابق مسٹر مودی نے دو ہفتے قبل ان سے اوساکا میں جی۔20 اجلاس کے دوران کہا کہ کشمیر میں ہر جگہ بم ہی بم پھٹتے ہیں اور وہ اس مسئلے پر ثالثی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی صدر غلط بیانی کر رہے ہیں تو وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں آکر وضاحتی بیان دینا چاہیے کہ انہوں نے مسٹر ٹرمپ سے اس طرح کی کوئی بات نہیں کی ہے ۔ انھیں ملک کے عوام کے سامنےصورتحال واضح کرنی چاہیے۔

ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے کہا کہ یہ بے حد حساس مسئلہ ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہےکہ اوساکا میں ہندوستان کے وزیراعظم نے ان سےکہا کہ وہ کشمیر مسئلے پر ثالثی کریں۔ مسٹر رائے نے کہا کہ کشمیر دوطرفہ مسئلہ ہے اور تیسرے فریق کو اس میں قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔اگر مسٹر مودی نے کشمیر کے سلسلے میں بیان دیا ہے تو انہوں نے اس مسئلے پر ہندوستان کے بنیادی موقف کی خلاف ورزی کی ہے ۔ اس مسئلے پر انھیں پارلیمنٹ میں آکر بیان دینا چاہیے۔ڈی ایم کے کے ٹی ایس بالو اس مسئلے پر کچھ کہا لیکن ان کی بات سننے میں نہیں آئی۔ اراکین پارلیمنٹ کا ان کی مائیک آن کرنے کی درخواست پر اسپیکر نے کہا کہ تمام رکن بول رہے ہیں اس لیے وہ کسی ایک کا مائک کیسے آن کر سکتے ہیں۔ اس پر دیگر رکن خاموش ہوئے تو مسٹر بالو کی مائک آن ہو ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قومی مفاد کا مسئلہ ہے۔ کشمیر مسئلے پر ہندوستان نے کبھی ثالثی کے لیے تیسرے فریق کی حمایت نہیں کی ہے۔ وزیر اعظم کو اس تعلق سے ایوان میں آکر بیان دینا چاہیے۔

اس سے قبل کاروائی شروع ہوتے ہی پارلیمنٹ میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے امریکی صدر کے سامنے ہندوستان کا سر جھکا دیا ہے۔ یہ ہم سب کے لیے شرمندگی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا سر دنیا میں کبھی نہیں جھک سکتا۔ اس پر مسٹر مودی کو پارلیمنٹ میں آکر بیان دینا چاہیے۔ترنمول کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے بھی یہی مسئلہ اٹھانا چاہا لیکن اسپیکر نے ان سے کہا کہ وہ وقفہ سوال کے ایوان میں یہ مسئلہ اٹھانے دیں گے۔ پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے بھی کہا کہ اپوزیشن رہنما وقفہ سوال کے بعد یہ مسئلہ اٹھا سکتے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close