بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

کسانوں کے نہیں، صنعت کاروں کے قرض معاف کرتی ہے مودی حکومت: راہل گاندھی

کانگریس کے سابق صدر نے جھارکھنڈ کے سمڈیگا میں بھوشن باڑا کے حق میں کی ریلی........کہا۔ قبائلی مفادات کے ساتھ ہی پانی، جنگل اور زمین کی حفاظت کرے گی کانگریس

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے چھتیس گڑھ کی دہائی دے کر جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات میں ووٹ مانگا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں امبانی-اڈانی کی حکومت چل رہی ہے۔ اگر جھارکھنڈ میں کانگریس اتحاد کی حکومت بنے گی تو چھتیس گڑھ کی طرح یہاں کے کسانوں کا قرض بھی معاف کیا جائے گا۔ قبائلی مفادات کی حفاظت کی جائے گی۔ صنعت کاروں سے زمین چھین کر قبائلیوں کو دیں گے۔ جھارکھنڈ میں پانی، جنگل، زمین، دولت کی حفاظت کے لئے قانون بنائیں گے۔ بیروزگاری ختم کرنے کے لئے بھی کانگریس اتحاد کی حکومت کام کرے گی۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ کانگریس کی حکومت آئے گی، تو جو آپ کو ڈرایا-دھمکایا جاتا ہے، وہ ہم نہیں ہونے دیں گے۔

پیر کے روز راہل گاندھی سمڈیگا میں کانگریس پارٹی کے امیدوار بھوشن باڑا اور کولیبرا سے کانگریس کے نمن وکسل کونگاڑی کے حق میں منعقدہ جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ جھارکھنڈ میں مہاگٹھ بندھن کی حکومت بنانے کا اعلان کرتے ہوئے راہل نے کہاکہ کانگریس محبت بانٹتی ہے لیکن بی جے پی تشدد کو فروغ دیتی ہے۔ جھارکھنڈ میں کسانوں اور غریبوں کی ہی حکومت بنے گی۔ میں آپ کو اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ آپکی یہاں حفاظت ہوگی۔ جہاں بھی بی جے پی کی حکومت بنتی ہے، وہاں لوگوں کو دبایا جاتا ہے، کچلا جاتا ہے۔ بی جے پی حکومت مذہب، نظریے، ثقافت کے نام پر لوگوں کو کچلنے کا کام کر رہی ہے۔ یہ مختلف نظریات رکھنے والوں کا ملک ہے۔ ہم تشدد نہیں محبت سے کام کرتے ہیں۔ ملک میں مختلف مذاہب ہیں، مختلف ذات ہیں لیکن کانگریس سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ چھتیس گڑھ کی حکومت آپ کے سامنے ایک مثال ہے۔ کانگریس کی حکومت نے جو کام چھتیس گڑھ میں کیا، وہی کام کانگریس کی مہاگٹھ بندھن کی حکومت جھارکھنڈ میں کرے گی۔

راہل گاندھی نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ رگھوور داس ہر تقریر میں روزگار کی بات کرتے ہیں۔ میک ان انڈیا کی بات کرتے ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جھارکھنڈ کے کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا۔ آپ کو ایک بھی شخص ایسا نہیں ملے گا، جسے روزگار ملا ہو۔ مودی نے کہا تھا کہ کالے دھن کے خلاف جنگ لڑنی ہے۔ نوٹ بندی کر دی گئی۔ اس وقت ایک بھی صنعت کارلائن میں نہیں کھڑا تھا۔ کسان، بے روزگاروں کو مودی نے لائن میں کھڑا کر دیا۔ آپ کی جیب سے پیسے نکال لئے گئے۔ ان پیسوں کو مودی نے ہندوستان کے بڑے صنعت کاروں کو دے دیا۔ تین لاکھ 50 ہزار کروڑ روپے 15-20 بڑے صنعت کاروں کے معاف کئے گئے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا فائدہ صرف ہندوستان کے 15-20 بڑے صنعت کاروں کو ملا ہے۔ ایسی حکومت ہمیں نہیں چاہئے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close