اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کشمیر: محکمہ بجلی نے 4 ماہ کی بجلی بلیں بھیجی ایک ساتھ، صارفین پریشان

وادی کشمیر میں ٹھٹھرتی سردی کے بیچ بجلی کے بے ہنگم شیڈول نے جہاں لوگوں کا جینا دو بھر کردیا ہے وہیں صارفین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کی بجلی بلیں ایک ساتھ ارسال کی گئیں جس کی خطیر رقم کو ادا کرنا موجودہ حالات میں جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمہ سری نگر اور وادی کے دیگر اضلاع کے لئے عنقریب بجلی شیڈول مرتب کرکے جاری کرے گا۔

وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صارفین کے ایک گروپ نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں ٹھٹھرتی سردی کے بیچ بجلی کے بے ہنگم شیڈول نے ہمارا جینا دوبھر کردیا ہے۔ انہوں نے کہا: ‘وادی میں ٹھٹھرتی سردی کے بیچ بجلی کے بے ہنگم شیڈول نے ہمارا جینا دوبھر کردیا ہے، بچوں کے امتحانات ہورہے ہیں لیکن بجلی کی عدم دستیابی سے وہ اچھی طرح تیاریاں نہیں کرپارہے ہیں’۔

کاکہ سرائے سے تعلق رکھنے والے محمد ابراہیم نامی ایک صارف نے کہا کہ محکمہ نے مجھے ایک مکان جو تین ماہ سے بند ہے، کی بجلی بل مبلغ 20 ہزار روپے ارسال کی ہے۔انہوں نے کہا: ‘تین ماہ قبل میں دوسرے مکان میں منتقل ہوا لیکن محکمہ بجلی نے مجھے پُرانے مکان جو گزشتہ تین ماہ سے بند ہے، کی بجلی بل مبلغ 20 ہزار روپے ارسال کی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مکان میں تین ماہ کے دوران ایک پل کے لئے بھی بجلی استعمال نہیں کی گئی’۔

انہوں نے کہا کہ بجلی جب استعمال ہی نہیں کی گئی تو بجلی بل کا آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ فدا حیسن نامی ایک صارف نے کہا کہ میرے نام تین ماہ کی بجلی بل قریب پانچ ہزار روپے آئی ہے جس کا بہ یک مشت ادا کرنا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ‘محکمہ نے مجھے تین ماہ کی بجلی بل بہ یک وقت ارسال کی ہے جس کی کل رقم قریب پانچ ہزار روپے بنتی ہے جس کا موجودہ حالات میں بہ یک مشت ادا کرنا میرے لئے انتہائی مشکل امر ہے’۔

صارفین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں جب لوگوں کے لئے اشیائے خورد نوش کی دستیابی مشکل امر بن رہی ہے تو خطیر بجلی بلوں کی ادائیگی ہمارے لئے کارے دارد والا معاملہ بن گیا ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ حالیہ بھاری برف کے بعد خاص طور پر بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگ تنگ آگئے ہیں۔

انہوں نے کہا: ‘بجلی کا غیر اعلانیہ شیڈول صارفین کے لئے روح فرسا ثابت ہورہا ہے، شام کے وقت بجلی کی عدم موجودگی سے گنجان بستیاں بھی ویرانوں کے منظر پیش کررہے ہیں اور گھپ اندھیرا قائم رہنے سے بچے باہر جانے میں خوف و ہراس محسوس کرتے ہیں’۔ محمد علی نامی ایک شہری نے کہا کہ شام کے وقت بجلی کی عدم دستیابی سے عمر رسیدہ نماز عشا کی ادائیگی کے لئے مسجدوں میں نہیں جاپا رہے ہیں کیونکہ سڑکوں اور گلی کوچوں میں تاریکی چھائی ہوتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سابق گورنر ستیہ پال ملک نے وعدہ کیا تھا کہ جموں اور سری نگر میں موسم سرما کے دوران بھی بلا خلل بجلی فراہم کی جائے گی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close